دہشتگردی پاکستان بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختو نخوا کے امن و استحکام کیلئے ایک سنگین چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر چہ ریاستی ادارے دہشتگرد عناصر کے خلاف مسلسل کار روائیاں کر رہے ہیں اور سیکورٹی فورسز نے بے شمار قربانیاں دیکر انکے عزائم کو ناکام بنایا ہے تا ہم حالیہ واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنگ ابھی اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچی۔ ایسے حالات میں سیاسی اور عسکری قیادت کا یکساں موقف اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار یقیناََ حوصلہ افزا ہے لیکن اس عزم کو مؤثر پالیسیوں اور جامع حکمت عملی میں ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بلوچستان پاکستان کے جغرافیائی اور دفاعی مفادات کا مرکز ہے اور قدرتی وسائل، ساحلی پٹی اور علاقائی تجارت کے اعتبار سے بھی غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہاں امن وامان متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات قومی معیشت، سرمایہ کاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اعتماد پر بھی اثر اندازہوتے ہیں۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دہشتگردی کو بیرونی سر پرستی سرحد پار محفوظ ٹھکانوں اور جدید ذرائع سے تقویت ملتی رہی ہے۔ ایسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مؤثر سفارتکاری، مضبوط سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور علاقائی تعاون ناگزیر ہیں۔ پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے بھی مسلسل یہ مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنا ہو گا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف اس کی اپنی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہوگا۔ کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی اختلافات قومی سلامتی کے معاملات پر اثر انداز نہ ہوں اور تمام ریاستی ادارے سیاسی قوتیں اور عوام ایک صفحے پر رہیں۔ شہدا کی قربانیاں اسی صورت بار آور ثابت ہوں گی جب ان کے خون سے حاصل ہونے والے عزم کو مستقل قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ماضی میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کیلئے مزید مربوط، ہمہ جہت اور دیر پا اقدامات کئے جائیں۔ اگر قومی عزم، مؤثر حکمت عملی اور عوامی تعاون یکجار ہیں تو وہ دن دور نہیں جب دہشتگردی کا ناسور ہمیشہ کیلئے دفن ہو اور پاکستان امن، استحکام اور ترقی کی منزل کی جانب مزید اعتماد کے ساتھ بڑھ سکے۔اس سلسلے میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت مکمل یکسوئی کے ساتھ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے۔ آخری فسادی دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ دشمن پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور گزشتہ برس معرکہ حق میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے خائف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں صد ہائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر بلو چستان شیخ جعفر خان مند و خیل، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا ء اللّٰہ تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا ء اللّٰہ اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔
دوسری جانب منگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشتگردانہ واقعات کے تسلسل میں پاک فوج، ایف سی اور بلوچستان پولیس کا”آپریشن شعبان“جاری ہے۔ سیکورٹی حکام کی جانب سے جو تفصیلات بیان کی گئیں اس کے مطابق سیکورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج کے26دہشتگردوں کو6اور 7 جولائی کو جہنم واصل کیا گیا جبکہ اس آپریشن کے 5روز کے دوران مجموعی79الخوارج دہشتگرد جہنم واصل کئے جا چکے ہیں۔ آپریشن شعبان کے دوران دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں فتنہ الخوارج کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جا چکا ہے۔ زمینی اور فضائی ایکشنز کے ذریعے اس فتنے کے ٹھکانوں پر متعدد کارروائیاں کی گئی ہیں اور مزید17خارجی دہشتگرد جہنم واصل ہوئے ہیں۔ سیکورٹی حکام کے مطابق آپریشن شعبان کے علاوہ جمعہ کی صبح خضدار زیدی کے علاقے میں دہشتگردوں کا پولیس اسٹیشن پر حملہ بھی پسپا کیا گیا۔ فوج اور ایف سی کی اس برق رفتار کارروائی میں 8دہشتگردوں کی ہلاکت کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ 5سے 6مزید دہشتگردوں کے ہیلی کاپٹر آپریشن میں مارے جانے کی بھی تصدیق ہوچکی ہے۔ دریں اثنا کرک اور کوہاٹ پولیس نے مشترکہ طور پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے کمانڈر زاہد گروپ کے4 دہشتگرد ہلاک کئے۔ ڈی پی او کرک عمران چترالی کے مطابق کرک اور کوہاٹ پولیس نے مشترکہ طور پر خٹک ڈیم اور کرک کوہاٹ بارڈر کے علاقے میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس کے دوران دہشتگردوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی اور پولیس نے اس کا مؤثر جواب دیا۔ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی، صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاک فوج، ایف سی اور بلوچستان پولیس کے دہشتگردوں کیخلاف مشترکہ آپریشن شعبان کی ستائش کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ہماری فورسز ہر خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف پراکسی عناصر کو استعمال کرنیوالے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے، قومی عزم ہر سازش سے زیادہ مضبوط ہے، وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ اسی طرح وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیکورٹی فورسز کی جرأت و بہادری کی تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن میں 79 دہشتگردوں کو ہلاک کرنا فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک فورسز اور قوم کے پختہ عزم میں کمی نہیں آئے گی۔ ہم ملک سے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ کر ہی دم لیں گے۔