اسلام آباد (محمدصالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اپنی پارٹی کو ہدایت کردی ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے سوا تمام اسمبلیوں اور منتخبہ اداروں سے فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی سے جہاں وہ قید ہیں انہوں نے اپنے وکیل کی وساطت سے اپنی پارٹی کی اعلی قیادت کو یہ ہدایت جاری کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کے اعلی ترین ذرائع نے جنگ /دی نیوز کو ہفتے کے روز خود کو ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ عمران نے صوبہ خیبرپختونخوا میں اپنی پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے تاہم انہیں اور ان کے ارکان صوبائی اسمبلی کو استعفی دینے سے استثنیٰ دے دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسمبلیوں میں بیٹھے تحریک انصاف کے ارکان اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں وہاں انہوں نے اپنے طرز عمل سے موجودہ حکمرانوں کو مستحکم کیا ہے یہ لوگ مجھے کوئی آسائش دلانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور اس امر کا سرے سے کوئی امکان نہیں کہ کسی بھی حالت میں تحریک انصاف کے بانی کو رعایت ملے جو 9 مئی کے مقدمات میں ماخوذ ہونے کی پاداش میں پابند سلاسل ہے۔
تاہم پارٹی کے ایک اور قریبی اور بااثر ذریعے نے اس بات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ عمران خان نے مستعفی ہونے کی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مستعفی ہونے کے بارے میں پیغام نے تحریک انصاف کی صفوں میں شگاف ڈال دیا ہے قومی اسمبلی کے 79 آزاد ارکان جن کی غالب اکثریت اپنے بانی کے پیغام کو نظر انداز کرنے پر اصرار کر رہی ہے اور اس کے برعکس مشورہ دے رہی ہے کہ تحریک انصاف سے وابستہ آزاد ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں واپس آئیں اور کمیٹیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں۔
قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہے کہ کمیٹیوں کے بارے میں فیصلہ عمران خان نے کیا تھا جس نے اس بارے میں کوئی نئی ہدایت جاری نہیں کی۔
قیادت کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے اپنی جدوجہد سے جو گنجائش پیدا کی ہے اسمبلیوں سے استعفی اسے بھی ختم کر دیں گے۔