• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حالات حاضرہ کی پلیٹ کبھی خالی نہیں ہوتی سنسنی خیز گرما گرم خبروں سے بھری رہتی ہے ۔خبروں کا ڈھیر ہے ہائی پروفائل خبریں سنسنی خیزی سے بھری خبریں،ہنگامہ خیز خبریں وغیرہ وغیرہ ۔

ایران امریکہ کے درمیان جنگ کے بھڑکتے شعلے کب ٹھنڈے ہوؤں گے، خلیج تنازع میں پیٹرول کی قیمتوںکے سمندر میں مدو جزر دنیا کی بھاری معیشتوں سے لے کر عام آدمی کی ہلکی جیب اور بھاری زندگی کی کمزور معیشت مزید ڈانواںڈول۔چین کی اپیلیں الگ ہیں کہ بند کر دو جنگ اور مسئلے سلجھاؤ معیشت پر توجہ دو امن کو ایک موقع دو ۔

سنسنی خیز خبروں سے اور ہائی پروفائل خبروں کے ڈھیرمیں مجھے ایک خبر ایسی بھی دکھائی دی جو اسی ہفتےنظر سے گزری اور میرے احساس میں ایک ہلچل مچا گئی۔

اس دن کے بعد بھی بہت سی ہائی پروفائل خبریں نظر سے گزرتی رہیں مگر نہ جانے کیوں آج جب ہفتے کا اکلوتا کالم لکھنےبیٹھی تو وہی خبر دھم سے چھلانگ لگا کر میرے سامنےآگئی۔

یوں تو وہ یک کالمی خبرایسی ہے جو خبروں کے کسی قطار ، شمار میں نہیں آتی ،ایسی خبریں اخبار کے اندر کسی صفحے کے کسی کونے کھدرے میں دم سادھے پڑی رہتی ہیں ۔

سیاست اور معیشت کے گرد گھومتی ہائی پروفائل خبروں کے درمیان وہ نمانی سی خبربالکل ایسے ہی تھی جیسے دولت مندوں کی محفل میں کوئی غریب شخص چلا آئے اور اپنی بے وقعتی کے احساس میں مسلسل جلتا رہے۔

لاہور کے ایک پوش علاقے میں زیر تعمیر پلازے کے دسویں فلور سے گر کر مزدور جا ں بحق ہو گیا مزدور کی عمر 20 سال تھی ۔ آخری لائن یہ تھی کہ اس کے آبائی شہر میں لاش بھجوا دی گئی ہے۔اللّٰہ اللّٰہ خیر سَلّا !

خبر میں 20 سالہ نوجوان مزدور کا کوئی نام درج نہیں بس وہ ایک مزدور ہے ایسا ہی مزدور جو چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں کی طرف رزق کمانے آتے ہیں اور خواب اور رزق کے اس پتھریلے راستے میں کہیں اپنی جان ہار جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کا نام خبر میں درج بھی کر دیا جائے تو کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے ۔میں جب بھی غریب ِشہر کی حسرتوں اور نارسائی کی اور اسکی زندگی کے ایسے رنج آمیز حسرت بھرے انجام کی خبر پڑھتی ہوں تو مجھے بے ساختہ منو بھائی یاد آجاتے ہیں ۔

منو بھائی جس احساس کی بھٹی میں سلگتے ہوئے غریب ِشہر کی ایسی یک کالمی خبروں پر کالم باندھتے تھے وہ انہی کا خاصہ تھا وہ لفظ نہیں دل نکال کر کالم کی سطرسطر میں پرو دیتے۔کالم پڑھنے والا قاری جب اس احساس کی اسی تار پر آکرتحریر پڑھتا، تحریر اس کے دل پر بیت جاتی۔

’’جنگل اداس ہے‘‘ منو بھائی کے ایسے ہی سلگتے ہوئےکالموںکا ایک مجموعہ ہے۔ کالم کیا ہیں غریب شہر کی زندگی کے نوحے ہیں غریب آدمی کی زندگی کے ایسے ہی احساس بھرے کالموں نے انہیں منو بھائی بنایا تھا بعد ازاں وہ مختلف طرز کےکالم لکھنے لگے تھے مگر ان کی پہچان وہی کالم رہے جس میں وہ کالم لکھتے ہوئے ایک ماں کا وجود اوڑھ لیتے تھے، یہ ہنر بھی انہیں ایک تکلیف سے ادھڑی ہوئی ایک ماں نے ہی سکھایا تھا جو شہر کے اس جنگل میں اپنے گمشدہ بچے کو ڈھونڈتی اخبار کے دفتر میں خبر لکھوانے آئی تھی بچے نے سفید شلوار قمیض پہن رکھا تھا ماں نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا کہ ہفتے بھر سے اس نے کپڑے نہیں بدلے سفید شلوار قمیض اب میلا ہو گیا ہوگا ۔

منو بھائی کے اندر کا کالم نگار احساس کے اس زاویہ نگاہ پر ٹھٹک کر رہ گیا بعد ازاں وہ اسی ماں کا وجود اوڑھ کر سماج کے روندے ہوئے غریب مسکین کے دکھوں کی کہانی اپنے کالم میں بیان کرتے رہے ۔ منو بھائی ہوتے تو ان کی نظر اس یک کالمی خبر پر ضرور پڑتی، وہ ضرور اس نوجوان کا نوحہ لکھتے ۔ اس ایک نوجوان کا نوحہ تو ایک علامت ہوتا اس طرح کے لاکھوں نوجوان اس ملک میں زندہ ہیں اور نہ جانے کیسے کیسے نارسا خوابوں کے ڈھیر پر اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں ایسے غریبوں کیلئے حکومتوں کی کوئی پالیسی نہیں بنتی۔

20 سال کا نوجوان کسی مضافاتی شہر سے اپنا مستقبل بنانےکیلئے خوابوں اور خواہشوں کے شہر لاہور آیا تھا مگر اس کی خواہشوں اور خوابوں سے بھری ہوئی 20سالہ مختصر زندگی کا اختتام کس قدر دردناک ہوا۔

میں سوچتی ہوں کہ 20سالہ نوجوان کا زندگی سے تہی سرد وجود جب اس کےمضافاتی شہر کے خستہ حال مکان پر پہنچا ہوگا تو اس کی ماں پر کیا گزری ہوگی؟ اس نے شہر والوں کے بارے میں کیا سوچا ہوگا کہ شہر والے اتنے ظالم ہیں، پتہ نہیں اس کے بیٹے سے ایسی کون سی مزدوری کرواتے رہے کہ وہ جان ہی گنوا بیٹھا! وہ اربوں کروڑوں کا پلازہ تعمیر کرتے ہوئے اپنی انمول زندگی کھو بیٹھا یقینا ً دسویں فلور کی تعمیر کیلئے جو حفاظتی اقدامات درکار ہوں گے وہ نہیں کیے گئے ہوں گے اسی وجہ سے ایک 20 سالہ نوجوان زیر تعمیر کام کے دوران گرا اور جاں بحق ہو گیا۔

ایسے پلازوں کے مالکان اور ان کے تعمیراتی ٹھیکے داروں پر بھی کوئی قانون لاگو ہوتا ہے؟ قوانین یقیناً ہوں گے لیکن ان قوانین کو نافذ کرنے کیلئے ریاست کے پاس جو اخلاقی جرات اور طاقت ہونی چاہیے وہ دکھائی نہیں دیتی۔کیونکہ اس ریاست میں موجود اہل اختیار اپنی مرضی اور حساب سے قانون کو اپنے حق میں موڑ لیتے ہیں ان حالات میں انصاف کی مجال ہے کہ سانس بھی لے سکے۔ پلازہ تعمیر کرنے والا مالک اور ٹھیکے دار ایسے مزدوروں کے قاتل ہیں جو بغیر حفاظتی اقدامات کے غریب نوجوانوں سے مزدوری لیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی حرج مرج کی صورت میں چند لاکھ دے کر خاندان کو چپ کروا دیا جائے گا، وہ کسی قانونی چکر میں نہ پڑیں اور وہ کسی قانون کو کسی ریاست کی عدالت میں جواب دہ نہیں ہوں گے ۔

عدالتیں بھی وہ جہاں انصاف ملتا نہیں بکتا ہے، جہاں بلدیہ فیکٹری آتش زدگی کے اندوہناک سانحے کے مجرموں کو کئی سال کے مقدمے کے بعد ناقابل تردید شواہد کی موجودگی اور مجرموں کے اعترافی بیانات کےبعد بھی باعزت بری کر دیا جائے وہاں غریب اور بے کس شہری کیلئے انصاف کی امید رکھنا کڑوےنیم کے پیڑ پر میٹھےآم اُگانے کی توقع رکھنے جیسا عبث ہے!

تازہ ترین