• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معروف سائنسدان آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ مسائل کا حل وہی تلاش کرتے ہیں جو مسلسل سوالات اٹھاتے رہتے ہیں۔ اسی لئے پاکستانی معاشرہ بہتر بنانے کیلئے ہم یہ کردار ادا کرتے رہیں گے۔ کراچی کے گل پلازہ میں آتش زدگی کے نتیجے میں 73بیگناہ لوگ شہید ہوگئے تھے، مگر پولیس نے انتہائی اہم کاغذات تفتیشی فائل سے غائب کر دیئے ہیں۔ کیوں ؟اسطرح تو اصل مجرم سزا سے بچ جائیں گے اور گھناؤنے جرائم جاری رہیں گے۔ کیا پولیس کی اس حرکت کے پیچھے رشوت کے علاوہ بھی کوئی محرِک ہو سکتا ہے ؟

آسٹریلیا میں خوش و خرم سیٹلڈ فیملی میری طرح پاکستان کی محبت میں اپنے ملک آئی تو والدین کی آنکھوں کے سامنے چکوال پولیس نے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے 9 سالہ معصوم بچی کو بُھون ڈالا۔ کیا متعلقہ اہلکارکو سخت سزا دی جائے گی؟

چند سال قبل ساہیوال میں شادی میں شرکت کیلئے جانیوالے بےضرر میاں بیوی کی کار روک کر پولیس نے ان کی 7 سالہ بچی کے سامنے دونوں کے سینے میں درجنوں گولیاں اتار دیں۔ جب متعلقہ ایس پی سے صحافیوں نے پوچھا کہ برقع پوش فرشتہ سیرت خاتون اور داڑھی و محراب والے ولی اللّٰہ قسم کے شخص کو گولیاں مارنے کا حکم کیوں دیا، تو اس نے غیر ذمہ دارانہ جواب دیا کہ کسی ادارے نے انکودہشت گرد سمجھتے ہوئے ایسا کرنے کو کہا تھا۔ کیا ایس پی، پوسٹ مین ہوتا ہے؟ یہ تو ڈاکیے کا کام ہے کہ اِدھر کا خط اُدھر پہنچا دے۔ جبکہ ایس پی پر لاکھوں روپے خرچ کر کے اسے مکمل ٹریننگ دی جاتی ہے اور پانچ سال تک کروڑوں تنخواہ دینے کے بعد اے ایس پی سے پروموٹ کیا جاتا ہے۔ اسلئے اگر کسی نے کہا تھا تو بھی ایس پی کا فرض تھا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ججمنٹ اور طریقہ کار استعمال کرتا۔ اِس ظالمانہ کارروائی کا ذمہ دار کوئی اور نہیں وہ خود ہے۔اِس نااہل ایس پی کو سخت سزا دی جاتی تو مستقبل میں پولیس اہلکار احتیاط کرتے۔

ایک اور نااہل پولیس آفیسر کی دلچسپ کہانی سنیے۔ فرزندِ علامہ اقبال، جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی حیثیت سے 91سال کی عمر میں وفات پائی۔ انکی عمر کے آخری حصے میں جاوید اقبال نامی ایک وکیل کے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس بننے کی خبر آئی تو اُس زمانے کے گلبرگ لاہور کے ایس پی نے جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال کو فون کھڑکا دیا کہ سَر آپ ہائی کورٹ کے جسٹس بن گئے ہیں تو میں آپ کے پروٹوکول کیلئے پولیس پارٹی بھیج دوں؟ یہ واقعہ ڈاکٹر جاوید اقبال نے دو انتہائی اہم شخصیات کی موجودگی میں خود سنایا تھا۔ صورتحال کے دائیں بائیں غور کرنے کی بجائے صرف نام کی مماثلت سے ایسا کرنا ایس پی کی نااہلی کی انتہا نہیں کیا؟ اُسکے دیگر پیشہ ورانہ فیصلے بھی کیا اتنے ہی ناقص نہیں ہونگے ؟

پاکستان کے مختلف کونوں سے آئے دن خبریں آتی ہیں کہ پولیس کی کسٹڈی میں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے مارے گئے۔ کیا کوئی ایسے لوگ ہیں جو واقعی یہ یقین کر لیتے ہوں کہ ان ملزمان کی قاتل پولیس نہیں ؟

بغیر ہیڈ لائٹ کے انگنت موٹر سائیکلیں لاہور کی سڑکوں پر ہیں۔ میں نے ایک سے زیادہ دفعہ انکو رات کے وقت ایکسیڈنٹ کرتے دیکھا ہے۔ ٹریفک پولیس کا فرض نہیں کہ ایسی موٹر سائیکلوں کو اسی وقت سڑک کے کنارے بند کر دے؟لاہور پولیس کے رویے کی تازہ مثال میرے ساتھ یکم جولائی کی شام پیش آئی۔ بارش رُکی ہی تھی کہ سہانے موسم سے لطف اندوز ہونے کیلئے مَیں سڑک کے بائیں کنارے پانی اور پھسلن سے بچتے ہوئے آہستہ آہستہ چہل قدمی کر رہا تھا۔ اچانک پیچھے سے آئی ایک موٹر سائیکل دھڑام سے میری دائیں سائیڈ سے ٹکرا کر رکی اور دوسری موٹر سائیکل سامنے سے کٹ مار کر اسطرح رکی کہ اس نے پہلی بائیک کیساتھ 45 درجے کا زاویہ بنایا۔ یوں تھانہ سول لائینز کے ان چار سپاہیوں نے مجھے نرغے میں ایسے لیا کہ جیسے میں ڈاکو یا دہشت گرد ہوں۔ انہوں نے رشوت کیلئے غیر متعلقہ سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ جواباََ’’ میں نے صرف ایک سوال پوچھا: مجھے روکنے کی وجہ کیا ہے؟ جواب نہ پا کر میں نے کہا کہ اگر آپ نے وجہ نہ بتائی تو قانوناً میں آپکے کسی سوال کا جواب دینے کا پابند نہیں، اور جتنا کمزور آپ مجھے سمجھ رہے ہیں میں اتنا کمزور نہیں، اس لیے آپ مجھے مزید ہراساں نہیں کر سکتے۔ میں ابھی یہاں سے جاکر دکھاؤں گا۔ جب ان رشوت خوروں کو یقین ہو گیا کہ اس معرکے سے ایک روپیہ بھی نہیں مِلنا تو انہیں منہ لٹکا کر واپس جانا پڑا‘‘۔

اگر کیپٹل سٹی لاہور میں باشعور افراد کیساتھ یہ ہو سکتا ہے تو چھوٹے شہروں اور دیہات کے گاؤں میں سادہ لوح عوام پر جعلی کیسِز بنا کر اور ڈرا دھمکا کر پولیس کتنی رشوت لیتی ہوگی؟ کم از کم لاہور کو کسی قابل افسر کے حوالے نہیں کیا جا سکتا کیا؟

دوسری طرف لیسکو کی نااہلی کی انگنت مثالیں ہیں مگر غوروفکر کی خاطر صرف ایک مثال ہی لیجیے۔ مزنگ کے علاقے میںافواہ ہے کہ غریب علاقوں کی بجلی رشوت لیکر امیر علاقوں کو دے دی جاتی ہے، اسی لیے ہر رات سونے کے وقت متعدد بار مزنگ میں غیر علانیہ لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ حالانکہ سونے کے وقت تو ایک منٹ بھی بجلی غائب نہیں ہونی چاہئے!

تازہ ترین