امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز اُن لوگوں کو غنیمت سمجھیں، جو بات چیت کر سکتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان سے اُن کی رہائش گاہ پر وفد کی صورت میں ملاقات کی ۔
بعد ازاں مولانا فضل الرحمان اور حافظ نعیم الرحمان نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو کی ، اس موقع پر امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال پریشان کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفد کے ساتھ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے آئے ہیں، کشمیر کے معاملے پر ایک امید پیدا ہوئی ہے کہ بات چیت کی جاسکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ ایسی چیز پر تو کوئی بات نہیں کرے گا، جو آئین پاکستان کے خلاف ہو، ہمیں حکومت کی طرف سے انتظار ہے، حکومت آگے آئے اور بات چیت شروع کرے۔
اُن کا کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ان لوگوں کو غنیمت سمجھیں جو بات چیت کرسکتےہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان کی گفتگو ہم سب کی آواز ہے، ایک وفد خط لے کر آیا اور ثالثی کی پیشکش کی، میں نے کہا لانگ مارچ کو موخر کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے لانگ مارچ موخر کیا اور مزید کوئی قدم نہیں اٹھایا، ہم دونوں طرف سے جواب کے انتظار میں ہیں۔
جے یو آئی سربراہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی ساری قیادت صورتحال پر پریشان ہے،حکومت کہتی ہے ان کے مطالبات مانے بھی معاہدے بھی کیے، پھر حکومت نے ان کو کالعدم بھی قرار دیا ۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں صرف قوت کی بنیاد پر فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے، عقلمندی کی بنیاد پر فیصلوں کی طرف جانا چاہیے۔