رات کے پچھلے پہر اس کالم کی تحریر میں قلم و قرطاس کے ہمراہ مصروف ہوں۔ میرے جملہ اہل خانہ بھی کچھ کم نہیں، آنکھیں بوجھل، زُلفیں پریشاں، انگشت بدنداں نہیں بلکہ آئی ٹی اسکرینوں پر متحرک اس وقت اپنے اپنے ہنر میں مصروف ہیں۔ یہ میرے قلم کی تُنک مزاجی نہیں کہ اپنے بچوں کی مصروفیات بیان کر دیں، اس وقت کم از کم نصف دنیا کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل کی اسکرینوں پر مصروف ہو گی جو اس نعمت سے محروم ہیں، وہ چند گھنٹوں کے آرام و دیگر مصروفیات کے بعد موجودہ صارفین کی جگہ ڈیوٹیاں سنبھال لیں گے۔ لیکن کیا ہم نے اجتماعی سوچ پیدا کر لی ہے کہ آئی ٹی کا یہ رجحان بالآخر ہمیں کس تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ بلاشبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بن گئی ہے۔ ہمارے ابلاغ کو تیز تر کر دیا ہے۔ زندگی میں عمومی آسانیاں لائی ہے اور طریقۂ عمل میں انقلاب پیدا ہو گیا ہے۔ اب ہم آئی ٹی کی بدولت دنیا بھر کے علمی خزانے تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن اس ٹیکنالوجی کے انسانی، حیوانی اور نباتاتی مہیب اثرات سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ٹیکنالوجی جو اس وقت بیماریوں کے مقابل باعث شفا ہے، وہ نئے جسمانی اور ذہنی عوارض اپنے جلو میں لا رہی ہے۔ ہم بلاشبہ معاملات میں آسان ہو گئے ہیں، لیکن موبائل کی دید میں رات گئے تک اُلجھے رہتے ہیں، جس نے انسانوں کیلئے عائلی، ازدواجی مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ تربیت اولاد کیلئے وقت سکڑ کر رہ گیا ہے اور اس کی جگہ سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی نے بچوں کے ذہنوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ آئی ٹی نے یوں تو انسانوں کو دیگر بیرونی دنیا تک رسائی فراہم کر دی ہے، لیکن اپنے ہی خاندانی اور ذاتی معاملات سے بیگانہ کر دیا ہے۔ لوگ اپنی اسکرینوں سے بیشتر اوقات چمٹے رہتے ہیں اور Mindlessly Scrolling کے ذریعے اپنی پسندیدگی پر نظریں گاڑے بیٹھے رہتے ہیں۔ ذہنی خلل (Distraction) نے نہ صرف ذہنی استعداد کو نقصان پہنچایا ہے، بلکہ ہماری اپنی سوچوں کو منتشر کر دیا ہے۔ افسوس کہ آئی ٹی کمپنیوں کے مؤجدوں اور مالکان نے دنیا بھر کے انسانوں کو اپنا آلہ کار بھی بنا دیا ہے جو ان ایجادات سے فائدہ تو حاصل کرتے ہیں، لیکن اپنی انفرادی کمائیوں کو ان کی تجوریوں کو بھرنےکیلئے مزدور بن گئے ہیں۔ عوام کی کمائیوں کا معتدبہ حصہ فضولیات میں ضائع ہو رہا ہے، لیکن دنیا بھر کے وسائل چند درجن کھرب پتیوں کی تعداد اور سرمایے میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے اور یوں غربت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور طبقاتی بُعد بھی بڑھ رہا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بے محابا استعمال اور جدید سے جدید مصنوعات کی پیداوار نے ہماری ماحولیاتی صحت کو بھی نگلنا شروع کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ، گلوبل ڈیٹا سنٹرز، کلاؤڈ نیٹ ورک اور مصنوعی ذہانت کے اندھا دھند استعمال نے دنیا بھر میں توانائی کیلئے بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ ان مصنوعات کی پیداوار اور استعمال میں چونکہ کثیر برقی توانائی استعمال ہوتی ہے، جو کہ Fossil Fuels سے ماخوذ ہے۔ چنانچہ عالمی سطح پر ماحولیاتی مسائل ازقسم کاربن کا اخراج اور عالمی حدت میں اضافہ تیز تر ہو گیا ہے۔ آئی ٹی کے آلات میں کاپر، لیتھیم اور دیگر نایاب دھاتوں کے کثیر استعمال کی وجہ سے وسیع کان کنی شروع ہو چکی ہے۔ چند کلو دھاتوں کے حصول کیلئے سینکڑوں ایکڑ زمین کو کھنگالنا پڑتا ہے۔ جنگلات کٹ رہے ہیں، حیوانی بقا خطرات کی زد میں ہے اور زمینی Degradation نے فصلوں کی پیداوار کم کر دی ہے۔ اسی پر بس نہیں تیز تر آئی ٹی ایجادات کی وجہ سے کمپیوٹر ہارڈویئر کے استعمال کا وقفہ بھی کم ہو گیا ہے۔ یوں کئی مصنوعات کی وجہ سے کچرا اور فضلےکی مقدار بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ جب کہ لیڈ، مرکری اور کیڈمیم جیسی دھاتوں کے استعمال کی وجہ سے زمینی گہرائیوں اور پانیوں میں سرایت بڑھ رہی ہے، جو نباتات، حیوانات کیلئے نہایت نقصان دہ ہے۔ آئی ٹی کی غیرمحسوس تباہ کاریوں سے بچاؤ کیلئے بنی نوع انسان کو ابھی سے تدارکی اقدامات اختیار کر لینے چاہئیں۔ بصورت دیگر آئی ٹی کی مالیاتی اور ماحولیاتی تباہ کاریاں اس کے فوائد کو نگل جائیں گی۔ چنانچہ ضروری ہے کہ ای ویسٹ اور کاربن اثرات سے زمین، پانی اور فضا کو بچانےکیلئے ’’گرین منصوبے‘‘ پر عمل شروع کیا جائے۔ نت نئی مصنوعات کی فوری خریداری کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ پرانی اور تجدید شدہ (Refurbished) آئی ٹی مصنوعات کی خریداری کی ہدایت کی جائے تاکہ دنیا بھر میں خام مال کے استعمال، اس کے حصول کیلئے کان کنی کم از کم ہو اور ان کی تیاری کےد وران مضر صحت انڈسٹری کا فروغ نہ ہو۔ ایسی عالمی مصنوعات اور برانڈز کو فوقیت دی جائے جو اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے قابل تجدید، توانائی (ہوا، پانی اور سورج) سے استفادہ کرتے ہوں۔ دنیا بھر میں Servers اور Users کے درمیان ڈیٹا ٹرانسفر کو ممکنہ حد تک کم کیا جائے۔ اس سے کثیر توانائی ضائع ہو رہی ہے۔ لوگارتھم کی افادیت کو بڑھایا جائے۔ کمپیوٹر کوڈز کے اُلجھاؤ کو ختم کیا جائے۔ مصنوعات اور کمپیوٹر کے غیرضروری استعمال اور اسکرینوں کی چمک دمک کو کم رکھا جائے۔ دریں صورت بھی توانائی کی بچت ہوتی ہے۔ مصنوعات کی عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے TikTok جنہیں بہرشوق و مزہ حاصل کرنے کیلئے بار بار استعمال کیا جاتا ہے، ان سے احتراز کیا جائے۔ اس ’’ڈارک ڈیٹا‘‘ کو ختم کر دیا جائے جن سے بہرطور انسانی اخلاق اور توانائی ضروریات کا فائدہ ہو گا۔ یہ اقدامات بظاہر حقیر محسوس ہوتے ہیں، لیکن پوری دنیا کے انسان ان احتیاطوں کو مدنظر رکھیں گے تو آئی ٹی کے نقصانات سے مخلوق، سماج اور زمینی وسائل کا تحفظ ہو گا۔ ہم آئی ٹی کی برکات سے زیادہ بے خطر ہو کر فائدہ حاصل کر سکیں گے۔