ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کو مذہبی، سیاسی اور نظریاتی پیغام رسانی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومتی سطح پر ایک ہفتے پر محیط تقریبات میں علامتی نعروں، مذہبی حوالوں اور عوامی اجتماعات کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کے حامیوں کے اتحاد اور مزاحمت کے بیانیے کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
آیت اللّٰہ خامنہ ای 1989ء سے اپنی وفات تک ایران کے سپریم لیڈر رہے، وہ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوئے تھے، ان کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا۔
ایرانی حکام نے سرکاری بیانات میں خامنہ ای کی موت کو شہادت قرار دیتے ہوئے عوام سے ان کے غم میں شریک ہونے کو قومی اور مذہبی فریضہ قرار دیا ہے۔
جنازے کے لیے حکومت نے ہمیں اٹھنا ہو گا کو مرکزی نعرہ بنایا، جبکہ عربی زبان میں قُومواللّٰه (اللّٰہ کے لیے اٹھ کھڑے ہو) کا پیغام استعمال کیا جا رہا ہے، دونوں نعرے قرآن مجید کی اس تعلیم سے ماخوذ ہیں جس میں اللّٰہ کی راہ میں قیام کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
جنازے میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کی بھنچی ہوئی مٹھی (Clenched fist) کی تصویر نمایاں علامت کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے، سرخ اور سیاہ رنگوں پر مشتمل یہ تصویر سوگ، شہادت اور انتقام کے تصور کی نمائندگی کرتی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ علامت ایک ایسے پیغام سے متاثر ہے جو مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب کیا جاتا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ میرے والد کے صحت مند ہاتھ کی مٹھی بند تھی۔
واضح رہے کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای 1981ء کے ایک بم حملے میں زخمی ہونے کے باعث اپنے دائیں بازو کا استعمال کھو بیٹھے تھے۔
تہران کے گرینڈ مصلے پر ایک بڑا سرخ پرچم لہرایا گیا ہے، جس پر عربی میں یا لثارات الحسین (اے حسین ؓ کے خون کا بدلہ لینے والو) درج ہے۔
اس علامت کے ذریعے خامنہ ای کی شہادت کو واقعۂ کربلا سے جوڑا جا رہا ہے، جہاں حضرت امام حسین ؓ کی شہادت شیعہ تاریخ کا مرکزی واقعہ سمجھی جاتی ہے۔
اس بیانیے کے تحت امریکا اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ ردِعمل کو مذہبی تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔
آیت اللّٰہ خامنہ ای کی میت کو جن شہروں سے گزارا گیا، انہیں بھی خصوصی علامتی اہمیت دی گئی ہے، یہ سفر قم، نجف، کربلا اور مشہد جیسے مقدس شیعہ مراکز پر مشتمل ہے۔
قم کو ایرانی مذہبی قیادت اور اسلامی انقلاب کا مرکز سمجھا جاتا ہے، نجف حضرت علی ؓ کے روضے کی وجہ سے شیعہ مسلمانوں کا اہم ترین روحانی مرکز ہے، کربلا حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کی یاد دلاتا ہے، مشہد میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کی تدفین امام رضا ؓ کے روضے کے قریب کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ راستہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مذہبی اور نظریاتی بنیادوں کی علامتی نمائندگی کرتا ہے۔
جنازے میں ایران کے علاقائی اتحادیوں حزب اللّٰہ، حماس، فلسطینی اسلامی جہاد اور یمن کے حوثیوں کے نمائندے شامل تھے۔
ہر وفد کے لیے قرآن مجید کی مخصوص آیات کی تلاوت کی گئی، جن میں وفاداری، ثابت قدمی اور اللّٰہ پر بھروسے کے مضامین شامل تھے۔
سعودی عرب سے آنے والے وفد کے لیے سورۂ آل عمران کی وہ آیت پڑھی گئی جس میں غزوۂ بدر کا ذکر ہے، اس انتخاب نے عرب میڈیا اور سیاسی مبصرین کی توجہ حاصل کی، کیونکہ اسے مختلف زاویوں سے سیاسی اور مذہبی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای کی آخری رسومات کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ان سے ناصرف ان کی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے بلکہ ایران کے انقلابی نظریے، مذہبی شناخت اور خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو بھی نمایاں کیا جائے۔