ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سرگودھا محمد صہیب کا کہنا ہے کہ کریانہ اسٹور میں زیادتی کے بعد قتل ہونیوالی بچی واقعے کے روز 2 بار دکان پر آئی تھی، پہلی بار صبح سویرے آکر چلی گئی، قتل کے بعد ملزم کھانا لینے کے بہانے دکان سے چلا گیا تھا، بچی کی لاش جس کمرہ میں تھی اس کی چابی بھی ملزم کے پاس ہی تھی۔
متاثرہ خاندان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی پی او نے بتایا کہ والدین کے کہنے پر پولیس جب پہنچی تو دکان کی تیسری منزل پر بند پڑے کمرے کے باہر خون کے دھبے پائے گئے، دکان پر موجود دیگر ملزمان کو کہہ کر دکان پر بلایا گیا۔ملزم سے پوچھ گچھ کی تو اس نے لاش کی نشاندہی کی۔
ڈی پی او نے بتایا کہ اب تک تقریباً 80 مشکوک افراد کے ڈی این اے نمونے فارنزک کیلئے لاہور لیبارٹری کو بھجوائے گئے ہیں، حتمی فارنزک رپورٹ دو ہفتوں تک موصول ہوگی، کیس میں دیگر 4 افراد بھی گرفتار ہیں، کریانہ کی دکان دو پارٹنر کے درمیان شراکت کے طور پر چلائی جا رہی تھی۔
مقتولہ کے والد کہتے ہیں کہ میرٹ پر تفتیش کی یقین دہانی کروائی گئی ہے، پولیس تفتیش سے مطمئن ہیں۔
واضح رہے کہ پیر کو 7 سال کی بچی کوزیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا، مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔