• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک موقع پر امریکی صدر آئزن ہاور نے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ایران پر حملہ کرنے کا بھی سوچا مگر پھر ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے سی آئی اے کو مصدق کا تختہ اُلٹنے کا ٹاسک دیا گیا۔ رجیم چینج کی کارروائی کو Operation Ajax کا نام دیا گیا اور اس آپریشن کی قیادت سابق امریکی صدرروزویلٹ کے پوتے Kermit Rooseveltنے کی جوتب سی آئی اے کے Near East and Africa Divisionکے چیف تھے۔ ’’اجاکس‘‘دراصل کپڑے دھونے والا امریکی ڈیٹرجنٹ ہے اور رجیم چینج آپریشن کا نام یہ سوچ کر رکھا گیا کہ جیسے اجاکس کپڑوں سے میل نکالتا ہے ،ویسے ہی آپریشن اجاکس کے ذریعے ڈاکٹر مصدق کا صفایا کردیا جائیگا۔دراصل یہ آپریشن برطانوی حکام کے ذہن کی اختراع تھی ۔MI-6 نے اس منصوبے پر کام شروع کیا مگر جب مصدق نے برطانیہ سے سفارتی تعلقات منقطع کردیئے تو سی آئی اے سے رجوع کیا گیا۔ آئزن ہاور کے صدر منتخب ہوتے ہی چرچل بھاگم بھاگ امریکہ پہنچے اور انہیں باور کروایا کہ اگر ڈاکٹر مصدق کی حکومت برقرار رہی تو ایران پکے ہوئے سیب کی طرح روس کی جھولی میں جاگرے گا۔

Kermit Roosevelt نے اپنی تصنیف ’’Counter Coup‘‘ میں لکھا ہے کہ مصدق کے برسراقتدار آنے سے پہلے ہی سی آئی اے نے اس آپشن پر غور کرنا شروع کردیا تھا کہ امریکہ کس طرح شاہ ایران کو اپنا مہرہ بنا کر ایرانی تیل کے مفادات کا بلا شرکت غیرے اجارہ دار بن سکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ فوسٹر ڈلاس(Foster Dulles) کو اعتماد میں لیا جاچکا تھا۔ امریکی صدر آئزن ہاور سے تائید حاصل کی جاچکی تھی۔

شروع میں شاہ ایران امریکی رجیم چینج آپریشن کا حصہ بننے سے گریزاں تھے اور عوامی ردعمل کے خوف سے ڈاکٹر مصدق کو برطرف کرنے کو تیار نہ تھے مگرایم آئی سکس اور سی آئی اے کے ایجنٹوں نے انکی جڑواں بہن شہزادی اشرف کو تحفے تحائف دیکر اپنے ساتھ ملالیا تو وہ اپنے بھائی محمد رضا شاہ پہلوی کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔Kermit Roosevelt عراق کے راستے 19جولائی کو ایران پہنچے جبکہ یکم اور دو اگست کی درمیانی شب انکی شاہ ایران سے ملاقات ہوئی۔ نصف شب شاہ ایران سے ہونیوالی خفیہ ملاقات میںKermit Roosevelt نے بتایا کہ وہ امریکی صدر آئزن ہاور اور برطانوی وزیراعظم چرچل دونوں کی طرف سے پیغام لیکر آئے ہیں۔ اگر آپ تسلی کرنا چاہتے ہیں کہ واقعی برطانیہ آپ کی پشت پر کھڑا ہے یا نہیں تو آج رات بی بی سی کا خبر نامہ سن لیجئے گا۔ بی بی سی اپنی نشریات ختم کرتے وقت رات کے 12بجے ہیں کہنے کے بجائے اس وقت رات کے ٹھیک 12بجے ہیں کہے گا اور یہ ایک سگنل ہوگا۔ شاہ ایران کے آن بورڈ ہونے کےبعد سی آئی اے نے ڈالروں کے ذریعے تہران میں بغاوت کی آگ دہکا دی۔ پہلے جنرل فضل اللہ زاہدی کو ساتھ ملایا گیااور پھر ایران کے شعلہ بیاں خطیب اور چوٹی کے اسلامک اسکالر آیت اللہ ملا مصطفیٰ کاشانی کی وفاداریاں خرید لی گئیں۔تہران پولیس کے سربراہ افشار طوس کو اس منصوبے کی بھنک پڑی تو انہیں قتل کرکے مسخ شدہ لاش چوراہے میں پھینک دی گئی تاکہ ڈاکٹر مصدق کا ساتھ دینے والے عبرت حاصل کریں۔

شاہ ایران اور وزیراعظم ڈاکٹر مصدق کے درمیان کئی ماہ تک اقتدار کی کشمکش چلتی رہی آخرکار شاہ ایران نے امریکی پیشکش قبول کرتے ہوئے فیصلہ کن وار کرنیکااعلان کردیا۔ 13اگست 1953ء کو شاہ ایران نے ڈاکٹر مصدق کو برطرف کرکے جنرل فضل اللہ زاہدی کو وزیراعظم نامزد کردیا اورامپیریل گارڈ کے کمانڈنٹ کرنل نعمت اللہ نصیری کو یہ احکامات ڈاکٹر مصدق تک پہنچانے کا کہا۔شاہ ایران محمد رضا پہلوی نے بعد ازاں اعتراف کیا کہ وزیراعظم ڈاکٹر مصدق کو نکال باہر کرنے کا منصوبہ انہوں نے امریکی حکام سے ملکر بنایا۔شاہ ایران اپنی خود نوشت Answer to Historyمیں لکھتے ہیں:’’رات کے گیارہ بجے کرنل نعمت اللہ نصیری اپنے دو ساتھیوں کیساتھ ڈاکٹر مصدق کی رہائشگاہ پہنچے تو اسے محافظوں اور ٹینکوں نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ڈاکٹر مصدق کے چیف آف اسٹاف جنرل تقی راعی نے کرنل نعمت اللہ نصیری کو گرفتار کرلیا۔میں نے اس طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے اپنے امریکی دوستوں کی مدد سے منصوبہ بندی کررکھی تھی۔ ان امریکی دوستوں میں سی آئی اے کے Kermit Roosevelt اور تہران میں امریکی سفیر Lloyd Henderson.شامل تھے۔ ہمارے درمیان اتفاق ہوا تھا کہ اگر اپنے نکالے جانے پرمصدق کی طرف سے مزاحمت اور طاقت کا استعمال ہو تو مجھے عارضی طور پرملک چھوڑ دینا چاہئے۔ ہمارا خیال تھا کہ میری ملک سے روانگی نہ صرف صورتحال کو واضح کر دے گی بلکہ مصدق کو اپنا اصلی رنگ دکھانے پر مجبور کر دے گی اور عوامی رائے تاج کے حق میں اکھٹی ہو جائے گی۔ معاملات کو آسان بنانے کی خاطر ہم نے سعد آباد محل اور میرے دو خفیہ ٹھکانوں کے درمیان خصوصی ریڈیو کمیونیکیشن کا بندوبست کر رکھا تھا‘‘۔

منصوبے کے عین مطابق شاہ ایران نے ڈاکٹر مصدق کی برطرفی کے فرمان پر دستخط کرنے کے بعدملکہ ثریا کے ہمراہ اُڑان بھری اور بغداد پہنچ گئے۔ڈاکٹر مصدق کے وزیر خارجہ حسین فاطمی نے عراق میں تعینات ایرانی سفیر کو حکم دیا کہ شاہ ایران کو گرفتار کرلیا جائے مگر اس حکم پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ دو دن یہاں گزارنے کے بعد شاہ ایران روم تشریف لے گئے ۔اُدھر شاہ ایران سیر و سیاحت میں مصروف تھے اور یہاں تہران میں سی آئی اے کی مدد سے Counter Coupبرپا کیا جارہا تھا۔مشتعل مظاہرین نے ریڈیو تہران پر قبضہ کرلیا اور حکومتی ایوانوں پر دھاوا بول دیا۔19اگست 1953ء کی رات وزیراعظم مصدق کو شب خوابی کے لباس میں فرار ہوتے ہوئے پکڑ لیا گیا۔رجیم چینج آپریشن کامیاب ہوتے ہی شاہ ایران واپس لوٹ آئے۔ڈاکٹر مصدق کے حامی یا تو انڈر گرائونڈ چلے گئے یا پھر انہیں نشان عبرت بنادیا گیا۔وزیر خارجہ حسین فاطمی کو سربازار گولی مارکر موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ تہران میں ڈاکٹر مصدق کے گھر پر بلڈوزر چلا کر اسے ملیامیٹ کردیا گیا۔ تہران کسی مفتوحہ شہر کا منظر پیش کررہا تھااور تمام تر اقتدار و اختیار امریکی سفارتخانے منتقل ہوچکا تھا۔ اور اب ایران کے تیل پر 40 فیصد امریکہ کا حصہ تھا۔

تازہ ترین