90ءکی دہائی میں ایک صاحب تھے جنہیں احباب پیار سے ’جگاڑو‘ کہتے تھے۔ جگاڑو صاحب کا سالا انگلینڈ میں ر ہتاتھا جس کی وجہ سے یہ بھی سال میں ایک چکر انگلینڈ کا لگا آتے تھے۔ لیکن جب بھی پاکستان آتے ایک پیسہ خرچ کئے بغیر اپنے ڈھیروں کام نکلوا لیتے تھے۔ طریقہ واردات ان کا یہ تھا کہ کسی رکشے میں بھی سوار ہوتے تو رکشے والے سے گفتگو شروع کر دیتے اور پوچھتے کہ آخر تم انگلینڈ کیوں نہیں چلے جاتے؟ رکشے والا اپنی مجبوری بتاتا تو اسے باور کراتے کہ یہ کوئی مشکل کام نہیں تم بس اپنا پاسپورٹ تیار کرو میں تمہیں انگلینڈ لے کر جاؤنگا۔ رکشے والا اسی بات پراتنا خوش ہوتا کہ جگاڑو صاحب سے کرایہ بھی وصول نہ کرتا۔ ہم کئی دوست گواہ ہیں کہ جگاڑوصاحب نے محض بول بچن کے بل بوتے پر مفت کھانے کھائے، مفت سفر کیا اورتحائف وصول کیے۔ رشتے دار پُر امید رہتے تھے کہ اب کی بار انکے بیٹے کو یہ انگلینڈ ضرور لے جائینگے۔ بھائی صاحب وعدے بھی پکے کرتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ خود انگلینڈ چلے جاتے تھے تو بعد میں رشتے دار انہیں جی بھر کر کوستے، برا بھلا کہتے تھے اور آئندہ انکی باتوں میں نہ آنے کا عہد کرتے تھے۔تاہم جب یہ واپس آتے اورپھر سے رشتے داروں کو نئی اُمید دلاتے تو سب کا’جذبہ حب الدشمنی‘ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا اور دوبارہ سے دعوتیں شروع ہوجاتیں۔یہ ہردفعہ نئی پخ ڈالتے تھے تاکہ بھرم بنا رہے۔مثلاً جو لوگ ان کے کہنے پر پاسپورٹ بنوا چکے تھے انہیں کریکٹر سرٹیفکیٹ بنوانے کا کہتے تھے، جو کریکٹر سرٹیفکیٹ بنوا چکے تھے انہیں برٹش اسٹائل کی انگلش سیکھنے پر لگا دیتے تھے او رجو یہ سارے کام کرچکے ہوتے انہیں رازداری سے بتاتے کہ آپ کے خاندان کا کوئی بندہ ایمبیسی کو مسلسل خط لکھ رہاہے کہ اس بندے کو اپنے ملک میں نہ آنے دیں۔میں نے جگاڑوصاحب کو دس پندرہ سال اسی طرح لوگوں کی خواہشات پر عیش کرتے دیکھا لیکن ایک بھی بندہ وہ ساتھ لیکر نہیں گئے۔ اب وہ انگلینڈ کے مستقل رہائشی ہیں لیکن پاکستان آتے رہتے ہیں۔حیران کن طور پر روپیہ پیسہ ہونے کے باوجود وہ اُسی طرح لوگوں کو سبز باغ دکھاتے ہیں اور کھابے انجوائے کرتے ہیں۔ بقول ان کے، اب لوگ زیادہ جلدی جھانسے میں آ جاتے ہیں کیونکہ اکثریت مزیدجاہل ہوچکی ہے۔
٭ ٭ ٭
لوگ بہت نازک مزاج ہوتے جارہے ہیں۔برسوں کی دوستیاں چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے بڑے جھگڑوں میں تبدیل ہوکر ٹوٹ رہی ہیں۔ آپ سوشل میڈیا پر کرائم اسٹوریز دیکھیں تو اندازہ ہوتاہے کہ انتہائی معمولی بات کیسے خوفناک واردات میں تبدیل ہوگئی۔ شائد اسی لیے ہر جگہ حلقہ احباب بھی محدود ہوتا جارہاہے۔ اب لوگ عموماً کھلے بندوں نہیں بیٹھتے۔ سب کے اپنے اپنے مزاج کے چند دوست ہیں جن کے ساتھ وہ دل کی ہر بات کرلیتے ہیں۔اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ سیاست بھی ہے۔ مختلف مزاج کے دوست جب ایک محفل میں اکٹھے ہوتے ہیں تو یہ ناممکن ہے کہ سیاست پر گفتگو نہ ہو۔ پھر کوئی ایک دوست کسی سیاسی پارٹی کے بارے میں نامناسب جملہ کہتا ہے اور دوسری طرف سے بھی گولہ باری شروع ہوجاتی ہے۔یوں بیٹھے بٹھائے چند لمحوں میں دوستی دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ ایک دفعہ میرے محبوب دوست یاسر پیرزادہ سے کسی نے سوال کیا کہ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ کے بہت کم دوست ہیں۔ یاسر پیرزادہ نے کیا خوب جواب دیا کہ دوست تو ہوتے ہی کم ہیں۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں خالص دوست میسر ہیں۔ایسے دوستوں سے اختلاف بھی ہوتاہے، تو تو میں میں بھی ہوجاتی ہے لیکن دوستی ختم نہیں ہوتی۔ہر اعتراض، ہر ناراضی چند گھنٹوں بعد اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔یہی دوستی کی پہچان ہے۔دوست ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے اور نہ رہنا چاہیے۔دوستی کا باعث کوئی ضرورت بن جائے تو اگلامیدان خودغرضی کا ہوتاہے جسکی کوئی حد نہیں۔ ان تمام لوگوں کو مبارک جن کے محدود دوست ہیں لیکن لامحدود کشادہ دلی رکھتے ہیں۔جہاں دوستیاں پکی ہوتی ہیں وہاں شکوے کچے ہوتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب کسی کتاب کی تقریب رونمائی ہوتی ہے، جب کوئی ادبی فنکشن ہوتاہے تو اس کے پیچھے کتنی محنت ہوتی ہے۔ جو بھی لوگ اس کا انتظام کرتے ہیں ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہوئی ہوتی ہیں۔یہ پوسٹرز بنواتے ہیں، ہال کی بکنگ کرواتے ہیں، آڈینس کو لیکر آتے ہیں اور پروگرام کے بعد ا سکے تشہیری سلسلے پر کام شروع کر دیتے ہیں۔ یہ نہ ہوں تو شہر میں ادبی تقریبات بھی نہ ہوں۔ مرزا یاسین بیگ بھی اسی قسم کے جنونی انسان ہیں۔ بے لوث اورمحبت سے بھرپور ہیں اس لیے شہر میں کوئی نہ کوئی تقریب سجائے رکھتے ہیں۔ عطاء الحق قاسمی صاحب انہیں ادبی تقریبات کے گرو کا خطاب دے چکے ہیں۔ سچ پوچھیں تو مرزا صاحب ٹوٹتے ہوئے ادبی سلسلے کو جوڑنے کے لیے متحرک ہیں۔یہ اپنے دوست احباب کو ساتھ ملاکر مختلف محفلیں بپا کرتے ہیں اورادیبوں شاعروں کوجوڑنے کا سلسلہ بنائے رکھتے ہیں۔ میں نے انہیں تقریبات میں خود مزدوروں کی طرح کام کرتے دیکھاہے لیکن یہ ان کا شوق ہے لہٰذا ان کے چہرے پر کبھی تھکن کے آثار بھی نہیں دیکھے۔مسکراہٹ اور عاجزی سے بھرپور یہ انسان ہرایک سے جھک کر ملتاہے۔لوگ تقریبات میں آتے ہیں، بیٹھتے ہیں، تقریب انجوائے کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتاکہ ایک کامیاب تقریب کے پیچھے کتنے لوگوں کی شب بیداری ہوتی ہے، کتنی تھکن ہوتی ہے اور کتنے تفکرات ہوتے ہیں۔ایک ایک لمحے کاخیال رکھنا پڑتاہے بلکہ بعض اوقات تو لوگوں کو بلانے کیلئے بھی منتیں ترلے کرنے پڑتے ہیں۔اس کے باوجود ایک کامیاب تقریب بہت سے نئے مخالف بھی پیدا کردیتی ہے کیونکہ کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ کوئی شکوہٰ آہی جاتاہے۔مرزا یاسین بیگ جیسے ان تھک محنتی انسان کے لیے بہت سی داد کہ یہ لاہورجیسے شہر میں اپنی سرکاری مصروفیات کے باوجودکتابوں، شاعروں اور ادیبوں کیلئے وقت نکالتے ہیں اور انہیں عزت بخشتے ہیں۔