بھارت کی ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والے 69 سالہ شخص کو مبینہ طور پر گزشتہ 36 برس کے دوران ملک بھر کے 300 سے زائد لگژری ہوٹلوں کو دھوکا دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت بنگسن جان کے نام سے ہوئی ہے، جو جعلی شناخت کے ذریعے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام کرتا، کئی روز تک وہاں کی سہولتیں استعمال کرتا، بل ادا کیے بغیر روانہ ہو جاتا اور بعض مواقع پر قیمتی سامان بھی اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔
ملزم کو ریاست اڑیسہ کے شہر بھونیشور سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب ریاست چھتیس گڑھ کے شہر رائے پور میں واقع ایک لگژری ہوٹل نے اس کے خلاف شکایت درج کرائی۔
پولیس کے مطابق بنگسن جان نے ہوٹل میں 2 روز قیام کیا اور ناصرف 63 ہزار 755 بھارتی روپے کا بل ادا کیے بغیر چلا گیا بلکہ اپنے ساتھ 1 لاکھ 48 ہزار روپے مالیت کا لیپ ٹاپ بھی لے گیا۔
پولیس کے مطابق رائے پور کے ہوٹل سے مبینہ طور پر چوری ہونے والے لیپ ٹاپ کی تحقیقات کے دوران اس کی ٹریکنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ملزم کا سراغ ملا اور اسے بھونیشور سے گرفتار کر لیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق اس گرفتاری سے ایک ایسے مبینہ فراڈ کا انکشاف ہوا ہے جو 1990ء سے جاری تھا۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران ایک ہی طریقۂ واردات استعمال کرتے ہوئے 300 سے زائد فائیو اسٹار ہوٹلوں کو نشانہ بنایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم جعلی شناختیں استعمال کر کے ہوٹل انتظامیہ کا اعتماد حاصل کرتا، لگژری ہوٹلوں میں قیام کرتا اور بل ادا کیے بغیر فرار ہو جاتا تھا۔