• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

​ ہسپتال کے سرد خانے سے برآمد ہونے والی لاشیں محض جسم نہیں ہوتیں، یہ اس معاشرتی شکست کے دستخط ہوتے ہیں جنہیں ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک طویل عرصے سے خاموشی کے ساتھ قبول کر لیا ہے۔ گجرات کے عزیز بھٹی شہید ہسپتال کے ٹراما سینٹر کی ڈائری میں جون کے مہینے کے جو اعداد و شمار درج ہیں، وہ محض کاغذ کے بے جان ٹکڑے نہیں، بلکہ ایک خوفناک تہذیبی انتباہ ہیں۔ صرف ایک ہسپتال کی حدود میں خودکشی کی کوشش کے چون (54) واقعات اور دس قیمتی جانوں کا ضیاع تو محض نوکِ پلک ہے۔زمینی حقائق یہ ہیں کہ اسی ایک ماہ کے دوران گجرات بھر میں یہ تعداد ایک سو پینتیس (135) سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار کسی سرکاری گوشوارے کا حصہ نہیں، بلکہ یہ اس اجتماعی وجودی بحران کی دل دہلا دینے والی گونج ہے جس نے ہمارے معاشرتی دھاگوں کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب کوئی فرد اپنی ہستی کو مٹانے کا فیصلہ کرتا ہے، تو وہ محض اپنی سانسوں کا تسلسل نہیں توڑتا، بلکہ وہ اس معاشرتی معاہدے کو مسترد کر رہا ہوتا ہے جو اسے جینے کا جواز فراہم کرنے کا پابند تھا۔ یہ خودکشی نہیں، بلکہ یہ اس نظامی گمراہی کا المناک نتیجہ ہے جہاں ریاست اور سماج نے انسان کو ایسی بند گلی میں دھکیل دیا ہے، جہاں اسے اپنی ہی کہانی کا غیر ضروری اور بوجھل کردار محسوس ہونے لگتا ہے۔

​نظامِ حکومت اور نظم و نسق کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ترقی کو صرف کنکریٹ کے ڈھانچوں، سڑکوں اور پلوں تک محدود کر لیا ہے۔ کیا ریاست کا کام صرف لاشیں اٹھانا اور ان کے اعداد و شمار مرتب کرنا ہے؟ نہیں۔ نظم و نسق کا اصل جوہر اپنے شہریوں کے ذہنی سکون اور ان کے ’امید کے بیانیے‘ کی حفاظت کرنا ہے۔ ہسپتال کے شعبہ حادثات میں آنے والے خودکشی کے کیسز دراصل ہمارے نظام کی پیشانی پر لگے ہوئے وہ داغ ہیں جو چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنے شہریوں کو جینے کا حوصلہ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام نوجوانوں کو ’کامیابی کی اندھی دوڑ‘ کیلئے تو تیار کرتا ہے، مگر انہیں ’شکست کی قبولیت‘ کا حوصلہ دینا بھول چکا ہے۔​گجرات کے مقامی تناظر میں دیکھیں تو یہاں کی زرخیز زمین اور صنعتی پس منظر کے باوجود، سماجی نفسیات میں عجیب سا جمود در آیا ہے۔ ایک دور تھا جب خاندانی نظام ایک مضبوط قلعہ ہوا کرتا تھا، جہاں دکھوں کی تقسیم کا عمل خود بخود ہوتا تھا۔ آج، مشترکہ طرزِ رہائش کے خاتمے نے فرد کو تنہا کر دیا ہے۔ معاشی بدحالی کے اس دور میں، غریب کا خودکشی کی طرف مائل ہونا صرف نفسیاتی مسئلہ نہیں، یہ معاشی استحصال کا ردعمل ہے۔ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بنے ضلعی ارباب اختیار اور ریاست کو کم از کم اس قدر سماجی تحفظ فراہم کرنا ہوگا کہ ایک عام شہری کو یہ احساس رہے کہ وہ اس معاشرے میں ایک معزز وجود ہے۔ ہم ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں مادی ترقی نے اخلاقیات کی جڑیں کاٹ دی ہیں۔اس بحران سے نکلنے کیلئے ہمیں ایک کثیر الجہت حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ضلعی سطح پر ایسے بحرانی مراکز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے جو شدید ذہنی دباؤ کی بروقت تشخیص کر سکیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے جب تنہائی کے مارے افراد کیلئے مددگار ہیلپ لائنز اور کمیونٹی کونسلنگ کو فعال کیا، تو شرحِ خودکشی میں نمایاں کمی آئی۔ ہمیں بھی اپنے تعلیمی اداروں میں ’جذباتی لچک‘ اور ’ذہنی صحت‘ پر مبنی ورکشاپس کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔ اساتذہ، والدین اور دوستوں کو ایک ایسی سماجی ڈھال بننا ہوگا جو فرد کو تنہائی کی تاریکی میں گرنے سے پہلے تھام لے۔ مقامی سطح پر ایسے کمیونٹی سپورٹ گروپس کی تشکیل ناگزیر ہے جو تنہائی کے شکار افراد کو سماجی دھارے میں لانے کے ساتھ ساتھ انہیں بروقت مشاورت فراہم کریں۔ میڈیا کو بھی سنسنی خیزی کے بجائے سدِ باب اور آگاہی کی مہمات کو ترجیح دینی ہوگی تاکہ معاشرے میں ہمدردی کے کلچر کو فروغ مل سکے۔

​ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ زندگی کی رمق کو دوبارہ جگانے کیلئے ’ہمدردی کے ثقافتی کلچر‘ کی تعمیر نو ناگزیر ہے۔ یہ تب تک ممکن نہیں جب تک ہم اعداد و شمار پر سیاست کرنے کے بجائے ان کے پیچھے چھپے انسانی المیوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ زندگی ایک امانت ہے، اور جب اس پر زوال آئے تو یہ پورے معاشرے کا اجتماعی گناہ ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی انا اور مفادات سے اوپر اٹھ کر زندگی بچانے کے اس اجتماعی عہد کی تجدید کرنا ہوگی، کیونکہ جس معاشرے میں موت کو فوقیت حاصل ہو جائے، وہاں نظامِ حیات کے پہیے رک جاتے ہیں۔

​ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کا سب سے بڑا انقلاب کسی بندوق سے نہیں، بلکہ کسی مایوس انسان کے کندھے پر ہاتھ رکھنے اور اسے یہ کہنے سے آتا ہے کہ’’تمہاری اہمیت ہے، تم اکیلے نہیں ہو۔‘‘ یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم اس خاموشی کے زہرکا تریاق تیار کر سکتے ہیں۔ آئیے، اس سے پہلے کہ یہ زہر مزید گھروں کے چراغ گل کرے، ہم اپنے اندر دردمند انسان بیدار کریں۔ اگر ہم نے آج عزیز بھٹی ہسپتال کے ان واقعات پر خاموشی اختیار کی، تو کل یہ آگ ہمارے اپنے آنگن تک پہنچ سکتی ہے۔ زندگی کا حق ہر کسی کا ہے، اور اسکی پاسداری ہی ہماری تہذیب کی بقا کی آخری ضمانت ہے۔ ہمیں باور کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسے معاشرے کے وارث ہیں جہاں انسانی جان کا تحفظ سب سے بڑی عبادت ہے۔ جب ہم اس نظریے پر کاربند ہوں گے، تبھی ہم مایوسیوں کے اندھیروں کو امید کی روشنی میں بدل سکیں گے۔ تبدیلی کیلئے ہمیں صرف ایک قدم اٹھانا ہے ایک دوسرے کو سننا شروع کرنا ہوگا۔ یہی ہماری بقا کا حتمی راستہ ہے۔

تازہ ترین