• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران امریکہ جنگ دوبارہ زور شور سے شروع ہوچکی ہے۔دونوں نے ایک دوسرے پر مفاہمتی یاداشت سے انحراف کے الزامات عائد کیے ہیں جبکہ در حقیقت یہ خلاف ورزی امریکہ کی جانب سے کی گئی ہے۔ نتیجتاً پاکستان اور قطر کی ثالثی سے طے مفاہمتی یاداشت فریقین نے اعلانیہ ختم کر دی ہے ۔ ایسا تو ہونا ہی تھا کیونکہ امریکہ نے محض اسرائیل کے کہنے پر ایران پر حملہ نہیں کیا جس کے لئے چار دہائیوں سے "شیطن یاہو" کوششیں جاری رکھے ہوئے تھا۔ بطور اسرائیلی سفارت کار سےوزیراعظم کے عہدے تک وہ سب امریکی صدور کو اپنے منصوبے پر قائل کرنے میں ناکام رہا۔ بالآخر صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں وہ ٹرمپ کو اپنے منصوبے پہ قائل کر کے ایران پر حملہ کرنے پر آمادہ کر سکا۔ صدر ٹرمپ کی کاروباری ذہنیت کے پیشِ نظر " شیطن یاہو" نے ٹرمپ کے داماد اور معتمد خاص دوست کو معاشی ترغیب سے قابو کیا۔ غزہ اور لبنان کی تعمیرِ نو، لینڈ ڈیولپمنٹ اور سیاحتی ریزورٹ بنانے کے ایسے پُرکشش اور دلفریب خواب دکھائے کہ غزہ جنگ ختم کرنے کے وعدے پر انتخاب جیتنے والے ٹرمپ چاروں شانے چت ہو گئے۔ موصوف کو غزہ کی تعمیرِ نو کے لئے جو حل بتائے گئے وہ ناممکن تھے،انہیں بتایا گیا کہ اس ناممکن کو ممکن بنانے میں واحد رکاوٹ ایران ہے جس کی قیادت ختم ہوتے ہی حکومت سے متنفر ایرانی بغاوت کر دیں گے اور ملک میں فسادات بھڑک اٹھیں گے۔ خانہ جنگی اور انتشار کی صورتِحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ایران کے پانچ ٹکڑے کر کے اپنے وفاداروں کو ان کی باگ ڈور تھما دی جائے گی، پھر امریکہ اور اسرائیل کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہونگی۔

صدر ٹرمپ کا ایرانی جزیرے خارگ پر قبضے کا منصوبہ 38سال پرانا ہے جس کا تذکرہ ان کی کتاب میں بھی ہے۔ جزیرہ خارگ کے ٹرمینلز سے ایران کی تیل و گیس کی 96فیصد برآمدات ہوتی ہیں جس میں سے زیادہ تر تیل چین جاتا ہے۔ یوں یہ جزیرہ ایران کی معیشت کا نہ صرف دل ہے بلکہ اس پر امریکی قبضہ چین پر دباؤ ڈالنے کے لیے مؤثر اور کارگر بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی وار گیمز یعنی خیالی جنگی مشقوں میں آبنائے ہرمز بند ہونے کے اندیشے اور واضح امریکی شکست کے خوف سے ماضی میں کسی امریکی صدر نے ایران پر حملہ کرنے کا خطرہ مول نہیں لیا لیکن ٹرمپ 38 سال سے خارگ پر قبضے اور اس کے تیل و گیس سپلائی پر نظریں گاڑے بیٹھے تھے اس لئے "شیطن یاہو "کو انہیں راضی کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے ٹول ٹیکس لگانے پر کئی ممالک کی آمادگی سے ٹرمپ کو کمائی کرنے کا ایک نیا راستہ نظر آگیا ۔ وہ آبنائے ہرمز پر قبضہ کر کے خود ٹول لینا چاہتے ہیں،اس لئے کبھی اس کا اعلان کر تے ہیں اور کبھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ دراصل ہرمز سے ممکنہ ایرانی ٹول ٹیکس 100ارب ڈالر سالانہ تک ہو سکتا ہے جو کسی مغربی ملک یا امریکہ سے برداشت نہیں ہوپا رہا۔ نیٹو کے خلاف ہونے کے باوجود ٹرمپ ترکیہ میں نیٹو کے اجلاس میں بڑبڑاتے، شکایتیں کرتے شامل ہوئے کیونکہ انہیں ہرمز پر قبضہ رکھنے کے لئے نیٹو کی ضرورت ہے اور جس کے لئے ابھی سے آپس میں حصّے طے کئے جائیں گے ۔یاد رہے کہ نیٹو کا عسکری کمانڈر اِن چیف ایک امریکی حاضر سروس جرنیل ہوتا ہے۔اچانک ٹرمپ کی دلچسپی غزہ اور لبنان سے ہٹ کر خارگ اور آبنائے ہرمز کی جانب مبزول ہو گئی ہے کیونکہ ہرمز پر ٹول کی وصولی کے ٹھیکے، کمیشن، کک بیک میں ٹرمپ کا بھی خاطر خواہ حصّہ ہو گا۔ مبینہ طور پر حالیہ ایران جنگ میں اسٹاک مارکیٹ اتار چڑھاؤ، تیل کی ایڈوانس بکنگ، کرپٹو کرنسی میں زبردستی کی سرمایہ کاری سے ٹرمپ اور ان کے خاندان کے اثاثوں میں قریبا ًنو ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ اپنے کاروباری معاملات میں ایک ناکام بزنس مین ہیں، ان کے بیشتر منصوبے ناکامی کا شکار ہو کر خود کو دیوالیہ کروا چکے ہیں جبکہ وہ خود بینک ڈیفالٹر ہیں اور 270 ملین ڈالر کے قرض بھی معاف کروا چکے ہیں۔ ان پر بینکوں سے فراڈ کا الزام 2024میں عدالت میں ثابت ہوا جس پر انہیں 354ملین ڈالر کا ہرجانہ ہوا تھا۔ تاہم اپیل میں ہرجانہ زیادہ ہونے کی بنیاد پر ختم کر دیا گیا جبکہ فراڈ کا جرم قائم ہے اور ٹرمپ کا 175ملین ڈالر بطور زر ِضمانت عدالت میں جمع ہے۔ صدر ٹرمپ کا واحد کامیاب کاروبار "امریکی صدارت" ہے جس کی بدولت وہ دونوں ہاتھوں سے جائز ناجائز مفادات سمیٹ رہے ہیں۔ جب تک وہ حکومت میں ہیں چالیں چل کر، امریکی عوام کو سبز باغ دکھا کر، جھوٹی امیدیں دلا کر، جھوٹ بول کر، ایران جنگ جاری رکھیں گے۔ جب تک ایران میں امریکی فوجی نہیں اترتے ،انہیں جانی نقصان نہیں پہنچتا ٹرمپ دنیا کو گھڑیال کی طرح ایک جانب سے دوسری جانب جُھلاتے رہیں گے۔ اُدھر ایران امریکہ تک رسائی نہ ہونے کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے امریکی اتحادی ممالک کو نشانہ بناتا رہے گا حتیٰ کہ پورا خطہ اس جنگ میں عملاً شامل ہو جائےگا۔ البتہ صدر ٹرمپ، "شیطن یاہو" اور ان کے حواری "روم" جلتے دیکھ کر بانسری بجاتے، مال بناتے، عربوں،امریکیوں اور اسرائیلیوں کو بے وقوف بناتے رہیں گے۔ درحقیقت دنیا کی واحد سپر پاور اب ہر طریقے سے رو بہ زوال ہے کہ ہمیشہ کا عروج تو صرف ذات ِباری تعالیٰ کا ہے۔

اسرائیلی" سیمسن آپشن" کا بہت ڈھونڈرا پیٹتے ہیں لیکن حقیقتاً انہیں اپنی جانیں اس قدر پیاری ہیں کہ وہ اپنی ساری زندگیاں زیِر زمین شیلٹرز میں ہی گزار دیں گے جبکہ لگتا ہے کہ اپنے مؤقف پر ڈٹی ایرانی قوم نے اس" سیمسن آپشن" کو اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ کے بھروسے اپنا لیا ہے۔ وہ نہ امریکی حملوں سے خائف ہیں، نہ بجلی گھروں، پلوں اور دیگر تنصیبات کے نقصانات سے۔ ہزاروں سال پرانی تہذیب کی امین، سنجیدہ اور بردبار قوم نے جیسے 47 سال دنیا کے سب نظاموں سے ٹکر لی،پابندیاں جھیلیں، بھرپور سازشوں کا مقابلہ کیا، قیادت کی قربانی دی لیکن جھکی نہیں،بلاآخر وہ باطل کے مقابلے میں سرخرو ہوگی۔انشااللّٰہ! البتہ پاکستان کڑے امتحان سے گزر رہا ہے، اندرونی اور بیرونی محاذ پر بھی۔ پاکستانی قیادت کو اب بہت محتاط ہو کر ایران امریکہ معاملے میں پڑنا چاہئے۔ ایران پر جنگ بندی اور امریکہ سے صلح کے لیے دباؤ ڈالا تو ہماری نیک نیتی کو شک سے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ امریکہ نے تو حسبِ سابق ہمیں بھرپور طریقے سے استعمال کیا اور کسی رو رعایت کے لائق بھی نہ جانا۔ افغانستان سے دہشت گردی کے مصدقہ ثبوت فراہم کرنے کے باوجود انہیں امریکہ 40 ملین ڈالر ہر ہفتے دیتا ہے جبکہ کالعدم بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ میں دہشت گرد قرار دینے کے لیے پاکستان اور چین کی قرارداد کو امریکہ کا ویٹو کرنا اب قابلِ فہم ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان میں دہشت گردی ایک بڑے منصوبے کا حصّہ ہے جس میں امریکہ، ہندوستان، اسرائیل اور ہمارے دوست خلیجی ممالک بھی شامل ہیں۔ علامہ اقبالؒ نےفرمایا: اے ناداں تو اپنے غموں کے علاج کی اُمید اہلِ مغرب سے رکھتا ہے۔ شاہین کا دل اس پرندے کے لئے نہیں پسیجتا جو اس کے پنجے میں جکڑا ہوا ہو۔

؎ترا ناداں امیدِ غم گسار یہاز افرنگ است

دلِ شاہیں نسوزد بہرِ آں مرغے کہ در چنگ

تازہ ترین