• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ انتظامیہ میں ایران و لبنان پالیسی پر اختلافات کی بحث، وائٹ ہاؤس نے تردید کر دی

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے 2 اہم رہنماؤں جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کے بیانات کے بعد ایران اور لبنان سے متعلق پالیسی پر ممکنہ اختلافات کی بحث شروع ہو گئی ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے کسی بھی تقسیم کی سختی سے تردید کی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ معاہدہ مفاہمت کے حق میں نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ مذاکرات میں ’اچھی پیش رفت‘ ہو رہی ہے اور حتمی معاہدے کی بنیاد مضبوط ہے۔

انہوں نے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایک چھوٹا ملک مسلسل فوجی طاقت کے ذریعے ہر مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔

اس کے برعکس مارکو روبیو نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اپنایا اور خلیجی ممالک کو یقین دہانی کروائی کہ امریکا ان کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہو سکتی اور ایران پر سخت پابندیوں کے مؤقف کو بھی دہرایا۔

رپورٹ کے مطابق لبنان کے معاملے پر بھی دونوں رہنماؤں کے بیانات میں فرق دیکھا گیا۔

وینس نے اسرائیل کی بمباری کے اثرات پر تشویش ظاہر کی ہے جبکہ روبیو نے اسرائیلی کارروائیوں کو جواز فراہم کرتے ہوئے اسے حزب اللّٰہ کے حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔

الجزیرہ کا دعویٰ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان 60 دن میں حتمی معاہدے کی کوشش جاری ہے تاہم اسی دوران آبنائے ہرمز پر کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے جس کے باعث عالمی توانائی کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ پوری انتظامیہ صدر ٹرمپ کے مؤقف کے ساتھ مکمل طور پر متحد ہے اور کسی قسم کے اختلافات کی باتیں بے بنیاد ہیں۔

مارکو روبیو نے بھی واضح کیا ہے کہ تمام فیصلے امریکی صدر کی قیادت میں کیے جا رہے ہیں۔

الجزیرہ کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ سیاسی مبصرین کی رائے کے مطابق وینس اور روبیو کے مؤقف میں یہ فرق امریکی خارجہ پالیسی میں اندرونی کشمکش کی عکاسی کر رہا ہے تاہم دونوں کو ٹرمپ کے ممکنہ سیاسی جانشینوں کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید