• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یادداشت کی کمزوری کی ممکنہ وجہ ڈوپامین کی کمی ہو سکتی ہے: نئی تحقیق

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الزائمر کے مریضوں میں یادداشت کی کمزوری کی ممکنہ وجہ ڈوپامین کی کمی ہو سکتی ہے۔

جاپان کی توہوکو یونیورسٹی اور امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ڈوپامین کی کمی الزائمر کے مریضوں میں یادداشت کی خرابی کی ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے، جس سے مستقبل میں علاج کے لیے نئی راہیں کھلنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر نیورو سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے محققین کے مطابق الزائمر پر ہونے والی زیادہ تر تحقیقات اب تک دماغ میں ایملوئیڈ بیٹا کی تختیوں (plaques) اور ٹاؤ (Tau) پروٹین کے الجھے ہوئے ریشوں پر مرکوز رہی ہیں۔ تاہم ان غیر معمولی تبدیلیوں کو ہدف بنانے والے علاج یادداشت کی بحالی میں محدود کامیابی حاصل کر سکے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دماغ کے ڈوپامین نظام میں خرابی بھی الزائمر کے مریضوں میں یادداشت کی کمزوری کا ایک اہم، لیکن اب تک نسبتاً نظر انداز کیا جانے والا، سبب ہو سکتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر دماغ میں ڈوپامین کی سرگرمی کو بحال کرنے میں کامیابی حاصل ہو جائے تو اس سے یادداشت اور دیگر ذہنی صلاحیتوں میں بہتری آ سکتی ہے، جو الزائمر کے علاج کے لیے ایک اُمید افزا نئی حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم تحقیقاتی ٹیم نے واضح کیا کہ یہ نتائج بیماری کو بہتر طور پر سمجھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ضرور ہیں، لیکن اس بات کی تصدیق کے لیے مزید سائنسی تحقیقات اور کلینیکل آزمائشیں درکار ہوں گی کہ آیا ڈوپامین پر مبنی علاج مریضوں کے لیے محفوظ اور مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں الزائمر کے علاج سے متعلق تحقیق کا دائرہ روایتی دماغی تبدیلیوں سے آگے بڑھانے اور نئی علاج کی حکمت عملیوں کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

صحت سے مزید