قول و فعل کے تضادات ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان تضادات کیساتھ جینا حکمت اور دانش کا تقاضا بن چکا ہے۔ ان تضادات کی نشاندہی بے وقوفی اور گستاخی قرار دی جانے لگی ہے۔ ایسی ہی ایک گستاخی پر مبنی سوال مجھ سے بھی پوچھا گیا۔ اس گستاخانہ سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ یہ سوال ایک ایسی خاتون نے پوچھا جو انسانی حقوق کی معروف کارکن ہیں اور ہر دور حکومت میں گرفتاری کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔ ان خاتون کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے۔ وہ صرف پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتجاج نہیں کرتیں بلکہ میں نے انہیں فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کرتے بھی دیکھا ہے۔ اس خاتون کا نام طاہرہ عبداللہ ہے۔ طاہرہ آپا نے مجھے ایک تصویر بھیجی ہے جس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اپنے وفد کے ہمراہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک ہیں اور انکے لئے دعا مانگ رہے ہیں ۔ تصویر کے نیچے طاہرہ آپا نے لکھا ہے کہ جس کیلئے دعا مانگ رہے ہیں اسکے قاتل کیلئے دنیا سے امن کا نوبل انعام بھی مانگ رہے ہیں۔ پہلے میں نے سوچا کہ طاہرہ آپا کو جواب دوں کہ جب ایران کی حکومت کو کوئی اعتراض نہیں تو آپ یہ اعتراض کرنے والی کون ہیں؟ پھر میں رُک گیا۔ مجھے یقین تھا کہ طاہرہ آپا کہیں گی کہ میں پاکستان کی حکومتوں کی نہیں عوام کی ترجمان ہوں، مجھے میرے سوال کا جواب چاہیے۔ میں نے بہتر یہی سمجھا کہ خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں افغان طالبان کو بھی بلایا گیا اور انکے خلاف مزاحمت کرنیوالے گروپ کو بھی بلایا گیا۔ امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہادت کے بعد علی خامنہ ای دنیا میں مزاحمت کا استعارہ بن چکے ہیں۔ اُنکی آخری رسوم میں کروڑوں افراد کی شرکت نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ ایرانی قوم جنگ کیلئے تیار ہے اور امن کیلئےبھی تیار ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان مزید کتناعرصہ ایران اور امریکا کے ساتھ چل سکتا ہے؟ اب پاکستان میں یہ سوال عام ہو چکا ہے کہ اگر ہم ایران اور امریکا میں مذاکرات کروا سکتے ہیں تو پاکستان کے اندر کئی تنازعات کو مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ابھی کل ہی مجھے آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے کچھ اہم سیاسی لوگ ملنے آئے۔ ان میں مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما اور سابق وزیر بھی شامل تھے جن کا اپنا تعلق پونچھ سے ہے۔ وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مخالف تھے۔ لیکن بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھارتی ایجنٹ کہنا بالکل غلط ہے۔ اس کمیٹی پر پابندی نے عام کشمیریوں کو اچھا پیغام نہیں دیا۔ اگر ہم ایران اور امریکا میں مذاکرات کروا سکتے ہیں تو آزاد کشمیر کا مسئلہ مذاکرات سے حل کیوں نہیں کر سکتے؟ اس وفد میں ایک ریٹائرڈ فوجی افسر بھی شامل تھے۔ وہ بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے خلاف تھے لیکن اس کمیٹی پر پابندی ختم کرکے مذاکرات شروع کرنے کی حمایت کر رہے تھے۔ ہمارے حکمران ایران اور امریکا میں ثالثی کو بہت بڑی سفارتی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن یہ کامیابی انہیں آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کیوں حاصل نہیں ہو رہی؟یا تو ہم عالمی سطح پر امن مذاکرات کا کریڈٹ لینا کچھ کم کر دیں یا پھر ایسےہی امن مذاکرات پاکستان میں بھی شروع کر دیں؟ ہمارے قول و فعل کا تضاد عام پاکستانیوں کیلئے زیادہ دیر تک قابل قبول نہیں رہے گا۔ آزاد کشمیر میں الیکشن قریب آ رہے ہیں۔ انتخابی مہم کا آغاز ہو چکا ہے اور اس انتخابی مہم میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کیلئےکافی مشکلات ہیں۔ پیپلز پارٹی ان مشکلات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے اور سردار تنویر الیاس سے جان چھڑا کر اپنے آپ کو بڑا ہلکا محسوس کر رہی ہے۔سردار تنویرالیاس تحریک انصاف کے دور میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم تھے۔ عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان کی بھی چھٹی ہو گئی اور انہوں نے پیپلز پارٹی کےسائے میں پناہ لی۔ الیکشن قریب آیا تو ٹکٹوں کے جھگڑے پر وہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں چلے گئے۔ یہ پناہ گاہ ان کیلئےزیادہ محفوظ ہے۔ وہ ان سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جو ووٹ حاصل کرنےکیلئے خود ووٹر کے پاس جانا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ ووٹر خود ان کے پاس آ کر اپنی محبت وصول کر لیتا ہے۔کیا آزاد کشمیر کا ووٹر اس مرتبہ انکے پاس کچھ وصول کرنے کیلئے آئیگا؟ آزاد کشمیر میں مارکیٹیں ، سڑکیں اور تعلیمی ادارے کھلوانا مسائل کا حل نہیں ہے۔اب ایکشن کمیٹی پیچھے رہ گئی ہے۔ عوام آگے نکل گئے ہیں۔ آنیوالے الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں لیکن مرضی کے نتائج سے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ اسوقت بھی آزاد کشمیر کے عوام کی اکثریت پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انکی لڑائی پاکستان سے نہیں بلکہ اس سسٹم سے ہے جو ان پر نافذ کیا گیا ہے اور سسٹم انکے ساتھ طاقت کی زبان میں بات کر رہا ہے۔ سسٹم چلانے والے فی الحال جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بھلے مذاکرات نہ کریں وہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور اسکے انتخابی امیدواروں کو بلا لیں اور ان سے پوچھ لیں کہ موجودہ صورتحال میں کیا کرنا ہے؟ آج نہیں تو کل تو آپ کو مذاکرات کرنا ہی پڑیں گے۔ لیکن خدانخواستہ ان مذاکرات میں آپ کی پوزیشن وہ نہ ہو جیسی آجکل ٹرمپ کی ہے۔ ٹرمپ ایک سپر پاور کا صدر ہے لیکن ایران کیساتھ مذاکرات کے بعد ٹرمپ کا دبدبہ ختم ہو گیاہے۔ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کیخلاف طاقت کا بھرپور استعمال کیا لیکن یہ طاقت اسکے کسی کام نہ آئی۔ ایرانی عوام کے اتحاد نے سپر پاور کے غرورکو خاک میں ملا دیا۔ ٹرمپ نےپاکستان کے ذریعے مذاکرات شروع کئے اور اب ٹرمپ مذاکرات سے ایران کے ساتھ اپنے تنازعات طے کرنے کی کوشش میں ہیں۔ کوئی مانےیا نہ مانے ، ان مذاکرات میں ایران کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ اگر ٹرمپ پچھلے سال جنگ کے بغیر مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش کرتے تو شائد ایران وہ کچھ حاصل نہ کر پاتا جو اسے جنگ کے بعد مل رہا ہے۔ ان مذاکرات میں ٹرمپ فاتح نظر آتے۔ جنگ کے بعد ایران فاتح نظر آتا ہے۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ ٹرمپ مت بنئے ۔ ٹرمپ بہت طاقتور ہے لیکن سیاسی طور پر کمزور اور انتہائی غیر مقبول ہو چکا ہے۔ جب ٹرمپ اقتدار میں نہیں رہے گا تو تاریخ میں یہی لکھا جائیگاکہ وہ جنگ میں بھی ہارا اور مذاکرات میں بھی ہار گیا۔ میں نے طاہرہ آپا کی طرف سے بھیجی گئی تصویر میں شہباز شریف کے آس پاس کھڑے افراد میں سے دو دوستوں کو وہ سوال بھیجا جو طاہرہ آپا نے مجھ سے پوچھا تھا۔ تادم تحریر ان میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ٹرمپ نے ایران کیخلاف ایک دفعہ نہیں دو دفعہ جنگ چھیڑی لیکن ناکام رہا۔ آخرکار مذاکرات میں بھی عافیت تلاش کر رہا ہے۔آزاد کشمیر اور ایران میں بہت فرق ہے لیکن تاریخ سے سبق سیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ آزاد کشمیر میں اپنے ہی لوگوں کیخلاف کوئی بھی بڑی جنگ چھیڑنے سے پہلے مذاکرات کا آپشن استعمال کر لیا جائے تو بہتر ہوگا۔