• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ اور اردوان کی ملاقات، ٹرمپ کے 5 دعوے جھوٹے نکلے

—فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا
—فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز نیٹو اجلاس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو میں گرین لینڈ، امریکا اور اپنی انتظامیہ کی کامیابیوں سے متعلق متعدد دعوے کیے۔

ان دعوؤں کو مختلف ماہرین اور دستیاب شواہد کے مطابق گمراہ کن یا غلط قرار دیا گیا ہے۔

ان میں سب سے نمایاں دعویٰ گرین لینڈ سے متعلق تھا، جہاں ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکا کے کنٹرول کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جزیرہ چینی اور روسی بحری جہازوں سے گھرا ہوا ہے] تاہم اس دعوے کی تائید میں کوئی معتبر ثبوت موجود نہیں۔

ٹرمپ نے اس کے علاوہ یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ انہوں نے 8 جنگیں ختم کرائیں، سابق صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو سینکڑوں ارب ڈالرز کا فوجی ساز و سامان فراہم کیا، ان کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد امریکا میں 19.2 ٹریلین ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری ہوئی اور 2020ء کا صدارتی انتخاب دھاندلی زدہ تھا۔

تاہم ان دعوؤں میں 5 دعوے ایسے بھی ہیں جو حقائق کے برعکس ہیں، ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

گرین لینڈ، روس اور چین سے متعلق دعویٰ

ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ چینی اور روسی بحری جہازوں سے گھرا ہوا ہے، تاہم اس دعوے کو ماضی میں آزاد ماہرین، ڈنمارک کی حکومت اور فوج، دیگر نارڈک ممالک کے حکام، گرین لینڈ کی انتظامیہ اور موجودہ و سابق امریکی حکام مسترد کر چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں ڈنمارک کی آرکٹک فورسز کے کمانڈر نے بھی کہا تھا کہ معمول کے مطابق گرین لینڈ کے اطراف چینی یا روسی بحری جہاز موجود نہیں۔

اسی طرح کینیڈا کی ٹرینٹ یونیورسٹی کے آرکٹک سلامتی کے ماہر پروفیسر پی وٹنی لیکنباور نے بھی اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا۔

8 جنگیں ختم کرانے کا دعویٰ

ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ انہوں نے 8 جنگوں کا خاتمہ کرایا، تاہم اس دعوے کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ان کی فہرست میں بعض ایسے تنازعات بھی شامل ہیں جو ان کے دورِ صدارت میں باقاعدہ جنگ نہیں تھے، جبکہ کچھ تنازعات، جن میں روانڈا اور کانگو کے درمیان کشیدگی شامل ہے، امن معاہدوں کے باوجود مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

اسی طرح انہوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کو بھی اپنی کامیابیوں میں شامل کیا، حالانکہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں۔

فہرست میں 2025ء کی اسرائیل ایران کشیدگی بھی شامل ہے، اگرچہ 2026ء میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ فوجی کارروائیاں ہوئیں۔

یوکرین کے لیے امریکی امداد سے متعلق دعویٰ

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سابق صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو سینکڑوں ارب ڈالرز مالیت کا فوجی سازوسامان دیا، تاہم جرمنی کے تحقیقی ادارے کیل انسٹی ٹیوٹ فار دی ورلڈ اکانومی کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2022ء سے اپریل 2026ء تک امریکا نے یوکرین کے لیے تقریباً 74 ارب ڈالرز کی فوجی امداد مختص کی، جبکہ مالی اور انسانی امداد سمیت مجموعی امریکی تعاون تقریباً 132 ارب ڈالرز رہا۔

امریکا میں سرمایہ کاری سے متعلق دعویٰ

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ ان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکا میں 19.2 ٹریلین ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوئی، تاہم وائٹ ہاؤس کی اپنی ویب سائٹ پر اس حوالے سے صرف 10.6 ٹریلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کے اعلانات کا ذکر موجود ہے، جبکہ مختلف تجزیوں کے مطابق اس میں بھی حقیقی سرمایہ کاری کے بجائے ممکنہ سرمایہ کاری کے وعدے، تجارتی معاہدے اور غیر حتمی اعلانات شامل کیے گئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025ء کے دوران امریکا میں نئی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری تقریباً 232 ارب ڈالرز رہی۔

2020ء کے صدارتی انتخاب سے متعلق دعویٰ

ٹرمپ نے ایک بار پھر 2020ء کے امریکی صدارتی انتخاب کو دھاندلی زدہ قرار دیا، تاہم امریکی عدالتوں، انتخابی حکام اور متعدد تحقیقات میں انتخابی دھاندلی سے متعلق کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا اور جو بائیڈن کی انتخابی کامیابی کو قانونی طور پر برقرار رکھا گیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید