قومی اسمبلی نے گزشتہ دنوںوفاقی بجٹ 2026-27 ءکی منظوری دی۔ اس موقع پر ایوان میں وزیراعظم شہباز شریف، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے بجٹ، ایران امریکہ معاہدہ اور آزاد کشمیر سمیت پاکستان کی سیاسی صورتحال پر تقاریر کیں۔ وزیر خزانہ نے 12جون کو پارلیمنٹ میں بجٹ تجاویز پیش کی تھیں اور فوراً ہی بجٹ کا مسودہ نوید قمر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو جس کا میں ممبر ہوں،کو جائزے کیلئے پیش کیا گیا۔ ہم نے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی ٹیم کیساتھ 10روز تک بلاتعطل بجٹ کاشق وار جائزہ لیا اور آئین کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی حتمی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی ، جسے 24جون کو منظور کیا گیا۔ یہ ایک نہایت ذمہ دارانہ اور تکنیکی مرحلہ ہوتا ہے جس میں ہم نے بزنس کمیونٹی، تنخواہ دار طبقے، ایکسپورٹرز، رئیل اسٹیٹ سیکٹر، دفاعی بجٹ، قرضوں اور سود کی ادائیگیوں، پنشنرز، ترقیاتی منصوبوں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے علاوہ سولر انرجی، الیکٹرک گاڑیوں، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) اور معیشت کی دستاویزی شکل جیسے اہم امور کا آئی ایم ایف سے طے شدہ پروگرام اور اہداف کے تحت جائزہ لیا۔ قومی اسمبلی میں میرا یہ تیسرا وفاقی بجٹ ہے جسکی منظوری میں ہماری قائمہ کمیٹی فنانس نے اہم کردار ادا کیا۔ وفاقی بجٹ 2026-27ء کے اعداد و شمار 15 جون کو اپنے کالم میں لکھ چکا ہوں۔ آج کے کالم میںاضافی اخراجات بیان کرونگا۔ 18440 ارب روپے کے اضافی اخراجات جو مختلف سرکاری اداروں نے، گزشتہ کئی سال سے اپنے بجٹ سے زیادہ خرچ کردیئے تھے، کی منظوری کیلئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے قومی اسمبلی میں پیش کئے۔ ان اخراجات میں مقامی قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات 12640 ارب روپے، پاکستان پوسٹ کے 4120 ارب روپے، قومی انتخابات کے اضافی اخراجات 456ارب روپے اور پاور سیکٹر (ڈسکوز) کے 1150 ارب روپے کے مالی نقصانات شامل ہیں جس میں حیسکو کے 513ارب روپے اور لیسکو کے 331 ارب روپے کے نقصانات قابل ذکر ہیں۔ آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی مالی حالت اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشنز میں اضافے کو سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کئی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ایکویٹی منفی ہوگئی ہے اور حکومتی مالی معاونت کے بغیر یہ کمپنیاں نہیں چل سکتیں۔
بجٹ اجلاس کے دوران اسلام آباد میں ڈنمارک ایمبسی اور معروف معاشی تھنک ٹینک SDPI نے بجٹ پر ایک سیمینار رکھا جس میں مجھے بطور اسپیکر مدعو کیا گیا۔ سیمینار میں میرے علاوہ SDPI کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد سلہری اور پاکستان میں ڈنمارک کی سفیر Maja Mortensen نے شرکت کی۔ سیمینار کا موضوع پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL)، کاربن لیوی اور آئی ایم ایف کے RSF پروگرام کے تحت 1.2ارب ڈالر کے قرضے تھے جس میں سے 400ملین ڈالر پاکستان وصول کرچکا ہے جسکا مقصد ملک میں آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ناگہانی آفات (سیلاب) سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات اور اصلاحات کے بارے میں ڈسکشن کرنا تھا۔ میں نے سیمینار کے شرکاء کو بتایا کہ بدقسمتی سے یہ فنڈز اب تک کسی ایسے بڑے منصوبے میں استعمال نہیں کئے جاسکے ہیں جس سے موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کی جاسکے بلکہ اس سال پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں 1700ارب روپے وصول کئے جانے والے فنڈز ایف بی آر کے ریونیو وصولی ہدف میں 1000ارب روپے کے شارٹ فال پورا کرنے کیلئے استعمال ہونگے۔ یہی صورتحال کاربن لیوی اور آئی ایم ایف کے RSF پروگرام کے تحت ملنے والے فنڈز کی ہے۔ میں نے حکومت ِپاکستان اور اقوام متحدہ کے تعاون سے 9جنوری 2023ء کو پاکستان میںسیلاب کی تباہی پر کی جانے والی جنیوا کانفرنس (CRC) کا حوالہ دیا جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انیتو گوتریس نے کی تھی۔ کانفرنس میں سینیٹر شیری رحمن نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی کاریوں سے نمٹنے کیلئے ایک جامع پروگرام پیش کیا تھا جس پر عالمی برادری نے 9ارب ڈالر کے فنڈز کا اعلان کیا لیکن اس میں سے اب تک خاطر خواہ فنڈز نہیں مل سکے۔ میں نے اپنی تجاویز میں زور دیا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نام پر وصول کئے گئے فنڈز کو آلودگی پر قابو پانے کیلئے متبادل توانائی، سولر اور ونڈ پاور پروجیکٹس کی حوصلہ افزائی اور ڈیزل پیٹرول (فوسل فیول) کی حوصلہ شکنی کیلئے استعمال کرے۔ الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو فروغ دیا جائے اور ملک بھر میں چارجنگ اسٹیشنز قائم کئے جائیں۔ صاف توانائی کیلئے ملک میں چھوٹے ڈیمز کی تعمیر اور نیوکلیئر توانائی کے پروجیکٹس لگائے جائیں اور ڈسکوز کی نجکاری سرفہرست رکھی جائے۔ میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت خزانہ ڈاکٹر بلال کیانی، چیئرمین قائمہ کمیٹی فنانس اینڈ ریونیو نوید قمر، وفاقی سیکریٹریز اور چیئرمین ایف بی آر کا مشکور ہوں جنہوں نے محدود مالی گنجائش ہونے کے باوجود بزنس کمیونٹی خصوصاً ایکسپورٹرز اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے مطالبات بجٹ میں کسی حد تک پورے کئے۔