• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں آم کی مجموعی پیداوار کا 70فیصد سرائیکی خطہ دیتا ہے، وسیب قدرتی طور پر ہمیشہ سے باغات کی سرزمین رہی ہے ،اس کے مرکزی شہرملتان کو پوری دنیا میں ’’مینگو سٹی ‘‘کے نام سے پکارا جاتا ہے کہ ملتان میں آم کے وسیع باغات ہیں اور یہاں کا آم لذت اور ذائقے میں پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔گزشتہ صدی کے آخری عشر ے میں آم کے باغات کو بیماری لگی اور بہت سے باغات تیزی سے ختم ہوئے مگر چند ہی سال میں بیماری ختم ہوئی اور باغات بحال ہی ہوئے تھے کہ ہاؤسنگ اسکیمیں آ گئیں جس سے نہ صرف یہ کہ باغات اُجڑنے لگے بلکہ دھڑا دھڑ آم کے پودے ’’قتل ‘‘ہونے لگے۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں 15سے 20ہزار ایکڑپر مشتمل آم کے باغات ختم ہو چکے ہیں ۔ باغات کے کٹنے سے جہاں ماحولیاتی آلودگی بڑھی ہے وہاں موسمیاتی تبدیلی میں بھی شدت آ ئی ہے ، یہ صورتحال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتاہے کہ آم کا باغ بہت مشکل سے تیار ہوتا ہے ، سرائیکی وسیب میں ایک بچے کو پالنا اور آم کے پودے کو پالنا برابر سمجھا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ آم کے باغات کی بربادی کو کون روکے گا؟ یہاں تو یہ ہوا ہے کہ آم کے باغات کو کاٹ کر جو ہاؤسنگ سکیمیں بنائی گئیں وہاں ہر سال مینگو فیسٹیول منعقد کئے جاتے ہیں، دیکھا جائے تو یہ باغات کی ’’قتل گاہ ‘‘پر جشن منانے کے مترادف ہے، حکومت کیا کر رہی ہے ؟ محکمہ زراعت کیا کر رہا ہے؟ اس بارے غور و فکر اور باغات کو بچانے کی ضرورت ہے۔ سرائیکی وسیب جسے انڈس ویلی ،وادی سندھ اور ’’سپت سندھو‘‘ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، آم کا اصل وطن ہے ،یہاں سے ہندوستان کے دوسرے شہروں میں آم پہنچا اور پھر پوری دنیا میں چلا گیا۔آم کی داستان صدیوں پرانی ہے مگر اس بارے خاص بات یہ ہے کہ آم پیدا کرنے والا باغبان صدیوں پہلے بھی مشکلات کا شکار تھا اور آج بھی مشکلات میں گھرا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ سرائیکی خطہ جسے زرعی پیداوار اور باغات کی وجہ سے ہمیشہ ’’پیراڈائز‘‘ کہا گیا، ہمیشہ سے حملہ آوروں کی زد میں رہا ۔ تخت دہلی یا تخت لاہور جو حملہ آوروں کے عافیت کدے رہے وہاں زراعت اور صنعت وحرفت سے وابستہ افرادکی حوصلہ افزائی ہوئی مگر سرائیکی وسیب نے جو بھی کمال حاصل کیا اپنی ہمت اور اپنی محنت سے کیا ، وسیب کے کاشتکار نے اپنے وسیب کوپھر گلستان بنایا اور وہ دوسری زرعی پیداوار کے ساتھ آم کی نت نئی اور اعلیٰ ترین ورائٹیاں دنیا کو دیتا چلا آیا ہے۔ وسیب کے باغبان کو حکومت کی طرف سے سہولتیں ملنی چاہئیں ، خصوصاً ایکسپورٹ کی سہولت سے نہ صرف کاشتکار کو اس کی محنت کا معاوضہ مل سکتا ہے بلکہ ملک کو اس سے کثیر زر مبادلہ بھی حاصل ہوگا۔ سرائیکی وسیب دریاؤں کی سرزمین ہے، اللّٰہ تعالیٰ کی اس پر خصوصی نوازشات ہیں، زرعی پیداوار بھر پور ہوتی ہے، اس سلسلے میں آم کی اقسام کا ذکر کروں گا کہ آم مشہور ورائٹیوں میں ثمر، بہشت، انور رٹول، سندھڑی ،لنگڑا ،دُسیری، مالٹا ،سرولی ،لب ِ معشوق، گلاب ،گلاب جامن، کالا پہاڑ ،فجری ،فجری گولہ،غبالی،صدقہ پنجتن، صنوبر، طوطاپری، چونسہ، چونسہ لیٹ، زلف بنگال، سوبھ آلی ٹنگ ،سہاگ ،دلپسند،نازک بدن ،مکھنْ ،منڈھی ،خانگڑھی بچہ ،ملتانی بادشاہ نواب ،آمن عباسی ،پسند مہے ،اشک ملتان، رومان، بینظیر بہاولپوری، انوکھا سردا، مٹھا، منٹھار ،ہاں ٹھار ،زعفران ،زمرد یہ صرف چند نام ہیں اسی طرح دوسرے سینکڑوں ناموں کا اس مضمون میں ذکر ممکن نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ یہ سینکڑوں نام آم کی اہمیت اورپیدواری وسعت کو ظاہر کرنے کیلئے کافی ہیں،اصل تخمی آم ہے جو زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے ،سرائیکی وسیب میں اسے ’’دیسی ‘‘ آم بھی کہا جاتا ہے، دیسی آم کی بہت سی ورائٹیاںہیںجنکے الگ الگ ذائقے ، الگ الگ ر نگ اوران کے الگ الگ وزن ہیں ۔وسیب میں آم کا سیزن شروع ہوتےہی آم کی تقریبات کی رونقیں بھی شروع ہو جاتی ہیں، گزشتہ روز نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں بہت بڑا مینگو فیسٹیول منعقد کیا گیا جس میں آم کی لاتعداد ورائٹی دیکھنے کو ملی، ملتان کی ضلعی انتظامیہ بھی مینگو فیسٹیول کے اقدامات کر رہی ہے جبکہ وسیب کے مختلف اضلاع میں بھی سرکاری سطح پر مینگو فیسٹیول منعقد کئے جاتے ہیں۔ ’’دعوت آم‘‘وسیب کی ایسی خوبصورت روایت ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے، وسیب کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں دوستوں کوآم کے تحائف بھیجتے ہیں، آم کی دعوت کو وسیب میں ’ساونی ‘کا نام بھی دیا جاتا ہے ، سرائیکی ادب میں ’ساونی ‘کے حوالے سے بہت کچھ پڑھنے کو ملتا ہے، پہلے یہ ہوتا تھا کہ باغوں میں جھولے ڈالےجاتے تھے ،سکھیاں آم، انار اور کھجور کھانے کے ساتھ ساتھ ملکر سہرے گاتیں ، اسی طرح مرد پیر و جوان مل کر باغوں میں جھولے جھولتے ، سرائیکی میں جھولے کو پینگھ کہتے ہیں، ’’پینگھ ‘‘ رچاتے اور ملکر ’’گاونْ ‘‘گاتے، ڈھول کی تھاپ پر سرائیکی جھومر ہوتی اور یہ جھومر کئی گھنٹوں تک جاری رہتی، ڈھول کی لَے کے ساتھ جھومر کے انداز اور رفتار میں بھی تیزی آجاتی، مگر اب وہ رونقیں نہیں رہیں ،مشینی دور نے لطیف احساسات کو روند ڈالا ہے۔ آم کی ’’ساونی‘‘ اب بھی ہوتی ہے مگر نہروں اور ٹیوب ویلوں پر لوگ جاتے ہیں ،اس میں سرائیکی کلچر کم اور مغربی کلچر زیادہ نظر آتا ہے ، جو پاکیزگی وحسن خوبصورت سرائیکی کلچر و جھومر میں ہے وہ انگریزی ڈانس میں کہاں؟۔

تازہ ترین