• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوم شہدائےکشمیر و قرار دادِ الحاق پاکستان

کم و بیش ایک صدی قبل کا واقعہ ہے۔امروہہ (یو پی) کا عبدالقدیر ایک انگریز سیاح کے ہمراہ سرینگر آیا۔26جون 1931ءکو مسجد شاہ ہمدان میں مسلمانوں کے پہلے بڑے سیاسی اجتماع میں،جس میں 50ہزار کے قریب مسلمانوں نے شرکت کی ، مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف باغیانہ تقریر کرنے کی پاداش میں گرفتار کرلیاگیا اسکے خلاف سرینگر جیل میں مقدمہ کی سماعت ہو رہی تھی13جولائی1931ء کومسلمان سرینگر جیل کے صدردروازے پر کھڑے ہو کرمقدمےکی کارروائی دیکھنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کر رہے تھے اس تکرار میںڈوگرہ حکومت کے مجسٹریٹ نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے گولی چلانے کا حکم دے دیا ۔ظہر کی نماز کے وقت ایک نوجوان نے اذان دینا شروع کی توگولی چلا کراسےشہید کر دیا گیالیکن دوسرے نوجوان نے اذان جاری رکھی اسے بھی شہید کر دیا گیا۔یوں ایک کے بعد ایک جوان شہید ہوتا گیا اذان کی تکمیل تک 22 کشمیری نوجوان جام ِ شہادت نوش کر گئے۔جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک کایہ اتنا اہم واقعہ ہے کہ 95 سال گزرنےکے باوجود جوش و خروش سےیوم شہدائے کشمیر کے طورپر منایا جاتا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پرشیخ محمد عبداللّٰہ جامع مسجد پہنچے تو ایک شہید نے اپنی آخری سانس لیتے ہوئے کہا کہ ـ شیخ صاحب! ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا اب آپ اپنا فرض ادا کریںـ ۔

ا سی شام شیخ عبداللّٰہ، چوہدری غلام عباس،خواجہ غلام نبی گلکار ، سردارگوہر رحمنٰ اور دیگر کشمیری راہنماؤں کو گرفتارکر لیا گیا۔ 1932میں جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں لایا گیا اس کے پہلے صدر شیخ محمد عبداللّٰہ اور سیکریٹری جنرل چوہدری غلام عباس تھے پوری ریاست میںکشمیر کی آزادی کی تحریک کو پذیرائی حاصل ہوئی، کشمیریوں کی زبان پر آزادی کے ترانے مچلنے لگے۔ جواہر لال نہرو اورشیخ عبداللّٰہ کے درمیان گاڑھی چھنتی تھی اورشیخ عبداللّٰہ کانگریس کے قوم پرستی کے نعرے سے متاثر تھے انہوں نے کانگریس کے ایجنڈے سے متاثر ہو کر 1938ء میں مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس کا نیا نام دے دیا لیکن آزادی کے ایشو پر شیخ عبداللّٰہ اور چوہدری غلام عباس زیادہ دیر اکھٹے نہ چل سکے۔ شیخ عبداللّٰہ کا جھکاؤ ہندوستان کی طرف تھا انہوں نےبھدر واہ جیل سے مہاراجہ ہری سنگھ کو ریاست جموں و کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کے حق میں خط لکھ دیا جسکے بعد چوہدری غلام عباس نےشیخ عبداللّٰہ کی پالیسی کی کھلم کھلا مخالفت کی۔23مارچ 1940ء میں لاہور میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تو1941ء میںچوہدری غلام عباس نے مسلم کانفرنس کا احیا کر کے اسکی قیادت سنبھال لی اور تحریک آزادی کشمیر کوتحریک پاکستان کا حصہ بنادیا ۔کشمیر میں مسلم کانفرنس عملاً مسلم لیگ کا دوسرا نام تھا ۔ 26جون1944ء کو سرینگر میں مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس سےصدارتی خطاب کرتے ہوئے چوہدری غلام عباس نے کہا ’’ غلام عباس ! ہندوستان کے 10کروڑ مسلمانوں کی ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں ‘‘۔ 19 جولائی 1947ء کو سری نگر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل کے اجلاس میں قرار داد الحاق پاکستان منظور کی گئی اس تاریخی قرار داد میں کہا گیا کہ’’ جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے تین راستے ہیں 1- ریاست کابھارت سے الحاق 2 - ریاست کا پاکستان سے الحاق 3- کشمیر میں ایک آزاد و خود مختار ریاست کا قیام۔مسلم کانفرنس اس نتیجے پر پہنچی ہے جغرافیائی ، اقتصادی ، لسانی وثقافتی اور مذہبی اعتبار سے ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہایت ضروری ہے کیونکہ ریاست کی آبادی کا 80 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، پاکستان کے تمام بڑے دریاوں کا منبع وادی کشمیرہے اور ریاست کے عوام بھی پاکستان کے عوام کے ساتھ مذہبی ، ثقافتی اور اقتصادی رشتوں میں مضبوطی کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اس لئے ضروری کہ ریاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ کیا جائے‘‘ مہاراجہ ہری سنگھ سے کشمیری عوام کو داخلی خود مختاری دینے کا مطالبہ کیا گیا کہ دفاع، مواصلات اور امور خارجہ کے محکمے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے سپرد کئے جائیں مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل کے اجلاس میں منظور کردہ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ اگر ریاست کا الحاق ہندوستان کی دستور سازاسمبلی سے کیا گیا تو کشمیری عوام اس فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔قیام پاکستان کے ایک ہفتہ بعد23اگست1947کونیلہ بٹ (درکوٹ) کے مقام پر ہزاروں افراد نے قرآن پاک پر حلف اٹھایا اور مہاراجہ ہری سنگھ کے فیصلےکیخلاف جہاد کااعلان کر دیا اس اجتماع میں23 سالہ نوجوان سردار محمد عبد القیوم خان نے آزادی کشمیر کیلئے عسکری جدو جہد کا آغاز کیا،نیلہ بٹ میں مہاراجہ ہری سنگھ کے فیصلے کیخلاف بندوق اٹھانے پرسر دار محمد عبد القیوم خان کو ’’مجاہد اول ‘‘کا خطاب دیاگیا، قبائلی لشکرجموں و کشمیر کی آزادی کی جنگ میں سرینگر کے قریب پہنچ گئے اگر انہیں واپس نہ بلایاجاتاتو آج کشمیر کا نقشہ بالکل مختلف ہوتا۔اس تحریک کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر اور شمالی علاقہ جات کا 32 ہزارمربع کلومیٹر کا علاقہ آزاد کرایا گیا جو اس وقت پاکستان کی دفاعی لائن ہے، بھارت نے کشمیر بارےاقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ کیا تومایوس کشمیری جوانوں نے بھارتی تسلط کے خاتمےکیلئے بندوق اٹھا لی کم وبیش ایک لا کھ کشمیری اپنی جانوںکےنذرانےپیش کر چکے ہیں۔19جولائی1947کی قرارداد ہی سلامتی کونسل میں ہندوستان کے مقدمے کے خلاف پاکستان کے مضبوط موقف کی بنیاد رہی ہے۔سردار محمد ابراہیم خان نے اس قرارداد کو بنیاد بنا کر اقوام متحدہ میں کشمیر میں استصواب رائے میں قرار دادیں منظورکرائیں ۔ہر سال 19 جولائی یوم الحاق پاکستان کے طور پرمنایا جاتا ہے اور دنیا کو اس دن کی اہمیت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اسے اتفاق کہیں یا کچھ اور کہ کشمیری عوام کے حقوق کیلئےچلائی جانے تحریک میں الحاق پاکستان پر یقین رکھنے والے عناصر اس حد تک کمزور نظر آتے ہیں کہ ان کے احتجاج میں پاکستان کا پرچم تک نظر نہیں آتا۔معاشی و انتظامی مسائل کے حل کیلئے چلائی جانے والی تحریک نے سیا سی رنگ اختیار کر لیا ہے ۔تحریک میں پاکستان اور بھارت کو ایک پلڑے میں تولا جانے لگا ہے،تحریک کے رہنماؤں کی تقاریر بیگانوں جیسی ہیں۔ سردست 21 جولائی2026ء تک مظفر آبادکی طرف مارچ ملتوی کر دیا گیا ہے کالعدم عوامی تحریک ’’فیس سیونگ‘‘ چاہتی ہے اگر لانگ مارچ ملتوی نہ ہوا توخدانخواستہ کشمیر میں کوئی المیہ جنم لے سکتا ہے ۔

تازہ ترین