جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) کی سینیٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے فیصلے کی باقاعدہ منظوری دیدی جس کے مطابق ریٹائرڈ فیکلٹی کی جامعہ میں دوبارہ تقرری کی جاسکے گی۔
تاہم اس سے جونیئر فیکلٹی کی ترقی کے مواقع متاثر نہیں ہونگے جبکہ ریٹائرڈ فیکلٹی کو انتظامی عہدے بھی نہیں دیے جائیں گے۔
پرو چانسلر اور سندھ کے وزیر برائے جامعات و بورڈز، محمد اسماعیل راہو کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں جے ایس ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن نے اراکین کو خوش آمدید کہا جس کے بعد ڈائریکٹر فنانس خرم خالد نے یونیورسٹی کا اضافی بجٹ پیش کیا جس میں وفاقی حکومت، حکومتِ سندھ اور یونیورسٹی کے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والی گرانٹس کا تقابلی جائزہ بھی شامل تھا۔
اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر امجد سراج میمن نے کہا کہ ملک کی متعدد جامعات تنخواہوں اور پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث مالی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے سینیٹ کو آگاہ کیا کہ جے ایس ایم یو اپنے تمام کیمپسز کو شمسی توانائی پر منتقل کر کے مستقل اخراجات میں کمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹر نے یونیورسٹی کے سالانہ کلیدی کارکردگی اشاریے اور آئندہ برسوں کے کارکردگی اہداف پیش کیے۔
اجلاس میں حکومتِ سندھ کی جانب سے اقلیتی طلبہ کے لیے مختص کوٹے کے نفاذ پر بھی غور کیا گیا۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ جے ایس ایم یو میڈیکل کالج میں اقلیتی طلبہ پہلے ہی اوپن میرٹ پر نمایاں تعداد میں داخلہ حاصل کر رہے ہیں، جو علیحدہ کوٹے کے تحت دستیاب نشستوں سے بھی زیادہ ہے جبکہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ضوابط کے مطابق میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز میں کوٹے کی بنیاد پر داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
سینیٹ کے اراکین، خصوصاً پروفیسر شائستہ آفندی، نے اقلیتی طلبہ کی شاندار تعلیمی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ میرٹ پر کامیابی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ایڈیشنل سیکریٹری، محکمہ جامعات و بورڈز، نے اس معاملے پر مزید غور کے لیے یونیورسٹی کو باضابطہ کیس ارسال کرنے کا مشورہ دیا۔
وائس چانسلر نے سندھ محکمہ صحت سے مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کا بجٹ بروقت جاری کرنے میں تعاون کی بھی درخواست کی۔ وزیر محمد اسماعیل راہو نے اس امر کا اعتراف کیا کہ موجودہ مالی سال کے دوران بجٹ کے اجراء میں تاخیر سے متعدد سرکاری محکمے متاثر ہوئے ہیں۔
ریٹائرڈ فیکلٹی کی دوبارہ ترقی پر وائس چانسلر نے کہا کہ یہ پالیسی بالخصوص کلینیکل شعبہ جات میں فیکلٹی کی کمی دور کرنے میں معاون ثابت ہوگی، جہاں ریٹائرمنٹ کے باعث تدریسی اور طبی خدمات متاثر ہوتی ہیں۔