سیاسی دنیا اور تحقیقی دنیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ شروع ہی میں عرض کیا جاتا ہے کہ سیاست دان کا حقیقی معنی پالیسی ساز ہوتا ہے، اس معنی و مقصد کو عوام سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں نہ سیاست دان۔ سچ یہی ہے پالیسی ساز/ سیاست دان فنڈز اور قوتِ فیصلہ کے حامل ہوتے ہیں اور محققین علوم اور دانائی و بینائی کا ذخیرہ ۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے ان دونوں کا ہم سفر اور ہم نوا ہونا ضروری ہے۔
تحقیق سے پالیسی سازی تک کا سارا سفر بیوروکریسی کیلئے جتنا اہم اور ضروری ہے اتنا شاید ہی اور کسی کیلئے ہو۔ جب سے دنیا گلوبل ولیج اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و آرٹیفیشل انٹلیجنس کی کسوٹی پر آئی ہے تب سے پیراڈائم شفٹ عروج سے معمول کی ڈگری پر ہے۔ صوبوں کی وزارتیں ننانوے فیصد بیوروکریسی چلاتی ہے۔ پنجاب کی حد تک تو صوبائی چیف ایگزیکٹو براہ راست سول سرونٹس سے روابط میں ہے۔ جہاں تک وفاق کا تعلق ہے وہاں پر فنانس سے خارجہ تک ہی نہیں دیگر وزارتوں، اداروں، کمیشنز اور بورڈز کے امور اور پالیسیاں سیاسی قیادت ، وزیروں اور مشیروں کو بھی دیکھنا پڑتے ہیں بہرحال بیوروکریسی کی جانب سے مدد اور کاغذ پتر کا خیال یقیناً ہے۔ گویا مرکز میں سیاسی لیڈرز کو میڈیا، تحقیقی جرائد، مختلف سروے، عالمی تناظر اور عالمی اداروں کو بھی محقق کی نظر سے دیکھنا پڑتا ہے۔ یہ دیکھنا یا سمجھنا بہرکیف جوئے شیر لانے کے مترادف ہر گز نہیں کیونکہ اپنی اسائنمنٹ اور حکومتی و سیاسی و سماجی امور کو دیکھنے کیلئے جدتیں اور آلات کے سنگ ٹیکنوکریٹس موجود ہیں۔
وزراء، صنعتی امور اور معاشی کامیابیوں کی مثلث کو تحقیق و تفتیش، تصدیق و تاریخ اور بین الاقوامیت کی عینک سے دیکھیں تو پہلا دھیان جرمنی ، دوسرا امریکی ڈارپا DARPA اور سلیکون ویلی کی طرف جاتا ہے علاوہ بریں برطانوی پالیسی سازوں کی تازہ ترین (2019/ 2020ء) مینجمنٹ کی طرف بھی دیکھنا پڑے گا۔ اسی تناظر میں سنگا پور اسمارٹ نیشن ماڈل سے بھی سیکھنے کی ضرورت ہے جیسے ہم چائنہ سے سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
1۔ تحقیق و تفتیش کا زاویہ کہتا ہے سیکھنے کے عمل کا مائنڈ سیٹ بھی بدلنا ضروری ہے۔ متذکرہ ممالک میںتحقیق کو ماضی کےعلمی ورثہ ، ریڈنگ مواد کو صرف درس و تدریس تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ اکنامک انویسٹمنٹ کے طور سے لیا جاتا ہے۔جرمنی(فرانہوفر ماڈل) اور سنگاپور(اسمارٹ نیشن ماڈل)کے تفتیشی پہلو پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ریسرچر کو محض اس بات پر فنڈز نہیں ملیں گے کہ وہ بس پیپر چھاپنے پر محدود رہےاس سے مقامی انڈسٹری کے حل یا حکومتی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے متعلق پوچھا جائے گا۔ ایک دلچسپ برطانوی مینجمنٹ کی رہنمائی بھی لے لی جائے کہ 2020 میں کورونا بحران کے دوران پالیسی سازوں نے تحقیق کی روایتی سرخ فیتہ شاہی کو بالائے طاق رکھ کرآکسفورڈ محققین کو براہِ راست تحقیق سے جوڑا کہ بیوروکریٹک اسپیڈ بریکر منزل تک پہنچنے میں وجہ تساہل نہ بنے۔
2۔ جہاں تک تصدیق اور تاریخ کا نقارہ ہے اسکے مطابق عالم کا کوئی بھی صنعتی انقلاب ہویا ٹیکنالوجیکل بریک تھرو یہ صرف پرائیویٹ شعبے یا اوپن مارکیٹ کی مرضی سے وجود نہیں پاتا حقیقتاً اس کے پس منظر میں مربوط ریاستی سرپرستی ہوتی ہے۔
ایک نظر امریکہ کی ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی DARPA کی سچائی کی تصدیق اورسلیکون ویلی کی حقیقت پر کہ کسی سرمایہ دار کی ذاتی سعی سے قبل امریکی محکمہ دفاع (DARPA) کی مالیاتی اور اسٹرٹیجک فنڈنگ کا ثمر تھا۔ اہلِ نظر جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ، جی پی ایس اور سیمی کنڈکٹر چپس تاریخی اعتبارسےڈیفنس ضروریات کےتحت بنے۔ انکی کمرشلائزیشن اور معاشی انجن بننے کا مرحلہ بعد میں آیا۔ کہہ لیجیے کہ ریاست نے ابتدائی طور پر یہ رسک لیا اورپرائیویٹ یا کارپوریٹ سیکٹر نے بعد میں لطف اٹھایا۔ دوربینی اور خوردبینی تجزیہ کہتا ہے کہ سنگاپور کی تاریخ و تصدیق تب چمکی جب ملائیشیا سے علیحدگی ہوئی اور سنگاپور پینے کے پانی تک سے محروم تھا۔ ان چیلنجز کے پیش نظر لی کوان یو نے نوکر شاہی پر فوکس اور انحصار کرنے کے بجائے سیدھا سیدھا یونیورسٹی کے ہائیڈرولوجی اور واٹرٹیکنالوجی کے ریسرچرز کو تیار کیا یوں سنگاپور میں آج واٹر ری سائیکلنگ اور اسمارٹ واٹر مینجمنٹ کا عالمی ریکارڈ بولتا اور نقارہ بجتا ہے۔
3. انٹرنیشنل پہلوؤں سے دیکھیں تو یہ راز کھلتا ہے کہ صلاحیتوں کا سرحدیں پار کرنا فطری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جومعیشت اور سائنس کے مقابلے اور افادیت کیلئے دریچے کھلے رکھتا ہے وہ عروج پاتا ہے۔چین نے اس فطرت سے دو دہائیاں سیکھا اور اب نئے چینی ماڈل سے انٹرنیشنلزم میں مزید آگے بڑھ رہا ہے۔ جیسا کہ فوربس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سائنسدان عمر یاغی جیسے نوبل انعام یافتہ کا برکلے چھوڑتے ہوئے بیجنگ میں شنہوا یونیورسٹی کی طرف قدم بڑھانا مصنوعی ذہانت اور میٹیریل کیمسٹری کے عالمی مقابلے میں امریکہ سا عروج لانے کی طرف سفر ہے۔ اور ادھر پاکستان ریسرچ اور یونیورسٹیوں میں انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کیلئے کشش کیا بنتا الٹا برین ڈرین چل رہا ہے۔ اور چاہئے ہمیں برین گین۔سوچ یہ کہہ رہی ہے کہ گلوبل ولیج میں امریکہ کا مقابلہ سخت سے سخت ترین ہوتا جا رہا ہے ، اور ہم کہاں جا رہے ہیں؟
گولڈن ٹرائی اینگل ( مثلث/ تکون) میں 1۔حکومتی وزارتوں ، 2۔قومی تعلیمی اداروں پلس ریسرچ سینٹرز اور 3۔صنعتی شعبے کا سانچا جانا سو فیصد ضروری ہے۔ یہی سنگاپور اسمارٹ ماڈل’’گھومتا ہوا دروازہ پالیسی‘‘ثابت کرتاہے کہ علم اور پائیدار تحقیق میں اگر امریکہ بھی اپنے ہاں متذکرہ تکون میں خلیج لائے گا تو کئی نوبیل انعام یافتہ مغرب سے اُڑ کر سنگاپور اور چائنہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ عمر یاغی کے حوالے سے بھی کچھ خلیج پیدا ہونے اور قدر و منزلت فراموش کرنے کے تحفظات ٹاک آف دی ٹاؤن بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ہم برین ڈرین روکنے یا برین گین لانے کیلئے کیا پاپڑ بیل رہے ہیں؟ کیا پاکستانی وزرا اور سیاست دان اس مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دورمیں حقیقی پالیسی ساز کا روپ دھار نے کیلئے تیار ہیں؟