• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پڑوسی

محلے میں برسوں سے جائیداد کا ایک تنازعہ چل رہا تھا۔

دو بھائی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے کو تیار نہیں تھے۔

میں نے مہینوں دوڑ دھوپ کی، انھیں سمجھایا، بزرگوں کو ساتھ بٹھایا۔

میری ثالثی سے آخرکار معاہدہ طے پایا۔ امن قائم ہوا،

اس خوشی میں ایک بڑی دعوت رکھی گئی۔

تمام شرکا نے خوشی کا اظہار کیا، اور میری تعریف کی۔

مگر میرا پڑوسی مجو، جسے مجھ سے خدا واسطے کا بیر تھا، منہ بنائے بیٹھا رہا،

اپنی باری پر بے دلی سے رسمی جملے کہے، اور میری تعریف گول کر گیا۔

اچانک محفل میں بیٹھے لوگ بری طرح کھانسنے لگے۔ ایک بزرگ بڑبڑائے:

’’میاں، لگتا ہے، کمرے میں حسد کا دھواں بھر گیا ہے۔‘‘

تازہ ترین