امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے انتہائی محفوظ اور خفیہ جوہری ٹھکانے کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو امریکا کے ایک مشہور پروگرام ’ہیو ہیوٹ شو‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب پک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے جا رہے ہیں، ایرانی اس کے لیے تیار رہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم اس جگہ پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس وقت ہمیں وہاں کوئی ہلچل نظر نہیں آ رہی، ایرانیوں کی جوہری صورتِ حال کچھ خاص اچھی نہیں ہے، جب بھی ہمیں ان کی کسی جوہری سرگرمی کی اطلاع ملتی ہے، ہم اسے بموں سے اڑا دیتے ہیں، اسی لیے وہ اب اس بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے، ہم بہت جلد اس پہاڑ پر حملہ کرنے والے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہم پک ایکس پر گہری نظر اس لیے رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ہمیں وہاں جوہری سرگرمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ہمارے پاس ایسے کیمرے ہیں جو خلاء سے پک ایکس کے ہر حصّے پر گہری نظر رکھ سکتے ہیں۔
’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو مقامی طور پر’کوہ کلنگ گزلا‘ کہا جاتا ہے جو ایران کی جوہری تنصیب نطنز کے بالکل قریب واقع ہے۔
اس پہاڑ کے اندر بہت گہرائی میں سرنگیں بنائی گئی ہیں اور یہ جگہ اتنی مضبوط ہے کہ امریکا کے پاس موجود ہتھیاروں میں سب سے طاقت ور بنکر بسٹر بم بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی نے رپورٹ کیا ہے کہ اس پہاڑ کے اندر سرنگیں2007ء میں بنائی گئی تھیں اور جون 2025ء میں جنگ کے فوراً بعد اسے سیل کر دیا گیا تھا۔
ایک اندازے کے مطابق یہ سرنگیں پہاڑ کے اندر کم از کم 100 میٹر کی گہرائی میں بنائی گئی ہیں، پک ایکس ماؤنٹین خود سطح سمندر سے 1 ہزار 608 میٹر بلند ہے، اس میں بنائی گئی مشرقی سرنگ کا داخلی دروازہ پہاڑ کی چوٹی سے تقریباً 145 میٹر گہرائی میں ہے جبکہ مغربی داخلی دروازہ اس سے تقریباً 100 میٹر گہرائی میں ہے۔
ایران کی حکومت کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ ایٹم بم نہیں بنا رہی اور اس جگہ کو صرف بجلی بنانے والی مشینوں کے پرزے بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن امریکی ماہرین کو شک ہے کہ پہاڑ کی اتنی گہرائی میں بنی ان سرنگوں کو یورینیئم کی افزودگی بڑھانے یا جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ اگر وقت گزرتا گیا اور ہمارے انسپکٹرز کو ’پک ایکس ماؤنٹین‘ جا کر چیکنگ کرنے کی اجازت نہ ملی تو شکوک و شبہات بڑھ جائیں گے اور یہ صورتِ حال پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑی تشویش کا باعث بن جائے گی۔
