وہ تاریک کمرے میں تنہا بیٹھا تھا۔
ذہن کے پردے پر ماضی کی تلخ یادیں رقصاں تھیں،
جہاں وہ اپنے حریفوں کو جیت کا جشن مناتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
اور کانوں میں ان ناقدین کے الفاظ گونج رہے تھے، جو اسکی شکست پر ہنس رہے تھے۔
مخالفین دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ اپنے کیریئر کی اننگز کھیل چکا،
اسکی کہانی ختم ہوئی، اب اس کی واپسی مشکل ہے۔
اس نے مایوسی کو ذہن سے جھٹک دیا، اور نئے عزم کے ساتھ میدان میں اترا،
جوں ہی اس نے گول اسکور کیا،
مداحوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا،
اور مبصرین یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ؛
رونالڈو ایک فاتح کی حیثیت سے لوٹ آیا ہے۔