• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقتدار کی عمارتیں ہمیشہ مخالفین کے حملوں سے نہیں گرتیں، بعض اوقات ان ستونوں کی کمزوری بھی انہیں ہلا دیتی ہے جن پر وہ کھڑی ہوتی ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کو دیکھ کر یہی احساس ابھر رہا ہے کہ حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ اپنے اتحادیوں کو مطمئن رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔

چند روز قبل اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب پاکستان پیپلز پارٹی کے تین سینئر ارکانِ قومی اسمبلی سے ملاقات ہوئی۔ تینوں کئی مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں، پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے قریبی ساتھی ہیں اور اہم سیاسی فیصلوں میں ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ رسمی گفتگو ختم ہوئی تو ایک سینئر رہنما نے مسکراتے ہوئے کہا،’’ہم حکومت میں بھی ہیں اور حکومت سے باہر بھی۔‘‘میں نے اس بات کی وضاحت چاہی تو انہوں نے کہا،’’قومی اسمبلی میں ہمارے تہتر ارکان ہیں۔ موجودہ حکومت کے قیام میں ہمارا کردار بنیادی تھا، لیکن ہماری پارلیمانی پارٹی کے بہت سے ارکان شکوہ کرتے ہیں کہ انہیں اپنی سیاسی حیثیت کے مطابق کردار نہیں ملا۔ کئی ارکان یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے حلقوں کے مسائل مطلوبہ رفتار سے حل نہیں ہو رہے اور ترقیاتی ترجیحات میں بھی وہ اہمیت نہیں مل رہی جسکی توقع تھی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا،’’پارٹی کے کارکنوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ حکومت میں ہماری شراکت زیادہ مؤثر ہوگی، لیکن ایسا محسوس نہیں ہو رہا۔ ہر سیاسی جماعت چاہتی ہے کہ ایک دن اس کا قائد وزیراعظم بنے۔ ہمارے کارکن بھی بلاول بھٹو زرداری کو اس منصب پر دیکھنا چاہتے ہیں مگر اس حوالے سے کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آتی، اس لیے بے چینی بڑھ رہی ہے۔‘‘ان کے ساتھ بیٹھے دیگر ارکان نے بھی ان خیالات سے اتفاق کیا۔ اگرچہ کسی نے حکومت گرانے کی بات نہیں کی، لیکن سب کا کہنا تھا کہ اتحادیوں کے تحفظات کو نظر انداز کرنا سیاسی ماحول پر اثر ڈال سکتا ہے۔اسی دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بعض بیانات پر تنقید بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث رہی۔ متعدد مبصرین نے اسے محض ایک وقتی اختلاف کے بجائے اتحادی سیاست میں موجود تناؤ کی علامت قرار دیا۔

دوسری جانب حکومتی اتحاد کا ایک اہم ستون ایم کیو ایم پاکستان بھی ہے۔ قومی اسمبلی میں اس کی 22 اور سندھ اسمبلی میں 37نشستیں ہیں، لیکن سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پارٹی اس وقت اندرونی اختلافات اور قیادت کے معاملات پر دباؤ کا شکار ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق مختلف حلقے پارٹی میں زیادہ مؤثر کردار چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ اتنی نمایاں پارلیمانی نمائندگی کے باوجود وفاق میں محدود وزارتیں اور سندھ میں اقتدار سے دور رہنے کی وجہ سے ایم کیو ایم اپنے سیاسی وزن کے مطابق کردار حاصل نہیں کر سکی۔

اگرچہ حکومت سے علیحدگی کی کوئی بات سامنے نہیں آئی، لیکن اس اتحادی جماعت کے تحفظات کو نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی تجزیہ نگار موجودہ سیاسی بے چینی کو صرف اپوزیشن کی سرگرمیوں کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ حکومتی اتحادیوں کی توقعات اور تحفظات کو بھی اس کا اہم سبب قرار دیتے ہیں۔

البتہ تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو وزیراعظم شہباز شریف نے ایسے وقت میں حکومت سنبھالی جب معیشت شدید مشکلات میں تھی، عالمی مالیاتی دباؤ بڑھ رہا تھا اور سفارتی و داخلی چیلنجز بھی کم نہ تھے۔ گزشتہ برسوں میں حکومت نے معاشی استحکام، سرمایہ کاری، برآمدات اور عالمی سطح پر پاکستان کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان پالیسیوں پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ حکومت نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔اسی طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور علاقائی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مضبوط بنانے کیلئے بھی اہم اقدامات کیے گئے۔ بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کو ریاستی استحکام کیلئے اہم سمجھا جاتا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے بھی مختلف قومی اور علاقائی بحرانوں کے دوران حکومت کا مؤقف ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں مؤثر انداز میں پیش کیا۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن ان کی اطلاعاتی حکمت عملی کو نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔

اسی لیے یہ کہنا شاید زیادہ درست ہوگا کہ موجودہ سیاسی شور کی اصل وجہ حکومتی کارکردگی سے زیادہ اتحادی سیاست کی پیچیدگیاں ہیں۔ پارلیمانی جمہوریت میں ہر اتحادی جماعت اپنے سیاسی وزن کے مطابق کردار، نمائندگی اور فیصلہ سازی میں شمولیت چاہتی ہے۔ جب یہ احساس پیدا ہو کہ اس کی توقعات پوری نہیں ہو رہیں تو شکوے بھی جنم لیتے ہیں اور انہی شکووں سے سیاسی قیاس آرائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کے لیے یہی وقت سیاسی بصیرت کے امتحان کا ہے۔ اگر کابینہ میں ردوبدل یا توسیع زیر غور ہے تو اسے صرف وزارتوں کی تبدیلی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینا، ان کی جائز سیاسی توقعات کو سننا اور انہیں فیصلہ سازی میں زیادہ مؤثر کردار دینا حکومت کے استحکام کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

جمہوریت صرف اکثریت کے نمبروں سے نہیں چلتی، بلکہ اعتماد، شراکت اور باہمی احترام سے چلتی ہے۔ اگر اتحادی جماعتیں خود کو حکومت کا حقیقی شریک محسوس کریں گی تو سیاسی بے چینی بھی کم ہوگی اور غیر ضروری قیاس آرائیاں بھی دم توڑ دیں گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اپنی انتظامی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی اتحاد کو بھی پہلے سے زیادہ مضبوط بنائیں۔ اگر وہ اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو حکومت نہ صرف زیادہ مستحکم ہوگی بلکہ اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی پوزیشن بھی مزید مضبوط کر لے گی۔ کیونکہ مضبوط حکومت صرف اچھی کارکردگی سے نہیں بلکہ مطمئن اتحادیوں سے بھی تشکیل پاتی ہے، اور موجودہ سیاسی منظرنامہ شاید یہی سب سے اہم سبق دے رہا ہے۔

تازہ ترین