• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ ایک عام انسان کی کہانی ہے جو اپنے ایک لاپتہ دوست کو تلاش کرنے گھر سے نکلا تھا لیکن ہزاروں لاپتہ افراد کی کہانیاں ڈھونڈ لایا۔ جب ان کہانیوں نے ریاستی اداروں کے ظلم وستم کو بے نقاب کیا تو اس عام آدمی کو دہشت گردوں کا ساتھی اور دشمن کا ایجنٹ قرار دے دیا گیا۔ پھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس بہادر انسان کی آواز میں آواز ملانا شروع کی تو ایک دن اسے بھی لاپتہ کر دیا گیا۔ ایک ظالم پولیس افسر نے اس بہادر انسان کو گولی مار کر ہزاروں لاپتہ افراد کی کہانیوں کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کی لیکن یہ ایک ماورائے عدالت قتل ظلم کی ہزاروں کہانیوں کو بے نقاب کرنے کا باعث بن گیا۔ طاقتور ریاست نے ظلم کی اس کہانی کو دنیا سے چھپانےکی ہر ممکن کوشش کی لیکن یہ کہانی اب پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ بھارتی حکومت کا خیال تھا کہ دلجیت دوسانجھ کی فلم” ستلج “پر پابندی لگا کر وہ بھارتی پنجاب میں 25 ہزار سے زائد سکھوں کی گمشدگی اور انکے ماورائے عدالت قتل کی کہانیوں کو آنیوالی نسلوں سے چھپالے گی لیکن پابندی نے اس فلم کی مقبولیت میں مزید اضافہ کر دیاہے اور اب بھارت کے گھر گھر میں لوگ یوٹیوب اور فیس بک پر اس فلم کو دیکھ رہے ہیں ۔یہ فلم ایک عام انسان جسونت سنگھ کھالرا کے گرد گھومتی ہے جو ایک بینک میں افسر تھا۔ وہ بھارتی پنجاب کے ضلع ترن تارن کے ایک گاؤں کھالرا کا رہنے والا تھا۔ ایک رات وہ اپنے گھر میں سو رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ اُس نے دروازہ کھولا تو سامنے اُس کے ایک دوست کی گھبرائی ہوئی ماں کھڑی تھی۔ پریشان ماں نے بتایا کہ پنجاب پولیس اسکے بیٹے کو گھر سے پکڑ کر لے گئی ہے۔ کھالرا اپنے اس دوست کا پتہ کرنے قریبی تھانے گیا تو اُس تھانے والوں نے اسکے دوست کی گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کر دی۔ پھر کھالرا اپنے ایک اور دوست پولیس افسر کے پاس مدد کے لیے گیا۔ اُس کے دوست پولیس افسر نے کھالرا کو سمجھایا کہ وہ گھر واپس چلا جائے اور اپنے دوست کی تلاش بند کر دے۔ کچھ دن بعد کھالرا کے لاپتہ دوست کی دکھیاری ماں بھی لاپتہ ہو گئی۔ اب کھالراکی تشویش جستجو میں بدل گئی۔ کافی دوڑ بھاگ کے بعد اُسے معلوم ہوا کہ اسکے دوست کی لاپتہ ماں اپنے لاپتہ بیٹے کی تلاش میں مختلف تھانوں کے چکر کاٹ رہی تھی جب پولیس والوں نے دیکھا کہ یہ بوڑھی عورت اپنے لاپتہ بیٹے کو بھولنےکیلئے تیار ہی نہیں تو انہوں نے اپنا ظلم چھپانے کیلئے اُسے بھی گولی مار دی۔ یہ وہ موڑ تھا جب جسونت سنگھ کھالرا کو پتہ چلا کہ اُسکا لاپتہ دوست بھی ایک جعلی پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے اور جو پولیس والے ان جعلی پولیس مقابلوں کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہیں اُنہیں بھی مار دیا جاتا ہے۔ پھر کھالرا اُس شمشان گھاٹ تک پہنچ گیا جہاں اُس کے لاپتہ دوست کی چتا جلائی گئی تھی۔ شمشان گھاٹ کے ریکارڈ میں ایسے ہزاروں لاپتہ سکھوں کے نام اور ایڈریس موجود تھے جنہیں پنجاب پولیس نے نامعلوم قرار دیکر آگ میں جلا دیا تھا۔ کچھ مزید ثبوت تلاش کرنے کے بعد جسونت سنگھ کھالرا ایک وکیل کے پاس پہنچ گیا تاکہ عدالت کے ذریعے ہزاروں لاپتہ افراد کے خاندانوں کو انصاف دلاسکے۔ اب وہ ہزاروں لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بن چکا تھا۔ وہ اکثر ایسے مظاہروں میں نظر آتا تھا جہاں لاپتہ افراد کی بوڑھی مائیں، بیویاں، بہنیں اور بیٹیاں اپنے لاپتہ پیاروں کی تصویریں ہاتھ میں اٹھائے انصاف کیلئےفریاد کر رہی ہوتیں۔ بھارتی پنجاب کی پولیس کے سربراہ کے پی ایس گل نے کھالرا کو میڈیا پر ملک دشمن قرار دے دیا لیکن کھالرا نے اس الزام کو نظر انداز کر دیا کیونکہ وہ تو برطانوی سرکار کے خلاف جدوجہد کرنیوالے رہنما ہرنام سنگھ کا پوتا تھا۔ اُسے یقین تھا کہ بھارتی سرکار ہرنام سنگھ کے پوتے کو خاموش کرانے کیلئےصرف الزام لگا رہی ہے لیکن حقیقت میں اُس کے ساتھ ملک دشمنوں والا سلوک نہیں کرےگی۔ بھارت کی ایک اعلیٰ عدالت نے جسونت سنگھ کھالرا کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کئی لاپتہ سکھوں کے قتل میں ملوث کچھ پولیس افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دیدیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران پتہ چلا کہ بھارتی حکومت نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر پنجاب پولیس کو جو اختیارات دئیے تھے ان کا ناجائز استعمال کیا جا رہا تھا اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کیا جا رہا تھا تا کہ وہ کسی لاپتہ پیارے کی تصویر اُٹھا کر کسی مظاہرے میں نہ جائیں۔ کئی لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کر کے انکے ساتھ اسلحہ رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا یہ تو دہشت گردوں کیساتھ مارے گئے۔ جب پنجاب پولیس پر تنقید بڑھی تو پھر ایک دن کے پی ایس گل کے حکم پر ایک بدنام زمانہ ایس ایس پی اجیت سنگھ سندھو نے کھالرا کو اُس کے گھر سے اغوا کرا لیا۔ لاپتہ افرادکیلئےآواز اٹھانے والا جسونت سنگھ کھالرا خود ہی لاپتہ کر دیاگیا۔ اجیت سنگھ سندھو نے ایک ٹارچر سیل میں کھالرا سے یہ ڈیل کرنے کی کوشش کی اگر وہ عدالت میں اپنی درخواست واپس لے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا اورپھر وہ کینیڈا جا کر خاموشی سے باقی زندگی گزار سکے گا۔ کھالرا کے سامنے موت کھڑی تھی لیکن اس نے یہ ڈیل کرنے سے انکار کر دیا جسکے بعد اجیت سنگھ سندھو نے اسے کئی دیگر پولیس والوں کے سامنے گولی مار دی۔ کھالرا کو ستمبر 1995ء میں قتل کیا گیا کیونکہ اگر وہ زندہ رہتا تو 1984ء سے 1995ء کے دوران بھارتی پنجاب میں 25 ہزار سے زائد سکھوں کے ماورائے قتل کی کہانیاں سامنے آ جاتیں۔ بھارتی اداکار دلجیت دوسانجھ نے کھالرا کے بارے میں فلم بنائی تو 2023ء میں بھارت کے سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سنسر بورڈ) کے سربراہ پرسون جوشی نے فلم پر 127 اعتراضات کیے۔ فلم کا نام” پنجاب 95“ تھا۔ سنسر بورڈ نے فلم کا نام بدلنے کو کہا تو فلم کا نام”ستلج“ رکھ دیا گیا کیونکہ بہت سے لاپتہ سکھوں کی لاشیں دریائے ستلج سے ملتی تھیں۔ نام بدلنے کے باوجود فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت نہ ملی۔ اس دوران سنسر بورڈ کا سربراہ بدل گیا۔ نئے سربراہ ششی شیکھر ویم پتی نے اپنی نوکری بچانے کیلئے پوری فلم پر ہی پابندی لگا دی۔ اس پابندی کے بعد دلجیت دوسانجھ نے اپنی فلم کی گوریلا لانچنگ کرتے ہوئے اسے سوشل میڈیا پر ریلیز کر دیا۔اُس نے سوشل میڈیا کا سہارا لے کر بھارتی حکومت کے سارے غرور اور دباؤ کو خاک میں ملا دیا۔ دلجیت دوسانجھ کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اسکا اور سکھ قوم کا مستقبل بھارت میں نہیں ہے لہٰذا کچھ عرصہ قبل اس نے امریکی شہریت حاصل کر لی تھی تاکہ بھارتی شہریت سچ کو سامنے لانے کے راستے کی رکاوٹ نہ بنے۔ اس نے اس فلم کے ذریعے پوری دنیا کو بتا دیا کہ قومی سلامتی کے نام پر ایک نیوکلیئر پاور کی پابندیاں اور سنسرشپ سچائی کو کبھی بھی نہیں چھپا سکتیں۔ دلجیت دوسانجھ نے سوشل میڈیا پر اپنی فلم ریلیز کرنے کے بعد بھارتی حکومت سے کہا ہے” لو کر لو اب میری فلم بلاک“- ہو سکتا ہے وہ دوبارہ بھارتی فلموں میں کبھی کام نہ کر سکے لیکن اب وہ امریکا اور کینیڈا میں فلمیں بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تا کہ بھارت میں ظلم کی مزید کہانیاں بے نقاب کرسکے۔ دلجیت دوسانجھ کی بغاوت دنیا میں ایک نئے دور کے آغاز کا پتہ دیتی ہے۔ آنیوالے وقت میں طاقتور ریاستوں کیلئے سنسرشپ کے ذریعے ظلم کی کہانیوں کو چھپانا ممکن نہ رہے گا۔ قومی مفاد کے نام پر جھوٹ پھیلانا اب مشکل ہو چکا۔

تازہ ترین