• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے چند ہفتوں میں امریکہ اور عالمی منظر نامےپر کچھ ایسے اہم واقعات رونما ہوئے جن کے اثرات صرف امریکی سرزمین تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک جانب شمالی امریکہ میں منعقد ہونیوالے عالمی فٹ بال ٹورنامنٹ نے کھیل کے میدان میں نئی تاریخ رقم کی، دوسری طرف ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کے خاتمے نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بارپھرجنگ کی طرف دھکیل دیا،جبکہ امریکی سیاست کے قدامت پسند حلقوں کو اس وقت بڑا دھچکا پہنچا جب ریپبلکن پارٹی کے سینئر سینیٹر لنڈزے گراہم اچانک انتقال کر گئے۔ ان تینوں واقعات کا باہمی تعلق اگرچہ براہِ راست نہیں، لیکن یہ عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری کے بدلتے رجحانات میں اہمیت رکھتے ہیں۔ شمالی امریکہ میں کھیلا جانے والا عالمی ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے اہم ثابت ہوا ہے۔ امریکہ میں جہاں روایتی طور پر امریکی فٹ بال، بیس بال اور باسکٹ بال کو زیادہ مقبولیت حاصل رہی ہے، وہاں فٹ بال کے مقابلوں میں غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرے رہے، مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں شائقین نے میچز کا رخ کیا اور مجموعی طور پر ٹورنامنٹ کے انتظامات کو کامیاب قرار دیا گیا۔اس مرتبہ فیفا ورلڈ کپ میں امریکی ٹیم کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی۔ میزبان ملک کی ٹیم جب اچھی کارکردگی دکھاتی ہے تو مقامی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، اور یہی منظر اس بار بھی دیکھنے میں آیا۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ شمالی امریکہ میں فٹ بال کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور آئندہ برسوں میں یہ کھیل امریکہ میں مزید مقبول ہو سکتا ہے۔ بڑے کھیلوں کے ایونٹ کی طرح اس ٹورنامنٹ میں بھی چند تنازعات سامنے آئے۔ بعض میچوں میں ریفری کے فیصلوں پر اعتراضات کیے گئے، امریکی کھلاڑی فولارن بیلوگن کے ریڈ کارڈ کی واپسی اور مصر ارجنٹائن میچ سمیت چند فیصلوں پر تنقید ہوئی ،تاہم آج فائنل کے دن تک یہ ایونٹ انتہائی کامیاب رہا اور منتظمین نے نہ صرف بڑے پیمانے پر شائقین کی آمد کو مؤثر انداز میں سنبھالا بلکہ کئی بلین ڈالرز کا ریونیو بھی حاصل کیا۔

کھیل کے اس مثبت ماحول کے برعکس عالمی سیاست میں صورتحال زیادہ دیر پرامن نہ رہ سکی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان قائم ہونے والی عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی بڑھ گئی۔ فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں اور خطے میں نئی جنگی سرگرمیوں نے عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل ، گیس کی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔اس جنگ بندی کے خاتمے کی مختلف وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق ایران کے اندرونی سیاسی اختلافات یا مختلف ریاستی اداروں کے درمیان پالیسی کے تضادات نے مذاکراتی عمل کو کمزور کیا۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سفارتی میدان میں نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل ہونے کے بعد تہران نے زیادہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا، جبکہ بعض حلقے اسے امریکی قیادت خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی حکمت عملی کیلئے ایک چیلنج کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

بعض ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں اور عالمی اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سے بعض کاروباری اور مالیاتی مفادات بھی وابستہ ہوتےہیں، واضح رہے جنگ اور امن دونوں کے اپنے اپنے معاشی اثرات ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مسلسل کشیدگی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہوتی۔ بالآخر جنگیں مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ اسی لیے بہت سے سفارتی ماہرین اب بھی امید رکھتے ہیں کہ وقتی کشیدگی کے باوجود مستقبل میں دونوں ممالک دوبارہ کسی نہ کسی مذاکراتی عمل کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔

تیسرا اہم واقعہ امریکی سینیٹ کے بااثر ریپبلکن رہنما لنڈزےگراہم کی اچانک وفات ہے۔ وہ پارٹی کے سینئر سینیٹر اور صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی شمار کیے جاتے تھے اور امریکی خارجہ پالیسی میں سخت مؤقف رکھنے والے رہنماؤں میں ان کا نمایاں مقام تھا۔ اسرائیل کی حمایت، ایران کے خلاف سخت رویے، یوکرین جنگ کے حوالے سے روس پر دباؤ بڑھانے اور چین کے ساتھ امریکی تجارتی تعلقات پر ان کے واضح خیالات انہیں امریکی سیاست میں ایک مؤثر آواز بناتے تھے۔ان کی اچانک وفات کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف سازشی نظریات گردش کرنے لگے، جن میں روس اور ایران کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا۔ تاہم اب تک کسی بھی سرکاری تحقیق یا مستند شواہد نے ان کو زہر دیے جانے کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔ ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق ان کی وفات دل کی رگوں میں خون رسنے کے باعث ہوئی، جبکہ حتمی طبی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ان تینوں واقعات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو یہی منظر نامہ سامنے آتا ہے کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں کھیل، سفارتکاری، جنگ اور سیاست ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ امریکہ میں ایک طرف فٹ بال کا کامیاب عالمی ایونٹ ملک کی مثبت عالمی شناخت اور بین الاقوامی وقار کو اجاگر کرتا دکھائی دیا، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ بھڑکتی کشیدگی نے ثابت کیا کہ جنگ کا ایک فیصلہ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور کروڑوں انسانوں کی زندگیوں تک پہنچتے ہیں۔ اسی دوران امریکی سیاست کی ایک اہم شخصیت کا اچانک منظر سے ہٹ جانا یہ یاد دلاتا ہے کہ افراد بدلتے رہتے ہیں، جبکہ ریاستیں اپنے مفادات کے مطابق پالیسیاں آگے بڑھاتی رہتی ہیں ، اِسی پس منظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اسرائیل کے حوالے سے دیا گیا بیان بھی خاصا معنی خیز ہے۔ آنیوالے دنوں میں دنیا کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ آیا طاقت کے مراکز تصادم کی راہ اختیار کرتے ہیں یا سفارتکاری کو ایک اور موقع دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں، مگر ان کی قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرتا ہے۔

( صاحبِ مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں)

تازہ ترین