• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرتّب: طلعت عمران

آپ کو صفحہ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ کے لیے’’عالمی یومِ والد‘‘ کے حوالے سے پیغامات بھیجنے کا سندیسہ دیا گیا، تو باپ جیسی عظیم، عالی مرتبت ہستی سے محبّت و عقیدت، پدرانہ شفقت سے معمور ناقابلِ فراموش لمحات پرمبنی یادوں کا گویا ایک انبار سا لگ گیا۔ سو، ذیل میں آپ کے قابلِ قدر جذبات و احساسات سے مزیّن اِن ہی سندیسوں کی اشاعتِ اول پیشِ خدمت ہے۔

قارئین کے نام

’’فادرز ڈے‘‘ کے موقعے پرمَیں جنگ، سن ڈے میگزین کے قارئین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ باپ ایک سایہ دار درخت اور مضبوط چٹان کی مانند زمانے کی کڑکتی دُھوپ اور تیز و تُند ہواؤں سے اپنی اولاد کو محفوظ رکھتا ہے۔ اپنے بچّوں کی خوشیوں کی خاطر اپنی پوری زندگی قربان کردیتا ہے، توہمیں چاہیے کہ اپنے والد کی قدرکریں اور اپنی پوری زندگی اُن کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔ (بلال ناظم، کراچی کی جانب سے)

والد مرحوم کی خدمت میں

؎ مُجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خُود بھی وہ جلتا رہا… مَیں نے دیکھا اِک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے بابا کو جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (محمّد اقبال شاکر، میاں والی کی طرف سے)

والدِ محترم، بی اے خان مرحوم کے لیے

ہمارے والدِ محترم بی اے خان (بشیراحمد خان) مرحوم ایک انتہائی شفیق باپ تھے۔ اُنہوں نے زندگی بھر ہم سب کا بھرپور خیال رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اُن کی محبّت، شفقت اور یادیں ہمارے دِلوں میں زندہ ہیں، جب کہ ’’فادرز ڈے‘‘ اور عیدین سمیت دیگر اہم مواقع پر ہمیں اُن کی کمی بڑی شدّت سے محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے والدِ محترم کو جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (زاہد احمد خان، مُرشد ٹاؤن کھنہ کاک، راول پنڈی سے)

مرحوم بابا کے نام

’’باپ بننا کامل مَردوں کا کام نہیں بلکہ یہ وہ عمل ہے کہ جو مَرد کو کامل بناتا ہے۔‘‘ فرینک پِٹ مین کا یہ قول ہمارے بابا پر صادق آتا ہے۔ ہمارے بابا نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ زندگی کیسے گزاری جاتی ہے اور آج ہم اُنہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے بابا کی مغفرت فرمائے اور ہمیں اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ ( بلقیس متین، کراچی کی جانب سے)

پیارے ابّو جان، قمر الحسن قمر مرحوم کے لیے

؎ آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے… سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہ بانی کرے۔ (روزینہ خورشید، کراچی سے)

شجرِسایہ دار، عظمت کے مینار کے نام

ہم فادرز ڈے کے موقعے پر شجرِ سایہ دار، محبّت کے پتوار اور تپتی دوپہر میں زندگی کا بوجھ لادے اہلِ خانہ کو راحت کا سامان فراہم کرنے والے عظمت کے مینار اپنے والدِ محترم کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ( ڈاکٹر حبا مجتبیٰ، ڈاکٹر محمّد عبداللہ اور حاجرہ مجتبیٰ کا سندیسہ)

پیارے بابا، علی ایوب کے لیے

’’عالمی یومِ والد‘‘ پر ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے عزیز ترین دوست، ہمارے پیرو مرشد، ہمارے پیارے بابا کوصحت وتن درستی کے ساتھ لمبی حیاتی دے۔ (میرب، ضیغم اور قاسم کی جانب سے)

باپ کے نام

باپ کی قدر کرنا ہم سب پر لازم ہے، کیوں کہ وہ اپنی اولاد کی خوشیوں کی خاطر بے شمار قربانیاں دیتا ہے۔ اپنے بچّوں کے امن و سکون کے لیے دوسروں کےطعن و تشنیع، تلخ نوائی، دُرشت رویے حتیٰ کہ گالیاں تک برداشت کر لیتا ہے۔ اپنی پریشانیاں دِل میں سموئے رکھتا ہے تاکہ اولاد فکرمند نہ ہو اور اپنی خواہشات پسِ پُشت ڈال کر بچّوں کی ضروریات پوری کرتا رہتا ہے۔

وہ دن بھر کا تھکا ہارا جب گھر میں داخل ہوتا ہے، تو اولاد کی ایک مسکراہٹ اُس کی ساری تھکن دُور کرکے رکھ دیتی ہے۔ سو، والد کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے والدین کو صحت، عزّت اور طویل عُمر عطا فرمائے۔ (کلیم ناظم، کراچی کا سندیسہ)

والدِ محترم کے نام

تپتی دُھوپ میں گھنیری چھاؤں اور زندگی کے ہر مشکل موڑ پر حوصلہ دینے والی عظیم ہستی، میرے والدِ محترم! آپ کی محبّت، قربانیوں اور رہنمائی کا کوئی نعم البدل نہیں۔ آپ میری طاقت اور فخر ہیں۔ میری طرف سے آپ کو عالمی یومِ والد بہت بہت مبارک ہو۔ ( عفت ایوب کا پیغام )

پیارے ابّوجی، عبد الواحد کے لیے

پیارے ابّو جی! آپ کی بےلوث محبّت، دُعاؤں اور قربانیوں کا قرض کبھی ادا نہیں ہوسکتا۔ اللہ آپ کو صحت، خوشی اور لمبی عُمر عطا فرمائے۔ آپ میری زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ (ثناء واحد، لاہور کی جانب سے)

قارئین کے نام

اللہ تعالیٰ نے والد کی عزّت اور خدمت پر کئی انعامات کا وعدہ کیا ہے۔ اُس نے اگر ماں کے قدموں تلے جنّت رکھی ہے، تو باپ کو جنّت کا درمیانی دروازہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ والدین سے حُسنِ سلوک کو افضل ترین نیکی قرار دیتا ہے اور اس عمل سے اولاد کو نیکوکاروں میں شمار فرماتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنے والدِ محترم کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ (چوہدری قمرجہاں علی پوری، تحصیل علی پور، ضلع مظفرگڑھ سے)

باپ کے لیے

عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگِ جاں سے… یہ بات سچ ہے مِرا باپ کم نہیں ماں سے… ہر ایک درد وہ چُپ چاپ خُود پہ سہتا ہے… تمام عُمر وہ اپنوں سے کٹ کے رہتا ہے… پُرانا سوٹ پہنتا ہے، کم وہ کھاتا ہے… مگر کھلونے مِرے سب خرید لاتا ہے… وہ مجھ کو سوئے ہوئے دیکھتا ہے جی بھر کے… نہ جانے سوچ کے کیا کیا وہ مُسکراتا ہے… مِرے بغیر ہیں سب خواب اُس کے ویراں سے… یہ بات سچ ہے مِرا باپ کم نہیں ماں سے۔ (ضیاء الحق قائم خانی، جھڈّو کی جانب سے)

پیارے والد چوہدری محمّد اکرم کی رُوح کو سلام

میرے پیارے والد خطّۂ پوٹھوہار کے ایک نام وَر زمین دار تھے اور اُن کے بیل اکثرو بیش تر یہاں منعقد ہونے والے میلوں ٹھیلوں کی بیل دوڑ میں حصّہ لیتے تھے اور زیادہ تر اوّل ہی آتے تھے۔

اُنہوں نے اپنی اولاد کو ہمیشہ محنت سے جی نہ چُرانے کا درس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج اُن کے سارے بچّے خوش وخرّم، خوش حال زندگیاں بسر کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے والدِ محترم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔ (چوہدری محمّد یونس، راول پنڈی کا پیغام)

والدِ محترم، لالا فیض احمد کو خراجِ عقیدت

ہمارے والدِ محترم، لالا فیض احمد کی زندگی کا ہر ہر پہلو ایثار و قربانی سے معمور تھا۔ وہ ایک صاحبِ بصیرت، خُود ساز، بے لوث اور دردمند انسان تھے۔ وہ مویشیوں کے تاجر اور سوداگر تھے اور کاروبار کے حوالے سے اُن کا نصب العین اعلیٰ معیار، مناسب دام اور گاہک کا مکمل اطمینان تھا۔

ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ’’لالا‘‘ کو جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ (مسعود احمد، وحید اختر اور محمد صفدر، راول پنڈی کا سندیسہ)

والد مرحوم کے نام

میرے والد، ابصار احمد بچپن ہی میں والدین کے سایۂ عاطفت سے محروم ہوگئے تھے۔ اُنہوں نے ہماری تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی۔ ہمیں ہمیشہ صرف اللہ سے ڈرنے، باہمی اُنس و محبّت قائم رکھنے، دیانت داری سے محنت و مشقّت کرنے کا درس دیا۔ اور اپنے والد کی ان نصیحتوں پرعمل ہی کی وجہ ہی سے آج ہم سب ایک کام یاب زندگی گزاررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے والدِ محترم کو جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (نصرت زین، رفاہِ عام، ملیر، کراچی سے)

قارئین کے لیے

’’عالمی یوم والد‘‘ پر مَیں تمام قارئین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ روزانہ نمازِفجر کےبعد اپنی والدین کی قدم بوسی ضرور کریں اور جو شخص اپنے ماں باپ کا وفادار نہیں، اُس پر کبھی بھروسا نہ کریں۔ (ڈاکٹر سبطِ شبّرز یدی، رابعہ سٹی، کراچی کی جانب سے)

پیارے پاپا، عمران خالد خان کے نام

پیارے پاپا! آپ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہیں۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و تن دُرستی اور لمبی عُمر عطا فرمائے۔ (ماہم عمران، گلستانِ جوہر، کراچی کا پیغام)

والدِ مرحوم، حوالدار(ر) محمّد شفیع غزنوی کی خدمت میں

5 دسمبر 1972ء وہ ناقابلِ فراموش دن ہے، جب آپ نے بہ رضائے الٰہی داعیٔ اجل کولبیک کہااوربس اُسی روزسےگویا ہمارے اشکوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ خاکسار آج شاہ راہِ حیات میں جس مقام پر بھی ہے، وہ آپ ہی کے فیضانِ نظر اور دُعاؤں کا ثمر ہے۔ ’’فادرز ڈے‘‘ کے موقعے پر میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ اور والدہ محترمہ کی قبور کو جنّت الفردوس کے پھولوں سے معطر رکھے اور آپ کی کامل مغفرت فرمائے۔ (محمّد رئیس خان غزنوی، پکّا قلعہ، حیدرآباد، سندھ کا خراجِ عقیدت)

مثلِ شجرِ سایہ دارباپ کے نام

ویسے تو والدین کے لیےکوئی ایک دن مخصوص نہیں ہونا چاہیے اور ہماری زندگی کی کتاب کا ہرعنوان والدین سے شروع ہو کر اُنہی پر ختم ہونا چاہیے۔ بہرکیف، عالمی یومِ والد کے موقعے پر مَیں وہی کہوں گی کہ جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا۔ ’’اے میرے ربّ! میرے والدین پر رحم فرما، جس طرح اُن دونوں نے مُجھے بچپن میں پالا۔‘‘ میرے والد صاحب ایک انتہائی نیک شریف، دین دار اور خدا ترس شخص ہیں۔

وہ ہر وقت ہر ایک، بالخصوص اپنی اولاد کے لیے دُعاگو رہتے ہیں۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے والد صاحب کو صحت وعافیت کے ساتھ عُمرِ خضر عطا فرمائے۔ ہماری خاطر دُعائیں مانگنے کے لیے اُن کے ہاتھ ہمیشہ بلند رہیں اور اللہ اُنہیں ہر قسم کی محتاجی سے بچائے۔ (مصباح طیّب، سرگودھا کی جانب سے)

پیارے بابا جانی، شاہد اقبال کے نام

میرے پیارے بابا جانی! میری زندگی میں آپ کی جگہ کوئی نہیں لےسکتا۔ دُنیا کے لیے تو شاید آپ صرف ایک فرد ہوں، مگر میرے لیے آپ میری پوری دُنیا ہیں۔ آپ نے میری خوشی کو ہمیشہ اپنی خوشی سمجھا، میری خاطر بےشمار قربانیاں دیں اور مُجھے کبھی احساس تک نہ ہونے دیا۔

میری ہرخواہش کو اپنی ذمّےداری سمجھ کرپورا کیا۔ آپ یقین کریں، مَیں الفاظ میں اِس بات کا اظہار بھی نہیں کر سکتی کہ میرے دِل میں آپ کے لیے کس قدرمحبّت و احترام ہے۔ ہاں، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ میری ہر کام یابی آپ کی محنت اور دُعائوں ہی کی مرہونِ منت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شُکر ہےکہ اُس نے مجھےآپ جیسا شفیق ومہربان باپ عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے اور میرے سَر پر آپ کا سایہ تا دیر قائم رہے۔ آمین۔ (قراۃ العین زہرا، لاہور کا اپنے والد کو خُوب صُورت خراجِ تحسین)

ہر پاکستانی باپ کے نام

’’فادرز ڈے‘‘ پر مَیں ہر پاکستانی والد سے ہاتھ جوڑ کر یہ درخواست کرتا ہوں کہ خدارا! اپنی اولاد کو صرف نمبرز کی دوڑ میں شامل نہ کریں۔ اپنے بچّوں کو صرف ڈاکٹر، آئی ٹی ایکسپرٹ، انجینئر اور بینکر نہ بنائیں، بلکہ انہیں اچھا انسان بنانے کی بھی کوشش کریں۔ یاد رہے، آپ کی یہ انفرادی کاوش اجتماعی خوشی اور خوش حالی کا سبب بنے گی اور یہ دُنیا امن وآشتی کا گہوارہ جائے گی۔ ( ڈاکٹر ادیب عبد الغنی شکیل، قدیر آباد، ملتان کا فکرانگیز پیغام)

عظیم بابا کی خدمت میں

ہمارے عظیم بابا نے اپنی کم آمدنی کے باجود ہم تین بہنوں اور تین بھائیوں کو مضبوط ستون اور چمکتے دمکتے ستارے بنایا۔ اگر آج ہم تمام بہن بھائی اپنے اپنے شعبوں میں انتہائی باوقار انداز میں خدمات انجام دے رہے ہیں، تو یہ ہمارے بابا کی شبانہ روز محنت ہی کاثمر ہےاور ہمیں اُن پر فخر ہے۔

بدقسمتی سے جب اُن کی اولاد عروج پر پہنچی، تو وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے، لیکن ہم نے اُن کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ ہم آج بھی اُن کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں اور اُن کے مسکراتے چہرے کوپل پل یاد کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دُعاگو ہیں کہ وہ ہمیں اپنے والد کی قربانیوں اور خدمات کی لاج رکھنے کی توفیق نصیب فرمائے اور ہم محبِ وطن پاکستانی ثابت ہوں۔ (زہرا گُل، مہ جبیں گُل، احسن رضا گُل، عطرت گُل، محسن رضا گُل، فہد رضا گُل اور پوری گُل فیملی، لاہور سے)

سنڈے میگزین سے مزید