• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت


فوٹو: رائٹرز
فوٹو: رائٹرز 

وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہید ایرانی سپریم لیڈر  آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے تہران میں تعزیتی اجتماع میں شرکت کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تعزیت کی اور شہید آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی۔

فیلڈ مارشل کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات ہوئی، فیلڈ مارشل نے شہید آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی ایران کیلئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

شہباز شریف نے شہید ایرانی سپریم لیڈر کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید سپریم لیڈر نے کئی دہائیوں بصیرت، حکمت اور دور اندیشی سے ایرانی قوم کی رہنمائی کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے اعلیٰ سطح وفد کی قیادت کی، وفد میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی شامل ہیں، وزیراطلاعات عطاء تارڑ، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وفد میں شامل ہیں۔

ارکانِ پارلیمان اور وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی وزیراعظم کے ہمراہ تعزیتی اجتماع میں شرکت کی، یوسف رضا گیلانی اور ایاز صادق کی قیادت میں پارلیمانی وفد نے بھی شرکت کی۔

بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد  ترکیے کے دورے پر روانہ ہوگئے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وطن واپسی کے لیے روانہ ہوگئے۔

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور اعلیٰ سول و ملٹری حکام نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو الوداع کہا۔

شہید رہبرِ انقلاب کے جنازے سے متعلق قومی کمیٹی کے سیکریٹری علی اکبرپور جمشیدیان کا کہنا تھا کہ آج مختلف ممالک کے سربراہان اور عہدے داران شہید آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل صبح 6 بجے عید گاہ امام خمینی کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے جائيں گے، 5 جولائی کو نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور 6 جولائی کو تہران میں جلوسِ جنازہ میں اندرون اور بیرونِ ملک سے لوگ شریک ہوں گے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای دیگر کے ساتھ شہید ہوگئے تھے، جس کے بعد ایران نے ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنا رہبر منتخب کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور نواسی بھی شہید ہوئے، رہبر معظم انقلاب اسلامی کو ان کے دفتر میں شہید کیا گیا۔ وہ اپنے تفویض کردہ فرائض سر انجام دے رہے تھے اور شہادت کے وقت اپنے دفتر میں تھے۔

قومی خبریں سے مزید