جاپان کار ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن فار پاکستان کے صدر انجینئر راشد محمود اعوان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو قانونی طور پر درآمد کی گئی گاڑیوں کی فروخت کا مکمل اور بلا رکاوٹ حق دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی محنت اور دیانتداری سے کمائی گئی آمدن سے گاڑیاں پاکستان لاتے ہیں اور اس عمل میں تمام قانونی تقاضے، کسٹم ڈیوٹیز اور ٹیکسز مکمل طور پر ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جب کوئی گاڑی تمام قانونی مراحل سے گزر کر پاکستان میں داخل ہو جاتی ہے تو وہ مکمل طور پر درآمد کنندہ کی ملکیت بن جاتی ہے۔ ایسی صورت میں گاڑی کو اپنے پاس رکھنا یا فروخت کرنا مالک کا بنیادی اور آئینی حق ہونا چاہیے، جیسا کہ دیگر جائیدادوں کے معاملے میں ہوتا ہے۔
انجینئر راشد محمود اعوان کے مطابق اوورسیز پاکستانی مختلف مالی، خاندانی اور ذاتی حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر کسی کو بہتر قیمت کی پیشکش ملے، یا کسی ہنگامی ضرورت کے تحت فوری رقم درکار ہو تو گاڑی فروخت کرنا ایک جائز اور فطری عمل ہے، جس پر غیر ضروری پابندیاں عائد نہیں ہونی چاہیئں۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ موجودہ ایک سالہ ٹرانسفر پابندی پر نظرثانی کی جائے تاکہ پالیسی آئینی حقوق، معاشی آزادی اور انصاف کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ سہولت، اعتماد اور احترام پر مبنی رویہ اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔