خلیل احمد نینی تال والا
قارئین !اس وقت ملک کے سیاسی منظر نامے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو میثاق جمہوریت اور بات چیت کی دعوت دیدی ہے۔ وزیر اعظم نے یہ دعوت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقریر کے جواب میں دی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آئین ، قانون اور جمہوریت کے فروغ کیلئے بات چیت کیلئے تیار ہیں، ماضی میں بطور اپوزیشن لیڈر بھی میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی دعوت دی تھی تاہم اس پیشکش کو حقارت سے ٹھکرا دیا گیا ، ہم آج بھی اس کیلئے تیار ہیں، یہ سب ہمارے بھائی ہیں کوئی لڑائی نہیں، آئیں ، میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت کی طرف بڑھیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ قائد حزب اختلاف نے جو نکات اٹھائے ہیں ، سب کو غور سے سنا ہے، جو نکات اٹھائے ان کا جواب مناسب موقع پر تفصیل سے دینگے۔ صوبوں کے معاشی وسائل ان کا حق ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کی وطن کے دفاع کیلئے قربانیاں لازوال ہیں،3دن قبل ایک ہیلی کاپٹر حادثہ میں22افسرا ور جوان شہید ہوئے ، ان میں 2مسیحی بھی شامل تھے، اسی طرح بلوچستان میں دن رات دہشتگردی کا مقابلہ کررہے ہیں اور اس دہشتگردی میں مالی اور تکنیکی معاونت کے خارجی ہاتھ کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔ بلوچستان میں سرحد پر باڑ اپنی سلامتی کیلئے لگائی گئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مل بیٹھ کر معاملات آگے بڑھانے کی پیشکش کر دی ۔ قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غلطیوں کی اصلاح ہو سکتی ہے، شہباز شریف پارلیمنٹ کو مضبوط کریں ، ایک معاہدہ کریں تا کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں۔اس سیاسی منظر نامے میں ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی جب وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سابق اسپیکر اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر سے ان کی نشست پر جا کر ملاقات کی جو جمہوری روایات، سیاسی برداشت اور قومی مفاہمت کی ایک مثبت مثال ہے۔قومی مفاد اور سیاسی استحکام کیلئے مکالمہ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن پاکستان سب سے پہلے ہے۔ یہی سوچ ملک کو استحکام، ترقی اور قومی یکجہتی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ایک جانب وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کو میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت کی دعوت دی ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن لیڈر نے بھی مذاکرات کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک ایسے معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس سے سیاسی استحکام کو فروغ مل سکے۔ موجودہ حالات میں یہ پیش رفت نہ صرف اہم بلکہ وقت کی ایک ناگزیر ضرورت بھی ہے۔ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں۔ مختلف جماعتوں کا اپنے اپنے نظریات، پالیسیوں اور ترجیحات پر قائم رہنا ہی جمہوری عمل کو زندہ رکھتا ہے۔ تا ہم اختلافات کو مخاصمت اور دشمنی میں تبدیل کر دینا کسی بھی ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے اسی صورتحال کا شکار ہے۔ سیاسی قوتوں کے درمیان کشیدگی اور محاذ آرائی نے قومی معاملات کو شدید متاثر کیا ہے اور اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام کی موجودگی میں ملک میں نہ امن و امان پائیدار ہوسکتا ہے اور نہ ہی معاشی ترقی کا خواب شرمند ہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے خوفز دہ ہوتے ہیں ریاستی ادارے دبا ئوکا شکار رہتے ہیں اور قومی توانائیاں ترقی کے بجائے سیاسی تنازعات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ یہی سیاسی عدم استحکام دہشتگردی کے خلاف قومی کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے اور معاشی بد حالی کے اسباب میں بھی شامل ہوتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو سیکورٹی اور اقتصادی دونوں محاذوں پر بڑے چیلنجز درپیش ہیں ،سیاسی قیادت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تمام سیاسی اکائیاں اپنی اپنی سیاست ،نظریات اور پالیسیوں پر قائم رہتے ہوئے کم از کم قومی سلامتی، معیشت اور ریاستی استحکام جیسے بنیادی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں ،لیکن قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ معاشی پالیسیوں میں تسلسل اور ریاستی ترجیحات کے استحکام کو یقینی بنانے کیلئے ایک جامع اور قابل عمل میثاق معیشت ناگزیر ہے۔ اسکے بغیر نہ تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور نہ ہی طویل المدتی اقتصادی منصوبہ بندی ممکن ہے۔ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے مذاکرات اور باہمی مفاہمت کی پیشکش کا مثبت جواب ایک اہم قدم ہے۔ وزیر اعظم بھی ماضی میں متعدد مواقع پر اسی نوعیت کی بات کرتے رہے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پیشکش اور جوابی پیشکش کے اس مرحلے سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کئے جائیں۔ قوم محض بیانات نہیں بلکہ نتیجہ خیز پیش رفت دیکھنا چاہتی ہے۔ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر دونوں تجربہ کار اور جہاں دیدہ سیاستدان ہیں۔ انہیں چاہیے کہ فوری طور پر با مقصد بات چیت کا آغاز کریں اور ایک ایسا سیاسی ماحول تشکیل دینے میں کردار ادا کریں جس میں اختلافات کے باوجود قومی مفادات پر اتفاق ممکن ہو۔ پاکستان کو اس وقت محاز آرائی نہیں بلکہ مکالمے، مفاہمت اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم کو چاہئے کہ اپوزیشن کے ساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے ایک با اختیار کمیٹی تشکیل دیں جو تمام متعلقہ سیاسی قوتوں سے رابطہ کرے ان مسائل کی نشاندہی کرے جو قومی مفاد، جمہوری استحکام اور آئینی بالادستی سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ تمام سیاسی قوتیں اختلافات کے باوجود مکالمے کا راستہ اختیار کریں کیونکہ پائیدار استحکام کا راستہ تصادم سے نہیں بلکہ بات چیت سے نکلتاہے۔