انگوٹھے نے انسان کی تہذیبی اور سائنسی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے باقی جانوروں کے پاس انگلیاں توہیں انگوٹھا نہیں۔ گوریلا اور چمپینزی میں انگوٹھا ہے مگر انکا ذہن انسان جیسا نہیں ہے اب تک کی جدید سائنسی اور سماجی تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ ہوموسیپئنزHomo sapiens یعنی بنی نوع انسان کی موجودہ شکل اسلئے ترقی کررہی ہے کہ ایک تو ان کے دماغ میں دوسرے جانوروں سے مختلف ایک سوشل جین پیدا ہوگیا اس سوشل جین کو اسمائلنگ یا ٹاکنگ جین بھی کہتے ہیں اسی جین کی وجہ سےانسان واحد نسل ہے جو بول سکتا ہے ،گپ شپ لگاتا ہے، سماجی رابطے کا شوقین ہے اور یہ ہنس بھی سکتا ہے دوسری طرف اسکے اعضاء میں انگوٹھے کا اضافہ ہوا جس سے اوزار بنے، فن اور فن کاروں نے شاہکار جنم دئیے۔ لکھنا سیکھا گیا اور پھر اس سے تاریخ اور تہذیب کا تہہ در تہہ سفر شروع ہوا بدقسمتی سے انگوٹھا ہی وہ وجہ ہے جس سے انسان سشت باندھ کر نشانہ لگاتا ہے انگوٹھا نہ ہوتا تو نہ انسان تیر چلا سکتا نہ تلوار سنبھالی جاسکتی نہ مشین بنتی نہ کمپیوٹر۔ نہ تہذیب کا یہ انداز ہوتا اور نہ جہاں آج جدید انسان کھڑا ہے وہاں کھڑا ہوتا۔
انگوٹھا نہ ہوتا تو اہرام مصر بنتےنہ ہیکل سلیمانی تعمیر ہوتا، نہ مین ہٹن نیو یارک کی فلک بوس عمارتیں وجود میں آتیں نہ برج خلیفہ ظہور میں آتا اور نہ محلات اور جھونپڑیاں بن سکتیں۔ یہ انگوٹھے کا ہی کمال ہے کہ انسان ڈرائیونگ کرسکتے ہیں گاڑیاں اور جہاز چلا سکتے ہیں کپڑے سِی سکتے ہیں جوتوں کے تسمے باندھ سکتے ہیں گانٹھ لگا سکتے ہیں وگرنہ موہنجودڑو کے لوگ انگوٹھے ہونے کے باوجود گانٹھ لگانے کے فن سے نا واقف تھے اسی لئے بعض تاریخ نویس سمجھتے ہیں کہ اگر گھوڑوں پر سوار حملہ آور سلے اور گانٹھ باندھے موہنجودڑوآئے ہوں گے توبغیر کوئی گانٹھ باندھے لباس والےپیدل باشندے لازماً ان سے شکست کھا گئے ہونگے۔ انگوٹھے کے فائدے اور تعریف میں دفتر کے دفتر لکھے جاسکتے ہیں مگر یہی انگوٹھا جہاں تعمیر میں سب سے نمایاں رہا ہے وہاں تخریب میں اسکے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا انگوٹھا انسانوں کے جسم کا حصہ نہ ہوتا تو تلوار، تیر اور توپ سے آنیوالی انسانی اور حیوانی تباہ کاریاں نہ ہوئی ہوتیں۔ نہ ایٹم بم بنتا نہ بارود استعمال ہوتا۔ معاملہ یہاں بھی انسانی دماغ کا ہے کہ وہ انگوٹھے کو نوع انسان کے فائدے کیلئے استعمال کرتا ہے یا نقصان کیلئے۔
انگوٹھا آج کی دنیا، بین الاقوامی سیاست اور اندرونی سیاست کے حوالے سے بھی بہت اہم ہے انگریزی کا مشہور محاورہ ہےTo work under one's thumb( کسی کے انگوٹھے کے نیچے کام کرنا یا کسی کے دباؤ میں کام کرنا ) ۔ آج کی دنیا میں ہر طرف انگوٹھے کے نیچے کام کرنے کا رواج ہے آجکل کونساملک، کونسا شہری اور کونسا صاحب آواز، آزاد ہے؟ سب کے اوپر انگوٹھا ہے اور سب اس انگوٹھے کے نیچے کام کرنے پر مجبور ہیں سب کسی نہ کسی کے اشارے پر کام کررہے ہیں سب انسانوں کی نکیل کسی نہ کسی طاقتور اور زور آور کے ہاتھ میں ہے۔ پنجابی محاورہ ہے ’’ جیدہا زور اوہدے ای مور‘‘ یعنی جو زور آور ہے خوبصورت پرندہ مور بھی اسکی ملکیت ہوگا۔
انگوٹھے کی زور آوری اور طاقت کے سامنے بے بسی کا اظہار عالمی ادب میں جابجا ملتا ہے۔ انگریزی کے بے بدل ڈرامہ نگار اپنے کلاسیک المیے ’’ کنگ لیئر‘‘ میں کہتے ہیں
As flies to wanton boys / are we to gods; they Kill us for their sport.
(جس طرح گلیوں میں آوارہ لڑکے کھیل کے دوران مکھیوں کو مارتے ہیں انسان بھی دیوتاؤں کے سامنے ان مکھیوں کی طرح ہے جسے دیوتا اپنے کھیل میں مار دیتے ہیں)۔
طاقت اور ناخداؤں کے سامنے یہ بے بسی وقت کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے اب طاقتور ملکوں، طاقتور حکمرانوں اور طاقتور افراد کے پاس طاقت دولت اور ٹیکنالوجی کا ارتکاز اسقدر بڑھ گیا ہے کہ عام آدمی، عام ملک یا عام شہری کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہونے لگی ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی مشہور زمانہ نظم The love song of J. Alfred Prufrock ( الفریڈ پروفراک کی محبت کانغمہ) میں کہا
I have measured out my life with coffee spoons
جس کےعمومی معنی یہ ہیں کہ پروفراک (آج کے زمانے کا جدید انسان) یہ محسوس کرتا ہے کہ اسکی زندگی بے معنی ہے ایک ہی روٹین ہے وہی سب کچھ بار بار دہرانا پڑتا ہے بوریت کا غلبہ ہے زندگی میں نہ کوئی مہم ہے اور نہ کسی معنی خیز کارنامے کی توقع۔
مختلف صدیوں اور ادوار کے ان دو شاعروں نے طاقت اور بدلتی دنیا کے مقابلے میں انسانوں کی بے بسی کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ انگوٹھے کی سیاسی حکمرانی سے پیدا ہوا ہے۔ آج کا بے بس، فرسٹریٹڈ ،جنسی نا آسودہ اور ذہنی غیر مطمئن پروفراک کے منہ سے ٹی ایس ایلیٹ نے انگوٹھے کی حکمرانی کے دور میں انسانی المیے کو یوں بیان کیا ہے۔ No I am not Prince Hamlet / nor was meant to be (گویا اب کوئی ہیرو نہیں سب ہاتھ کی انگلیاں اور چھنگلیاں ہیں سب انگوٹھے سے دبی ہوئی ہیں اب نہ کوئی پرنس ہیملٹ ہے اور نہ کوئی ایسا بننے کا سوچ سکتا ہے)
80سال پہلے دنیا کے وحشی پن، جنگوں، آمریتوں اور ظالموں کیخلاف بین الاقوامی انسانی چارٹر بنایا گیا جس میں ملکوں کی خود مختاری، فرد کی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ پر اتفاق رائے ہوا ،لگتا تھا کہ اگلے سوسال کا نیا چارٹر اور مقدس دستاویز یہی بن جائیگی مگر حالیہ سالوں میں اقوام متحدہ کی بے بسی اورانگوٹھے کی حکمرانی نے پرامن اور خوشحال دنیا کے جو حسین خواب دیکھے تھے وہ بکھر سے گئے ہیں کب کوئی ظہران ممدانی آئیگا یا وڈرو ولسن اور فریکلن ڈی روز ویلٹ جیسا آکر یونائیٹڈ نیشنز یا اقوام متحدہ میں دوبارہ روح پھونک سکے گا۔ اقلیتوں، کمزوروں اور بے کسوں کیلئے جو حقوق متعین کئے گئے تھے انگوٹھے کی حکومت اور پانچ طاقتوں کی ویٹو پاور نے فی الحال انہیں متروک کردیا ہے۔ مگر ہمیشہ پروفراک کی بے بسی نہیںرہے گی وہ دوبار ہیملٹ اور Lear بن سکے گا اور نہ ہی دیوتا ہمیشہ انسانوں کو مکھیوں کی طرح مار سکیں گے۔
انگوٹھا طاقت کی علامت ہے اس نے دنیا کو بدلا ہے مگر طاقت اگر اندھی طاقت بن جائے تو پھر انگلیاں اور چھنگلیاں بھی مزاحمت پر اتر آتی ہیں۔ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ملکوں کی اجارہ داری، اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح کیخلاف تھی چارٹر کی روح انگوٹھے کی طاقت کو ختم کرنے پر زور دیتی تھی مگر ویٹو پاور کا اختیار انگوٹھے کی طاقت کو تقویت دینا تھا۔ آج ان ویٹو پاور والے انگوٹھا ممالک میں سے کسی کو توفیق نہیں کہ اقوام متحدہ کی تکریم اور کردار بحال کرنے کی کوشش کرے۔ اگر فیصلے باہم مشوروں، بین الاقوامی طور پر طے شدہ اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت نہیں ہونگے تو جنگیں جاری رہیں گی۔ جنگ بندی بھی ہو جائیگی تو جھڑپیں نہیں رکیں گی انگوٹھے کی حکمرانی نہیں اصولوں کی حکمرانی پرامن دنیا کا واحد راستہ ہے۔