• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج یکم جولائی ہے۔ تین روز بعد امریکا کا یوم آزادی منایا جائے گا۔ اس برس امریکا کو آزادی حاصل کیے ٹھیک 250 برس ہو گئے۔ 1776 کے موسم گرما میں کسے معلوم تھا کہ فلاڈیلفیا کے شہر پنسلوانیا کی مارکیٹ اسٹریٹ کے ایک تین منزلہ مکان کی دوسری منزل پر نیچی چھت والے ایک کرائے کے کمرے میں بیٹھا 33 سالہ تھامس جیفرسن کاغذ پر جو سطریں تحریر کر رہا ہے وہ آئندہ برسوں میں نئی دنیاکا منشور قرار پائیں گی۔ جیفرسن نے لکھا تھا ’ہم ان سچائیوں کو بدیہی طور پر درست سمجھتے ہیں کہ تمام انسان برابر پیدا ہوئے ہیں اور انہیں ان کے خالق نے چند بنیادی حقوق ودیعت کیے ہیں۔ہر انسان کو جان ، آزادی اور خوشیوں کی تلاش کا حق حاصل ہے۔ تھامس جیفرسن ایک عبقری دانشور تھا۔ وہ بیک وقت ایک سیاست دان ، مدبر ، سائنس دان ، ماہر تعلیم ، فلسفی ، ماہر تعمیرات ، سفارت کار اور ماہر زراعت تھا ۔ بہت دن ہوئے ہم نے رالف والڈو ایمرسن کی نظم A Nation,s Strength نصاب میں پڑھی تھی۔ اس نظم کا آخری بند نوجوان دلو ں کو عزم اور حوصلے سے بھر دیتا تھا۔

Brave men who work

while others sleep

Who dare while others fly

They build a nation's pillars deep

And lift them to the sky.

ہماری قوم کے بانی محمد علی جناح نے بھی 11اگست 1947کو ہمیں ایسے ہی لعل و گوہر عطا کیے تھے جن پر ہم نے 12 مارچ 1949 کی قرارداد مقاصد کا پانی پھیر دیا۔ آج مگردیکھنا چاہیے کہ تھامس جیفرسن نے انسانوں کے لیے خوشیو ں کے حصول کا جو خواب دیکھا تھا ، امریکا نے خود اپنے ملک میں اور دنیا بھر میں اس خواب کے تعاقب میں کیا گل کھلائے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ خود امریکا نے غلامی کے سوال پر 19ویںصدی میں چار سال تک خانہ جنگی لڑی۔ رنگ و نسل کی بنیاد پر امتیاز کے مکمل خاتمے کیلئے امریکا کو2جولائی 1964 کے قانون برائے مساوی حقوق کا انتظار کرنا پڑا۔ امریکا بیسویں صدی کے آغاز ہی میں ایک بڑی صنعتی قوت کے طور پر ابھرنا شروع ہو گیا تھا۔ دو عالمی جنگوں میں امریکا نے کلیدی کردار ادا کیا اور دوسری جنگ کے بعد برطانیہ نے نو آبادیاتی طاقت کے درجے سے دستبردا ر ہو کر امریکا کو باقاعدہ طور پر سپر پاور کا پرچم تھما دیا۔ بیسویں صدی میں امریکا نے دنیا کے تمام براعظموں میں ا۔پنے مفادات اور عالمی بالادستی قائم رکھنے کیلئے مداخلت کی روایت قائم کی۔ 1903 میں پاناما میں مداخلت کی، 1912 میںنکارا گوا کی داخلی سیاسی کشمکش میںبیس برس تک فوج کشی کی ۔ 1915 میں ہیٹی میں امریکی فوج کشی 1934 تک جاری رہی۔ 1916 میں دس برس تک ڈومینیکن ری پبلک میں مداخلت کی۔1906 میں کیوبا میں مداخلت کی ۔ 1910 میں امریکی افواج نے میکسیکو میں دس برس تک لڑائی کی۔ پہلی عالمی جنگ میں امریکا کے ایک لاکھ سے زائد فوجی مارے گئے ۔ امریکی افواج نے انقلاب روس کے بعد سوویت خانہ جنگی میں حصہ لیا ۔ دوسری عالمی جنگ میں چار لاکھ امریکی فوجی مارے گئے۔ 1950میں امریکا نے کوریا کی لڑائی میں حصہ لیا ۔ 1953 میں ایران اور 1954میں گوئٹے مالا میں خفیہ کارروائیوں کے ذریعے حکومتیں تبدیل کیں۔ 1954میں شروع ہونے والی ویت نام جنگ بیس برس تک جاری رہی۔ براعظم لاطینی امریکا میں کیوبا، ہنڈوراس، پاناما ،گریناڈا، چلی، برازیل، بولیویااور وینزویلا میں امریکا نے مداخلت کی۔ لاطینی امریکا میں یونائٹیڈ فروٹ کمپنی امریکا کا درپردہ ہتھیار تھی۔ براعظم یورپ میں امریکا نے مختلف مواقع پر جرمنی ، آسٹریا، اٹلی ، فرانس ، بوسنیا ، سربیا ، قبرص ، یونان اور کوسوو میں فوجی مداخلت کی۔ مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں امریکانے عراق، افغانستان، شام ، یمن اور ایران میں بار بار علانیہ اور غیر علانیہ فوج کشی کی۔ براعظم افریقہ میں صومالیہ ، لیبیا ، نائیجیریا ، مالدیپ ، سوڈان ، لائبیریا اور ایتھوپیا میں امریکا کے قدموں کے نشانات حالیہ عالمی تاریخ کا حصہ ہیں۔ تھامس جیفرسن ایک مثالیت پسند مدبر تھا۔ اسے کیسے معلوم ہو سکتا تھا کہ دو سو برس بعد امریکا کا حکمران ہیری ایس ٹرومن نسبتاً کم نقصان دہ متبادل دستیاب ہونے کے باوجود انسانی تاریخ کو ایٹمی تباہی سے متعارف کرائے گا۔ امریکا ہی کے ایک صدر آئزن آور نے 1961میں Military industrial complex کی اصطلاح متعارف کروائی تھی۔ تب یہ آئزن آور کی پیش گوئی تھی ۔ آج عالمی ضمیر کے نرخرے پر امریکی جنگی قوت کا انگوٹھا ہے۔ رونلڈ ریگن نامی ایک اداکار نے افغانستان کے بے رحم ،جنگجولڑاکوں کو امریکا کے بانیوں کی صف میں کھڑا کر دیا۔جارج بش جونیئر نے دانستہ جھوٹ بول کر عراق کی قدیم تہذیب کو ملیامیٹ کر دیا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ہی بیان میں باہم متضاد باتیں کہتا ہے۔ ٹرمپ نے امریکی صدارت کو جرم اور سیاست کے درمیانی نیم تاریک منطقے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے وزارت دفاع کو وزارت جنگ کا نام دے دیا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی ملک کو جارحیت کا حق حاصل نہیں ہے۔ وزارت جنگ کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ امریکی فوجی قوت کو جنگی ہتھیار سمجھتا ہے۔ دنیا بھر میں جمہوری بندوبست کی پسپائی اور تفرقے پر مبنی نسل پرست سیاست پھیلانے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ تھامس جیفرسن اور اس کے ساتھی انسان دوستی کا نشان تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا انسانی آلام کے بارے میں بے حس ہونا مسلمہ ہے، خود امریکی جانوں کے بارے میں اس کا لب و لہجہ تمام جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی اخلاقیات سے متصادم ہے۔ وہ صنفی حساسیت سے عاری ہے۔ تھامس جیفرسن نے اس امریکا کا خواب نہیں دیکھا تھا۔ آج کا امریکا اپنے بانی مدبرین کے خواب کی تغلیط ہے۔ امریکا ایک سیاہ بادل کی طرح ہمارے سیارے پر چھایا ہوا ہے۔2026 میں وہ لمحہ آگیا ہے جب دنیا کو 1776 اور 1945 کے خوابوں کی طرف واپس لوٹنا ہے۔ اس کے بغیر ایک پرامن ، خوشحال اور معاشی انصاف پر مبنی دنیا کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

تازہ ترین