• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان اس وقت جن بڑے قومی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، ان میں ایک ایسا خطرہ بھی شامل ہے جو خاموشی سے ہماری نوجوان نسل، خاندانی نظام، تعلیمی اداروں اور مستقبل کی افرادی قوت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ یہ خطرہ منشیات، خصوصاً آئس (Crystal Methamphetamine) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کا ہے۔ اگرچہ منشیات کا مسئلہ پاکستان کیلئے نیا نہیں، لیکن آئس جیسی مصنوعی منشیات نے اس بحران کو ایک نئی اور زیادہ خطرناک شکل دیدی ہے۔ماضی میں چرس، افیون اور ہیروئن جیسے نشے نسبتاً مخصوص طبقات تک محدود سمجھے جاتے تھے، لیکن آئس نے سماجی اور معاشی سرحدوں کو توڑ دیا ہے۔ چونکہ یہ نسبتاً مہنگی منشیات ہے، اسلئے اس کا استعمال متوسط اور خوشحال طبقے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس کا دائرہ اب کالجوں اور جامعات تک پہنچ چکا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے جامعات بھیجتے ہیں لیکن بعض تعلیمی اداروں میں منشیات کی دستیابی ایک کھلا راز ہے۔

نوجوانی کا جوش، دوستوں کا دباؤ، تجسس اور آسان دستیابی بہت سے طلبہ کو ایسی لت میں مبتلا کر دیتی ہے جس سے واپسی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔ آئس محض وقتی سرور پیدا نہیں کرتی بلکہ دماغی کیمیا کو متاثر کرکے شدید نفسیاتی مسائل، پرتشدد رویوں، وہم، بے خوابی، ڈپریشن اور بعض اوقات خودکشی کے رجحانات کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اسے خطرناک ترین منشیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

معروف ماہرِ نفسیات پروفیسر ڈاکٹر افضل جاوید (OBE)، سابق صدر ورلڈ سائیکائٹرک ایسوسی ایشن، اور پروفیسر ڈاکٹر مودت حسین رانا اس بڑھتے ہوئے رجحان کو پاکستان کے مستقبل کیلئے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ان ماہرین کے مطابق اگر نوجوان نسل میں آئس اور دیگر مصنوعی منشیات کا پھیلاؤ اسی رفتار سے جاری رہا تو آئندہ آٹھ سے دس برسوں میں پاکستان کو ایک ایسے سماجی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جسکے اثرات معیشت، تعلیم، خاندان اور قومی سلامتی تک محسوس کیے جائیں گے۔اس تناظر میں بعض جامعات کا رویہ مزید تشویش کا باعث بنتا ہے۔ بعض ماہرینِ تعلیم اور یونیورسٹی منتظمین یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ یونیورسٹی کے طلبہ بالغ اور باشعور ہوتے ہیں، اس لیے انہیں اپنے نفع و نقصان کا ادراک ہونا چاہیے۔ لیکن جب منشیات تعلیمی ماحول، خاندان اور معاشرے کو متاثر کرنے لگیں تو خاموشی ذمہ داری نہیں بلکہ چشم پوشی بن جاتی ہے۔مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض جامعات میں منشیات کے استعمال یا دستیابی کے بارے میں غیر علانیہ چشم پوشی بھی دیکھی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منشیات کے معاملے میں غیر جانبداری عملاً مسئلے کو قبول کرنے کے مترادف بن جاتی ہے۔

تشویش ناک امر یہ ہے کہ آئس کا استعمال صرف تعلیمی کارکردگی کو متاثر نہیں کرتا بلکہ طلبہ کی شخصیت، تعلقات اور مستقبل کے کیریئر کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ کئی ماہرین کے مطابق ابتدا میں محض تجسس یا دوستوں کی صحبت میں کیا جانے والا تجربہ چند ماہ کے اندر شدید نفسیاتی اور جسمانی انحصار میں تبدیل ہو سکتا ہے۔منشیات کے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند برس قبل لاہور کی نہر، مختلف پارکوں اور گرین بیلٹس میں کھلے عام منشیات کا استعمال ایک معمول کا منظر بن چکا تھا۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں ایسے مناظر میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ منشیات کا کاروبار اب زیادہ منظم اور خفیہ شکل اختیار کر چکا ہے۔یہ صورتحال ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسدادِ منشیات کے محکموں، استغاثہ اور عدالتی نظام کیلئے کئی بنیادی سوالات پیدا کرتی ہے۔ اگر ہم واقعی منشیات کے اس ناسور پر قابو پانا چاہتے ہیں تو صرف منشیات فروشوں کی گرفتاری کافی نہیں ہوگی۔منشیات کا کاروبار محض ایک مجرمانہ سرگرمی نہیں بلکہ ایک منظم معاشی نیٹ ورک بن چکا ہے جس میں سپلائی، ترسیل، تقسیم اور وصولیوں کا ایک مکمل نظام موجود ہوتا ہے۔منشیات کے بحران کا ایک اور افسوسناک پہلو نجی بحالی مراکز یا ری ہیب سینٹرز کی بے قابو افزائش ہے۔ ملک بھر میں سینکڑوں ایسے مراکز قائم ہو چکے ہیں جو بظاہر نشے کے مریضوں کی بحالی کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان میں سے ایک بڑی تعداد بنیادی طبی اور اخلاقی معیارات پر پوری نہیں اترتی۔ریاستی اسپتالوں میں نفسیاتی علاج اور بحالی پروگراموں کی محدود دستیابی نے ہزاروں خاندانوں کو نجی مراکز کی طرف دھکیل دیا ہے۔ والدین جب اپنے بچوں کو شدید نشے اور نفسیاتی انتشار کی حالت میں دیکھتے ہیں تو وہ فوری حل کی تلاش میں ایسے مراکز کا رخ کرتے ہیں۔بدقسمتی سے متعدد ری ہیب سینٹرز میں مستقل ماہرِ نفسیات، تربیت یافتہ کلینکل سائیکالوجسٹ اور نرسنگ اسٹاف موجود ہی نہیں ہوتا۔

پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان ہماری معیشت، دفاع، سائنس، تعلیم اور سماجی ترقی کا مستقبل ہیں۔ اگر یہی طبقہ منشیات کی لت اور سماجی بے سمتی کا شکار ہو جائے تو قومی ترقی کے اہداف محض کاغذی منصوبوں تک محدود ہو کر رہ جائینگے۔ یہ مسئلہ صرف محکمہ صحت یا قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ چیلنج ہے۔ والدین، اساتذہ، مذہبی قیادت، میڈیا، سول سوسائٹی اور حکومت سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے آج اپنی نوجوان نسل کو منشیات کے چنگل سے آزاد کرانے کیلئے سنجیدہ اور مربوط اقدامات نہ کئے تو کل ہمیں صرف نشے کے عادی افراد کا ہی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا بلکہ ایک کمزور، مایوس اور پیداواری صلاحیت سے محروم نسل کا بھی سامنا ہوگا۔

تازہ ترین