ویمپائر
بس اسٹاپ پر ایک پراسرار اجنبی پہلو میں آن کھڑا ہوا۔
بات چیت شروع ہوئی، تو انکشاف کیا کہ وہ ایک ویمپائر ہے،
آج ہی شہر پہنچا ہے، اور خون پینے سے پہلے
شہریوں کے بارے میں جاننے کا متمنی ہے۔
’’آپ انھیں شکار نہیں بنا سکتے، ان کے جسم میں خون ہے ہی نہیں۔‘‘
یہ کیسے ہوسکتا ہے؟وہ بوکھلا گیا۔
میں نے خود اُنھیں چلتے پھرتے، ہنستے بولتے دیکھا ہے۔
وہ چل پھر ضرور رہے ہیں، مگر ان میں خون کا ایک قطرہ نہیں۔
میں نے تاسف سے کہا۔ کچھ خون بجلی، گیس کے بلوں نے نچوڑ لیا،
کچھ حکمرانوں کی بے پروائی نے، اور بچا کھچا مہنگائی نے۔تو پھر میں کیا پیوں؟ وہ منمنایا۔
میں مسکرایا۔ ’’صبر کے گھونٹ‘‘