عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کا ہر بجٹ بانی سے ملاقات کے بغیر پیش اور منظور ہو جاتا ہے۔
نوشہرہ میں میڈیا سے گفتگو میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ہر بار بجٹ کو بانی سے ملاقات کے ساتھ مشروط کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر بار پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت کا بجٹ ملاقات کے بغیر ہی پیش اور منظور ہوجاتا ہے، کے پی حکومت نے 109 ارب اضافی طور پر مرکز کو دیے ہیں۔
اے این پی رہنما نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں آج بھی کرپشن عروج پر ہے، حکومتی کرپشن پر آواز اٹھانے والوں کو دھمکیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان (جی بی) الیکشن کے نتائج سے خوفزدہ پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ کشمیری عوام پی ٹی آئی اور اس کی پالیسیوں سے نالاں ہیں، اے این پی قیادت آزاد کشمیر الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرے گی۔