مرتّب: طلعت عمران
آپ کو صفحہ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ کے لیے’’عالمی یومِ والد‘‘ کے حوالے سے پیغامات بھیجنے کا سندیسہ دیا گیا، تو باپ جیسی عظیم، عالی مرتبت ہستی سے محبّت و عقیدت پر مبنی اور شفقتِ پدری سے معمور کئی ناقابلِ فراموش لمحات کی یادوں سے لب ریز پیغامات کی گویا قطار سی لگ گئی۔ ذیل میں آپ کے قابلِ قدر جذبات و احساسات سے مزیّن اِن ہی سندیسوں کی دوسری اور آخری اشاعت پیشِ خدمت ہے۔
(والد مرحوم کے نام)
میرے والد، عبدالجبّارعلوی گرچہ آج اس دُنیا میں نہیں، لیکن اُن کی یادوں کی خُوش بُو پورے گھر کو معطّر کیے ہوئے ہے۔ میری، شاہدہ، شارق اورعروج کی دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند کرے اور اُنہیں جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (شاہدہ نثار کی طرف سے)
(شفیق پِدر کے لیے)
اکثر ایک باپ کی محبّت اُس کے الفاظ میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ وہ اُس کی ذمّےداریوں کی ادائی، قربانیوں اور خاموش دُعاؤں سے جھلکتی ہے۔ ہر سال یہ ’’فادرزڈے‘‘ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنے والد کی محبّت، محنت اور رہنمائی کا کُھلے دِل سے اعتراف کرنا چاہیے۔ الله تعالیٰ میرے والد کو صحتِ کاملہ اور عُمرِ درازعطا فرمائے، اُنہیں ہر قسم کی آفات سے محفوظ رکھے اور اُن کا گھنیرا سایہ ہمارے سَروں پر تادیر قائم رہے۔ (عبدالواجد، چک نمبر 146 /9 ایل، چیچہ وطنی کا پیغام)
(والدِ محترم کے لیے)
’’فادرزڈے‘‘ پر میری اللہ تعالیٰ سے دِل کی گہرائیوں سے دُعا ہے کہ وہ میرے والدِ محترم کو سلامت تا قیامت رکھے۔ میرے عظیم والد صُبح سے لے کر شام تک ہمارے لیے اَن تھک محنت کرتے ہیں۔ بلاشبہ، بَھری دنیا میں، میرے بابا جان ہی وہ ہستی ہیں، جو ہمیں زندگی گزارنے کا سلیقہ و ہُنر اور اونچی اُڑان بَھرنا سکھاتے ہیں۔ (عبدالماجد، ڈھوک مستقیم، پشاور روڈ، راول پنڈی کینٹ سے)
(والدِ محترم کے نام)
پیارے پاپا! آپ ہماری کام یابی کا زینہ ہیں۔ آپ کی محنت، دیانت داری اوربے لوث محبّت ہی ہماری اصل پہچان ہے۔ آپ کی اَن تھک محنت، لازوال قربانیوں کا کوئی مول ہی نہیں۔ آپ نےاپنی خواہشیں قربان کرکے ہمارے خواب پورے کیے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ آپ کوصحت وتن دُرستی کی حامل طویل زندگی عطا فرمائے اور آپ کا سایہ ہمارے سَروں پر قائم و دائم رہے۔ (طوبیٰ، بشریٰ اور دُعا کاکوٹ غلام محمّد سے سندیسہ)
(شفیق و مہربان والد، کامران احمد خان کے نام)
ہم’’ عالمی یومِ والد‘‘ کے حوالے سے اپنے والدِ محترم کو دِل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ اُن کی دُعائیں اور ساتھ ہمارے لیے اِس دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں صحت وعافیت کی حامل طویل عُمرعطا فرمائے۔ ( ایمان کامران اور عبدالرحمٰن خان، مُرشد ٹاؤن، کھنہ کاک، راول پنڈی کا سندیسہ)
(مرحوم والدین کے لیے )
ماں باپ ایسی عظیم ہستیاں ہیں کہ جنہیں بُھلانا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نرمی اور عزّت و احترام کے ساتھ پیش آنے کا درس دیا ہے اور اُن کی خدمت اور دیکھ بھال ہمارا پہلا فریضہ ہونا چاہیے۔
مَیں بوڑھا ہونے کے باوجود روزانہ اپنے والدین کی قبور پر حاضری دیتا ہوں اور گھنٹوں بیٹھ کر روتا رہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرے والدین کی قبر پر ہمیشہ اپنی رحمتوں کی بارش برسائے۔ (سیّد شاہ عالم زمّرد، راول پنڈی کا پیغام)
(والد مرحوم کی خدمت میں)
ہمارے والد مرحوم ایک انتہائی سچّے، کھرے انسان تھے بلکہ یوں کہیے کہ صداقت و سادگی کو مرقّع تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹے رہتے۔ 2022ء میں ہمیں داغِ مفارقت دے گئے۔ یوں تو ہم ہر ہر لمحہ، لیکن خصوصاً ’’عالمی یومِ والد‘‘ پر اُنھیں بہت زیادہ مِس کرتے ہیں۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی کامل مغفرت فرمائے، اُن کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام پر فائز کرے۔ (شازیہ بٹ اور گوشی، مغل پورہ، لاہور کی طرف سے)
(مرحوم والد کو خراجِ عقیدت)
ہمارے پاپا نے ہماری پرورش بڑے ہی لاڈ پیار سے کی۔ اُنہوں نے ہم پر کبھی سختی کی، ڈانٹا اور نہ کبھی ہم پر ہاتھ اُٹھایا۔ وہ فروری 2026ء میں اس دارِفانی سے دارِبقا میں جا بسے۔ پاپا کے اس دُنیا سے جانے کے بعد ہمیں گھر بہت سُونا سُونا لگتا ہے اور دل آج بھی بہت رنجیدہ، اداس ہے۔ پاپا کے بغیر ہماری عیدیں بالکل بےرونق اور پھیکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے پاپا کو غریقِ رحمت کرے اور جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (دُخترانِ طاہر مجید، ملتان کی جانب سے)
(والد مرحوم کے نام)
اپنی اولاد پر جان نچھاور کرنے والے،عجزوانکساری کے پیکر ہمارے والدِ محترم 2009ء میں اللہ کو پیارے ہوئے۔ فادرز ڈے کے موقعے پرمحبّتوں، چاہتوں اور عقیدتوں کےتمام سندر پیغامات والد مرحوم کے نام۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں جنّت الفردوس میں بلند درجات عطا فرمائے۔ (رضوانہ، عرفان، عمران اور بلو، گوجرانوالہ کی طرف سے)
والدِ محترم سیّد سردار حسین نقوی(مرحوم و مغفور) کی نذر
؎ مَیں آپ کے وجود کا حصّہ ہُوں اِس لیے..... خوشبوئے فکر آپ کی میرا مزاج ہے..... کل آپ دیکھتے تھے، جسے اپنی آنکھ سے..... آنکھوں میں میری زندہ وہی خواب آج ہے۔ (بلندیِ درجات کی دُعاؤں کے ساتھ سیّد ذوالفقار حسین نقوی، نیو رضویہ سوسائٹی، کراچی سے)
(والد مرحوم کے نام)
اپنی تھکن، پریشانی اور خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر جو شخص اولاد کی مسکراہٹ کے لیے جیتا ہے، وہ باپ ہے۔ باپ کی محبّت کا شور نہیں ہوتا، مگر اُس کی قربانیوں کی گونج پوری زندگی سنائی دیتی رہتی ہے۔ اللہ پاک میرے والد کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔ (شہلا الیاس، کراچی کی جانب سے)
(پیارے والد کے نام)
والدایک ایسا سائبان ہے، جو ہردَم اپنی اولاد کو زمانے کے سرد و گرم سے بچانے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے۔ اس کی زندگی کا ہر لمحہ اولاد کے بہتر مستقبل، خوشیوں اور کام یابیوں کے لیے وقف ہوتا ہے اور فادرز ڈے ہمیں اپنے والد کی عظمت، محبّت اور بے لوث قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے والدین کو صحت، خوشی اور درازیٔ عُمر عطا فرمائے۔ (ڈاکٹر عبداللہ، حسین کمپلیکس، فیروزپور روڈ، لاہورکی جانب سے)
(ابوّ جان کے نام)
ہنستے ہوئےباپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرا خُوب صُورت نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ میرے والد کو صحت و سلامتی کی حامل زندگی عطا فرمائے اور اُن کا سایہ ہم پر تادیر قائم رکھے۔ ہیپی فادرز ڈے ابّو جان۔ (مریم جنید، کراچی کی طرف سے)
(جنّت مکانی والدِ محترم، محمّد فیاض کے لیے)
ہمارے جنّت مکانی والدِ محترم، محمّد فیاض ایک محنتی، ملن سار اور زندہ دِل انسان تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کی اچّھی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی۔ علاوہ ازیں، وہ اپنے بھائیوں کا بھی بے حد احترام کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے پانچ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں کے گھر بسانے کے بعد ماہِ رمضان کے آخری روزے کو راہیٔ مُلکِ عدم ہوئے۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنّت نصیب فرمائے۔ آمین۔ (محمّد نیاز، محمّد طاہر، ایم خالد، ایم شاہد، ایم عابد، اکبری، اصغری، مشتری، آمنہ، طاہرہ اور شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، کوٹ ادو کی جانب سے)
(بابائے قوم کو سلام)
’’فادرز ڈے‘‘ پر جہاں ہم سب اپنے اپنے والد کی محبّتوں اور قربانیوں کو یاد کرتے ہیں، وہیں اس موقعے پر میرا سلام اُس ’’عظیم باپ‘‘ کے نام ہے، جس نے برِعظیم کی پوری مسلمان قوم کے بچّوں کے محفوظ مستقبل کی خاطر اپنی ذات کو بالکل فنا کر دیا، یک سرمِٹا ڈالا۔ کم لوگ ہی یہ بات جانتے ہوں گے کہ قائدِ اعظم محمّد علی جناح وہ ہستی ہیں کہ جنہوں نے اپنے بچّوں جیسی اِس قوم کو ایک آزاد شناخت دینے کے لیے اپنی اکلوتی بیٹی (دینا واڈیا) اور اپنی ذاتی زندگی کی تمام خوشیاں قربان کردیں۔
اُنہوں نے اپنی گرتی صحت کی پروا کیے بغیر دن رات ایک کر دیا کہ ہم کسی طورغلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو سکیں۔ اُنہوں نے ثابت کیا کہ سچّی وطن پرستی اور شفقت کسے کہتے ہیں۔ آپ کی اِسی بے لوث قربانی اور خدا کی مخلوق سے بے پناہ محبّت پر علاّمہ اقبال کا یہ شعر بالکل صادق آتا ہے کہ ؎ خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے…مَیں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا۔ آج ہم جس آزاد فضا میں سانس لے کر اُڑان بَھررہے ہیں، وہ بابائے قوم کی اِسی عظیم قربانی ہی کی بدولت ہے۔ عالمی یومِ والد پر پوری قوم کے بچّوں کی طرف سے اِس عظیم باپ کو عقیدت بھرا سلام۔ (ابنِ وطن، راول پنڈی کینٹ کا اچھوتا سندیسہ)
(والد مرحوم کے نام)
ہمارے مرحوم والد ایک معلم ہونے کےعلاوہ شاعر بھی تھے۔ وہ دوسروں کے ساتھ نہایت شفقت و احترام سے پیش آتے اور بالخصوص اپنے تمام بچّوں، بہن بھائیوں اور شاگردوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کے برسوں پُرانے شاگرد بھی اُن سے ملنے اکثر گھر آتے تھے اور جب 2001ء میں اُن کی وفات ہوئی، تو ہر آنکھ اشک بار تھی۔ ’’فادرز ڈے‘‘ کے موقعے پر میری دُعا ہےکہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے ابّو جی کوجنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔ (طاہر گرامی، ٹوبہ ٹیک سنگھ کی جانب سے)
(والد مرحوم کی خدمت میں)
میرے والد مرحوم برعظیم پاک وہند کی عظیم درس گاہ، علی گڑھ یونی ورسٹی سے فارغ التحصیل تھے- وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ علم وادب اور شعروشاعری سے بےانتہا لگاؤ رکھتے۔ گھر میں ہر سال شعراء کی محفل سجتی اور شہر کے نام وَر شعراء کے ساتھ اپنے کلام کی بھی خُوب داد وصول کرتے۔ وکالت کے پیشے کی مصروفیت کےباوجود مذہبی وادبی سرگرمیوں کا حصّہ رہے، لیکن فرقہ واریت کی ہنگامہ آرائیوں سے ہمیشہ خود کو دُور رکھا۔
ضرورت مند و نادار افراد اور مساجد کی تعمیر وتوسیع کے ضمن میں ہرممکن مالی امدادکی۔ رواداری، برداشت اورتحمّل کے جذبات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ایک کام یاب وکیل ہونےکے ساتھ اپنے پیشے میں امانت، دیانت اور لگن کی جو مثالیں قائم کیں، وہ دیگر وکلاء خصوصاً نووارد وکلاء کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
علاوہ ازیں، گھریلو معاملات اور رشتے داری میں بھی اخوّت، مروّت اور صلۂ رحمی کا قابلِ تقلید نمونہ پیش کیا۔ اُن کی تعلیم وتربیت نے ہمیں کام یاب زند گی گزارنے کا سلیقہ اور ہُنر بھی سکھایا- بارگاہِ ربّ العالمین میں دُعا ہے کہ وہ میرے والد مرحوم کی مذکورہ صفات کے اجر میں اُنہیں جنّت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے، آمین۔ (قاضی جمشیدعالم صدیقی، علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور کا سندیسہ)
(شفیق و ایثار کیش باپ کے نام)
اولاد کے لیے شفیق باپ کی تربیت ہی وہ اصل سرمایہ ہوتی ہے کہ جو اسے معاشرے میں سَر اُٹھا کر جینےکا سلیقہ سکھاتی ہے۔ باپ ہی وہ ہستی ہے،جو اپنے دُکھ درد اپنے دل میں چُھپا کر اپنے اولاد کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا ہُنر جانتا ہے، خاص طور پر بیٹیاں باپ کی کچھ زیادہ ہی لاڈلی ہوتی ہیں اور ایک بیٹی کے لیے باپ اُس کا محافظ اور ہیرو ہوتا ہے۔ باپ محبّت کا وہ معتبررکھوالا ہے، جس کا دُنیا میں کوئی نعم البدل نہیں۔ ہمارے والد بھی ہمارے لیے شفقت کا ایک ایسا ہی گھنیرا سایہ ہیں۔
اُنہوں نے اپنی نیندیں، خوشیاں قربان کر کے ہماری زندگیاں سنواریں۔ اُن کا سایہ ہمارے سَروں پر ربّ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ وہ ہمیں ہمیشہ یہ سکھاتے ہیں کہ انسان کی اصل پہچان اُس کی دولت سے نہیں، احساسِ ذمّےداری سے ہوتی ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ اپنے والدین کی عزت، خدمت اور محبّت کو اپنی زندگی کا جزوِلازم بنا لیں کہ بےشک، والدین کا سایہ اللہ تعالیٰ کی بیش قیمت نعمتوں میں سے ایک ہے۔ (ماہم جان مغل، میرپورخاص کا اپنے والد سے اظہار محبت و عقیدت)