• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تنازعات کا حل جنگوں سے نہیں بالآخر بات چیت ہی سے نکلتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے امن مذاکرات اس حقیقت کا تازہ ترین ثبوت ہیں۔اس عالمی ماحول میںپاکستان اور بھارت کی 117 ممتاز شخصیات نے بھی نریندر مودی اور شہباز شریف کو ایسے وقت میں ایک مشترکہ خط لکھ کر جامع امن مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر توجہ دلائی ہےجب دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدگی کی آخری انتہا پر ہیں اور مودی حکومت جنگ مئی کی رسوا کن شکست کی خفت مٹانے کی خاطر کسی نئے ایڈونچر کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے ۔ اس کی جانب سے جدید ترین ڈرونز اور ہتھیاروں کی اندھا دُھند خریداری کے ساتھ ساتھ پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں روز کا معمول بنی ہوئی ہیں ۔ اس کے جواب میں گزشتہ روز کورکمانڈرز اجلاس نے ایک بار پھراس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بھارت کایہ اقدام پاکستان کے خلاف جنگ سمجھا جائے گا اور منہ توڑ جواب کے ذریعے اسے ناکام بنادیا جائے گا۔ مودی حکومت بھی جانتی ہے کہ پاکستان سےجنگ چھیڑنےکے نتیجے میں اسے پہلے سے زیادہ شرمناک نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ لہٰذا مودی کی نظریاتی حلیف راشٹریہ سیوک سنگھ جیسی متعصب اور انتہاپسند تنظیم بھی ممتاز شخصیات کے خط سے پہلے علی الاعلان پاکستان سے جنگ کے بجائے امن مذاکرات کے مشورے دے چکی ہے۔ مذکورہ مکتوب پر بھارت کی اکسٹھ اور پاکستان کی چھپن شخصیات کے دستخط ہیں جن میں بھارت کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، سابق مرکزی وزیر منی شنکر آئیر ، مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی ،پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان اورسابق سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی کے علاوہ دونوں ملکوں کے معروف صحافی اور اہل دانش شامل ہیں۔ ان خبروں کی تصدیق بھی ہوچکی ہے کہ دونوں ملکوں کی سول سوسائٹی کی اہم شخصیات کے درمیان بیرون ملک مختلف اجتماعات میںاس موضوع پر تبادلہ خیال ہوتا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر اگرچہ نئی دہلی اور اسلام آباد میں سے کسی نے بھی اس سرگرمی کو حکومتی تائید کی حامل بیک چینل بات چیت قرار نہیں دیا لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ماضی میں سرکاری سطح پر باقاعدہ مذاکرات سے پہلے ممتاز شخصیات کی جانب سے بالعموم ایسی پیش رفت سامنے آتی رہی ہے۔ لہٰذا عین ممکن ہے کہ دونوں ملکوں کی اہم شخصیات کا اتنی بڑی تعداد میں دونوں وزرائے اعظم کو بات چیت سے اختلافات کا حل تلاش کرنے کا مشورہ کسی باقاعدہ مذاکراتی عمل کی بنیاد بن جائے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم ترین قضیوں میں کشمیر کے مستقل تنازع کے علاوہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرکے پاکستان کا پانی بند کردینے کی بھارتی دھمکیاں، اس سمت میں جاری عملی کارروائیاں نیز بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں دہشت گردی کی سرپرستی سرفہرست ہیں۔

بین الاقوامی تنازعات میں مذاکرات ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پرطے ہوتے ہیں۔ اپنے مطالبات منوانے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ فریق مخالف کی کچھ دکھتی رگیں آپ کے ہاتھ میں ہوں۔ایسے معاملات میںایک ملک کی عالمی ساکھ اور بین الاقوامی برادری میں اس کا مقام اور اعتباربھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔اس حوالے سے بھارت اور پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو اس امر میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ سال جنگ میں پاکستان کو حاصل ہونے والی فتح مبین،اس کے بعد نہایت کامیاب عالمی سفارت کاری، سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کے خلاف ایران کی نتیجہ خیز سیاسی، سفارتی وعسکری حمایت اور پھر امریکہ ایران جنگ روک کر دونوں حریفوں میں مفاہمت کیلئے کامیاب سفارت کاری نے پاکستان کی عالمی ساکھ اور بین الاقوامی مقام کو بہت بلندکردیا اور اسے خطے کے معاملات کا ایک فیصلہ کن شریک بنادیا ہے جبکہ مودی جی نے جن کے ستارے پہلگام کے ڈرامے اور مئی کی جنگ میں ذلت آمیز شکست کھانے کی وجہ سے پہلے ہی ڈوب رہے تھے، ایران کے خلاف اسرائیلی امریکی جارحیت سے عین پہلے تل ابیب کا دورہ کرکے اور غزہ میں بدترین درندگی اور انسانیت کشی کی بنا پر یورپ و امریکہ سمیت دنیا بھر میں نفرت کی علامت بن جانے والے نیتن یاہو کو اپنا بھائی قرار دے کر اپنے لئے مزید رسوائی کا سامان کرلیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کی عالمی پوزیشن میں اس تاریخی تبدیلی کا ایک حیرت انگیز نتیجہ یہ سامنے آیاہے کہ بھارت کو امریکی تزویراتی حکمت عملی میں وہ ترجیحی اہمیت حاصل نہیں رہی جو کئی عشروں سے جاری تھی۔اس امر کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی فوج نے اپنی انڈوپیسیفک کمانڈ کا نام دوبارہ پیسیفک کمانڈ رکھ دیا ہے۔’’جنوبی ایشیا کے معاملات میں امریکہ نے بھارت سے اجازت لینا چھوڑ دیا ہے‘‘ کی سرخی کے ساتھ ایک ممتاز بین الاقوامی چینل پر نشرہونے والے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ’’پینٹاگون نے اگرچہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ صرف پرانے نام کی بحالی ہے جبکہ دائرہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں ہورہی لیکن جیوپولیٹکس میں نام صرف نام نہیں ہوتے۔ یہ فیصلے حکمت عملی ،سفارت کاری اور فوجی رویوںمیں تبدیلی کا پتا دیتے ہیں۔‘‘ چینل کے مطابق ’’انڈو کالفظ2018ءمیںپہلی ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی حکمت عملی میں نئی دہلی کی اہمیت نمایاں کرنے کی خاطر شامل کیا تھا کیونکہ پیسیفک خطے میں سب سے بڑے چیلنج چین کے ساتھ توازن قائم رکھنے کیلئےبھارت امریکہ کے نزدیک ناگزیر تھا لیکن نام کی تبدیل کرکے بتادیا گیا ہے کہ اب ایسا نہیں رہا ۔‘‘ عالمی منظر نامےپر بھارت کی ساکھ میں یہ تنزل عین ممکن ہے کہ مودی سرکار کو پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات بہتر بنانےپرمجبور کررہا ہو جبکہ مذاکرات ہونے کی صورت میںپاکستان ماضی کی نسبت خاصی بہتر پوزیشن میں ہوگا۔ اسلئے ایسی پیشکش ہو تو پاکستان کو انکار نہیں کرنا چاہیے تاہم اس سے پہلے ملک کے اندر سیاسی و سماجی انتشار کے خاتمے ، معیشت کی بہتری اور قومی یگانگت و یکجہتی کی خاطر نتیجہ خیز اقدامات کا عمل میں لایا جانا ضروری ہے کیونکہ جنگ کے میدان کی طرح مذاکرات کی میز پر کامیابی کیلئے بھی قیادت کی پشت پر ایک متحد و یکجان قوم کا ہونا ضروری ہے۔

تازہ ترین