• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت: طلبہ احتجاج میں کھانا، پانی فراہم کرنیوالا مسلم رضاکار زیرِ حراست

---تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا
---تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران مظاہرین کے لیے کھانے، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کا انتظام کرنے والے مسلم رضاکار جنید اور ان کے والد کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنید کے مطابق پولیس اہلکار ان کے غازی آباد میں واقع گھر پہنچے، جہاں تلاشی لی گئی، پولیس اہلکار ان کے والد مصطفیٰ کو اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ بینک پاس بکس، پین کارڈز اور دیگر دستاویزات بھی قبضے میں لے لیں۔

جنید کی بہن نے الزام لگایا ہے کہ پولیس والد پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ جنید کو فون کر کے دہلی سے واپس آنے کا کہیں، میرٹھ میں رہنے والے رشتے داروں کو بھی ہراساں کیا گیا، تاہم میرٹھ پولیس نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے کسی تھانے میں ایسی کارروائی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ جنید کے اہلِ خانہ کے خلاف مبینہ کارروائی کا مقصد احتجاج کی حمایت کرنے والوں کو خوفزدہ کرنا تھا۔ 

پارٹی ترجمانوں کے مطابق جنید پر احتجاج ختم کرانے کے لیے ان کے خاندان کے ذریعے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جنید کو شام ساڑھے 5 بجے کے قریب روکا گیا، جبکہ اسی روز ان کا پیرا میڈیکل امتحان بھی تھا، چند افراد نے پہلے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی، بعد ازاں خود کو دہلی پولیس اہلکار بتایا اور انہیں ایک سفید رنگ کی اسکارپیو گاڑی میں لے گئے۔

جنید کا کہنا ہے کہ دورانِ حراست بار بار احتجاج کی فنڈنگ سے متعلق سوالات کیے گئے، جن میں پوچھا گیا کہ اتنے بڑے پیمانے پر انتظامات کے لیے رقم کہاں سے آ رہی ہے۔

واضح رہے کہ سی جے پی کا احتجاج 49 روز تک جاری رہا، جس کا آغاز نیٹ (NEET) سمیت مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک ہونے کے خلاف ہوا تھا۔

 بعد ازاں یہ تحریک امتحانی نظام میں وسیع اصلاحات کے مطالبات تک پھیل گئی۔

احتجاج 25 جولائی کو اس وقت ختم کیا گیا جب حکومت نے سی جے پی کے اہم مطالبات تسلیم کر لیے۔

ان مطالبات میں خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو معاوضہ، مظاہرین کے خلاف مقدمات واپس لینا اور امتحانی اصلاحات سے متعلق 5 نکاتی چارٹر پر غور شامل تھا۔

سی جے پی کے مطابق احتجاج اس وقت ختم کیا گیا جب مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا، جو تحریک کا بنیادی مطالبہ تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید