بالی ووڈ اداکار عامر خان کی گوری سپراٹ سے حالیہ شادی کے بعد ان کی ازدواجی زندگی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مسلم پرسنل دارالافتاء کے شاہی چیف مفتی مولانا ابراہیم حسین نے اس شادی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ گوری سپراٹ مسلمان نہیں ہیں، اس لیے یہ شادی شریعت کے مطابق نہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں مولانا ابراہیم حسین نے کہا ہے کہ مسلمان مرد کے لیے غیر مسلم عورت سے شادی کرنا حرام ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر غیر مسلم خاتون اسلام قبول کیے بغیر مسلمان مرد سے شادی کرے تو یہ ان کی تعبیرِ شریعت کے مطابق گناہ ہے اور ایسے افراد کو اپنے عمل کا جواب اللّٰہ کے سامنے دینا ہو گا۔
مولانا ابراہیم حسین نے عامر خان کی تیسری شادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر معاشرے میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عامر خان اور گوری سپراٹ نے حال ہی میں اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ایک نجی رجسٹرڈ تقریب میں شادی کی، جس میں صرف قریبی اہلِ خانہ نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ عامر خان اس سے قبل رینا دتہ اور کرن راؤ سے شادی کر چکے ہیں۔
عامر خان کی جانب سے مفتی ابراہیم کے بیان یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے فتوے سے متعلق خبروں پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔