آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
قیام پاکستان کی یاد 14اگست 1947کو ایک سازش کے تحت متنازع بنا دیا گیا ہے اس سے پہلے 23مارچ 1940قرارداد پاکستان کی تقریبات ختم کی گئیں اب 14اگست کو نوجوان نسل کے ذہنوں سے محو کرنا چاہتے ہیں، ہر سال یکم اگست کو ہی گھروں پر پاکستانی پرچم لہرانا شروع کردیا کرتے تھےمگر اب کی بار وہ گہما گہمی جوش جذبہ کم از کم عام گلی کوچوں میں دکھائی نہیں دیتا، پاکستان کی بجائے مختلف پرچم کہیں عوامی تحریک کے کہیں تحریک انصاف کے کہیں کسی ایک جماعتی پارٹی کے، الغرض قوم کی بجائے اور قومی پرچم کی جگہ ہجوم ادھر ادھر دیوانہ وار پھرتے نظر آتے ہیں کیا ہوگا ہر کوئی پوچھتا پھرتا ہے، بعض لوگ اپنی جیبوں میں عبوری حکومت کی لسٹیں لئے پھرتے ہیں یہ کوئی نہیں بتاتا کہ متوقع عبوری حکومت کس کی مشاورت سے بن رہی ہے اور کیا ایسا ممکن بھی ہے، سیاسی پارٹیوں سے مشاورت کے بغیر بننے والی عبوری حکومت کو تسلیم کون کرے گا اگر زور زبردستی بھی کی گئی تو عدالتیں خودمختار اور آزاد ہیں وہ کہاں جمہوریت پر شب خون مارنے دیں گی،اگر فرض کریں جس کا کہ امکان بالکل بھی نہیں ہے کہ اگر بڑے بوٹوں والے آجاتے ہیں تو پھر عمران خان کے ہاتھ کیا آئے گا طاہر القادری تو پہلے ہی جمہوری اور سیاسی طور سے خالی اور پھک ہیں عمران خان تو اسمبلی میں ایک آواز رکھتے ہیں خیبر پختوانخوا

کی حکمرانی ان کے پاس ہے ان کو کیا ضرورت پڑی تھی طاہر القادری صاحب کی بی ٹیم بننے کی۔
عمران خان خود کرکٹ کے آل رائونڈر کھلاڑی تھے ٹیم کےکپتان تھے کھیلتے بھی تھے دوسروں کو کھلاتے بھی تھے مگر کیا ہوا کہ چوہدریوں اور علامہ طاہر القادری کے ہاتھوں میں کھیلنے لگ گئے، ہم نے پہلے بھی لکھا تھا کہ سیاست کا میدان کرکٹ گرائونڈ سے بہت بڑا ہوتا ہے یہ بالکل ویسے ہی ہے جو سمندر اور کنویں کا فرق ہے، ہمیں گاہے گاہے خوشی ہوتی تھی کہ عمران خان سیاست کے اسرار و رموز جاننے لگ گئے ہیں مگر وہ ایک سمجھدار اور زیرک انسان ہوکر میدان کے اندر کھیلنے کی بجائے بائونڈری پر جا کے THROWERکی جگہ کھڑے ہوگئے ہیں اور ایک ایسے شخص کی بی ٹیم بن گئے جو اپنے سادہ لوح عقیدت مندوں کو کہہ رہا ہے کہ جو کوئی اس کی سیکورٹی کرے گا اس پہرے کی ایک رات دس لاکھ راتوں کی عبادت کے برابر ہے، اس شخص کی ستم رسیدگی کا اندازہ لگائیں کہ 10اگست اتوار کو جو سادہ اور نرے سادہ عقیدت مند اپنے مرشد کی زیارت کے لئے اور یوم شہداء کی تقریب میں دعا کے لئے منہاج القرآن پہنچے تھے انہیں انتہائی عیاری اور مذہب کاچکمہ دے کر وہیں ماڈل ٹائون میں کھلے آسمان تلے یہ کہہ کر تین دن کیلئے روک لیا کہ انقلاب کے لئے قید ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے نومبر 1986میں مجیب الرحمٰن شامی صاحب کے ڈائجسٹ میں جناب محبوب جاوید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مجھے ادارہ منہاج القرآن قائم کرنے کا حکم خود حضورﷺ نے دیا تھا۔‘‘ لیکن جب 12جنوری 2013کو جناب سلیم صافی نے جیو کے پروگرام جرگہ میں طاہر القادری سے اسی بات کی تصدیق چاہی تو مولانا مکر گئے اور کہا کہ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ انہوں نے یہ بات کی تو اسی پروگرام جرگہ میں وہ اپنا سر قلم کرانے کو تیار ہیں، حالانکہ وہ سارا ریکارڈ اور اسکے علاوہ کئی کتابیں جو ان کے فرمودات کی گواہی دے رہی ہیں وہ سب ہماری لائبریری میں ہی نہیں ملک کے دیگر اداروں میں بھی محفوظ ہیں۔ ہم ابھی کالم یہاں تک ہی لکھ پائے تھے کہ محترم جناب عطا الحق قاسمی صاحب کا 3اگست والا کالم نظر سے گزرا جس میں انہوں نے لکھا کہ علامہ طاہرالقادری نے کہا تھا کہ انہیں بشارت ہوئی ہے کہ ان کی عمر حضرت محمد ﷺ کی عمر سے زیادہ یعنی 63سال یا اس سے زیادہ نہیں ہوگی بلکہ وہ 62سال میں ہی دنیا چھوڑ جائیں گے۔ یہ بات لکھنے کے بعد عطاء صاحب نے کہا کہ برادرم جبار مرزا تحقیق کرکے بتائیں کہ مولانا طاہر القادری کے 62برس ہوئے کہ نہیں، تو اس سلسلے میں عطاء صاحب اور جنگ کے قارئین کے لئے عرض ہے کہ مولانا طاہر القادری 19فروری 1951کو جھنگ میں پیدا ہوئے اس طرح آج ان کی عمر 63سال پانچ ماہ اور 26دن بنتی ہے اصولی طور سے اور ان کی بشارت کی رو سے وہ دنیا سے کوچ کرچکے ہیں اب جو فتنہ فساد انہوں نے برپا کیا ہوا ہے یہ سارے کا سارا ان کا عالم ارواح ہے اور اگر محض رسمی کارروائی کیونکہ ان کی عمر تو جناب سلیم صافی کے پروگرام میں ہی پوری ہوچکی تھی۔ اب ایسے شخص کی خاطر عمران خان اپنی برسوں کی محنت گنوا بیٹھے۔
وزیر اعظم میاں نوازشریف صاحب کے قوم سے خطاب میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جسٹس صاحبان کا تین رکنی تحقیقاتی کمیشن کی دعوت عمران خان کو قبول کرلینا چاہئے تھی ان کے انکار نے انہیں تنہا کردیا ہے اب تو وہ سیاست کے ایک ایسے WATERLOO میں کھڑے ہیں ، نپولین تو وہ ویسے ہی نہ تھے سیاست بھی ہار بیٹھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں