• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت سورج کی طرح روشن نظر آتی ہے کہ تشدد سے حاصل ہونے والی فتوحات عارضی اور مکالمے، آئین اور قانون سے حاصل ہونے والی کامیابیاں پائیدار ہوتی ہیں۔

گزشتہ صدی کے دوران جن معاشروں میں سیاسی قیادت نے عوامی جذبات کو اشتعال، نفرت اور تشدد کی طرف موڑا، وہاں وقتی طور پر طاقت کا مظاہرہ تو ضرور ہوا مگر بالآخر ریاستیں کمزور، ادارے مفلوج اور قومیں تقسیم ہو گئیں۔بیسویں صدی میں جرمنی میں نازی ازم، اٹلی میں فاشزم، چین میں ثقافتی انقلاب اور روانڈا میں نسلی نفرت کی سیاست اس تلخ حقیقت کی مثالیں ہیں۔ ان تحریکوں کے قائدین نے عوام کو یہ باور کرایا کہ طاقت، انتقام اور سڑکوں کی جارحیت ہی مسائل کا حل ہے، مگر نتیجہ لاکھوں جانوں کے ضیاع، معاشی تباہی اور قومی زوال کی صورت میں نکلا۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہی رہا کہ جو سیاست میںتشدد کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں، وہ آخرکار خود اپنے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور بربادی ان کا مقدر ہوتی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت سے خالی نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک مقبول عوامی رہنما تھے، مگر 1977ءکے سیاسی بحران میں تصادم اور محاذ آرائی نے جمہوری نظام کو کمزور کیا اور ملک مارشل لا کی طرف چلا گیا۔

اس دور کے زخم آج بھی قومی حافظے کا حصہ ہیں۔ بعد ازاں مختلف ادوار میں سیاسی جماعتوں نے سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے، اداروں کے ساتھ کشیدگی اور جارحانہ سیاسی بیانیوں کو اپنی حکمت عملی بنایا اور ناکامی ہوئی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی مختلف ادوار میں ریاستی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی سیاست کا تجربہ کر چکی ہے۔ وقتی سیاسی فائدے کے باوجود یہ راستہ جماعت کو اقتدار سے محرومی، مقدمات اور سیاسی مشکلات کی طرف لے گیا۔ تاریخ نے یہاں بھی یہی سبق دہرایا کہ اداروں سے تصادم کا راستہ کسی کیلئے سودمند ثابت نہیں ہوتا۔

حالیہ برسوں میں پاکستان تحریکِ انصاف نے عوامی مقبولیت کے باوجود ایک ایسی سیاسی فضا پیدا کی جس میں جذباتی نعروں اور شدید سیاسی تقسیم نے معاشرے میں کشیدگی کو بڑھایا۔ 9مئی کے واقعات نے اس کشیدگی کو ایک خطرناک رخ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جماعت کو شدید سیاسی نقصان اٹھانا پڑا، اس کے کئی رہنما قانونی کارروائیوں کی زد میں آئے اور خود اس کی قیادت کو بھی سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا ایک اور ثبوت ہے کہ جب سیاسی جدوجہد آئینی حدود سے نکل کر تصادم کی طرف بڑھتی ہے تو نقصان صرف ایک جماعت کا نہیں بلکہ عوام کا بھی ہوتا ہے۔آج یہی سبق کشمیر کی موجودہ صورتحال میں بھی نظر آتا ہے۔ حالیہ احتجاجی تحریکوں اور پرتشدد جھڑپوں میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، پولیس اہلکار مارے گئے اور متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ کسی بھی معاشرے میں احتجاج شہریوں کا بنیادی حق ہے، لیکن جب احتجاج قانون شکنی، تشدد اور ریاستی اداروں کے ساتھ براہِ راست تصادم میں بدل جائے تو مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیںاور مقاصدکا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔اگر کوئی تحریک اعلیٰ عدالتوں، آئینی اداروں، منتخب نمائندوں ،ایوانوں اور قانونی فورمز کو یکسر مسترد کر دے ۔محافظوں کے بارے میں تضحیک آمیز رویہ اختیار کرے۔اس وقت مظاہرین کے اہل ِ خانہ ، عزیز و اقربا،دوست بھائی ،زمین، مکان دکان، باغ، کھیت کھلیان اور خصوصاً خواتین کی عزت ووقارکے تحفظ کے پیچھے صرف وردی ہے۔ وردی والوں کی لازوال قربانیوں اور شہادتوں سے ہم سب محفوظ ہیں۔سرحد پار وردی والوں کا مقبوضہ کشمیر کے مسلمان عوام سے رویہ بھی دیکھ لیںتاکہ فیصلہ کرنےمیں آسانی ہو، صرف سڑک کی طاقت کو فیصلہ کن سمجھنے والے دراصل اپنے ہی مقدمے کو کمزور کرتے ہیں اور یہی بات ان کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔

جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کا حق محفوظ ہوتا ہے، مگر اس حق کی حفاظت بھی قانون اور آئین ہی کرتے ہیں۔قانون و آئین سے انحراف ذلت کا باعث ہے جب قانون کی عملداری کمزور پڑتی ہے تو سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔تاریخ کا سبق بالکل واضح ہے: تشدد کبھی مستقل سیاسی حل پیدا نہیں کرتا۔ جو قومیں مکالمے، برداشت اور آئینی راستوں کو اختیار کرتی ہیں وہ آگے بڑھتی ہیں، جبکہ جو قومیں غصے اور تصادم کو اپنا شعار بناتی ہیں وہ طویل عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آج پاکستان اور کشمیر کی لیڈرشپ خصوصاً احتجاج کرنے والوں کو ایسے ہی دانشمندانہ طرزِ سیاست کی ضرورت ہے جس میں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، احتجاج ہو مگر تشدد نہ ہو، اور جدوجہد ہو مگر آئین کے دائرے کے اندر۔مگر اب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JA-JAAC) تمام حدود سے تجاوز کر گئی ہے تو مظاہرین کی کامیابی بھی ناممکن ہوگئی ہے۔

جو فیصلے ہوں دلیلوں سے وہی پائندہ رہتے ہیں

لہو سے لکھی تحریریں زیادہ دیر نہیں رہتیں

تازہ ترین