• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان قدرت کی بے شمار نعمتوں سے مالا مال ملک ہے۔ زرخیز زمین، معدنی وسائل، نوجوان آبادی، چاروں موسم، اسٹرٹیجک جغرافیائی محلِ وقوع اور محنتی افرادی قوت کسی بھی ملک کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے کافی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کئی دہائیوں سے معاشی مشکلات، بےروزگاری، مہنگائی، قرضوںکےبڑھتے ہوئے بوجھ اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ اس کا سادہ مگر مؤثر جواب یہ ہے کہ پاکستان کی تقدیر اس وقت بدلے گی جب ہم اپنی توجہ بیرونی معاملات سے زیادہ اندرونی مسائل کے حل پر مرکوز کریں گے۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جنہوں نے اپنی داخلی بنیادوں کو مضبوط بنایا۔ جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور ملائیشیا جیسے ممالک نے بیرونی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے تعلیم، صنعت، تحقیق، ٹیکنالوجی، اچھی حکمرانی اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کی۔ یہی راستہ پاکستان کیلئے بھی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانےکیلئے سب سے پہلے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے۔ جب حکومتیں بدلنے کے ساتھ پالیسیاں بھی تبدیل ہو جائیں تو سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے ضروری ہے کہ قانون کی حکمرانی، شفافیت، میرٹ اور اداروں کی مضبوطی کو یقینی بنایا جائے۔ ایک مستحکم نظام ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔بدعنوانی اور وسائل کے غیر مؤثر استعمال نے بھی قومی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ احتساب کا ایسا نظام درکار ہے جو بلاامتیاز، شفاف اور قانون کے مطابق ہو۔ جب قومی وسائل درست جگہ استعمال ہوں گے تو ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل ہوں گے، عوام کا اعتماد بڑھے گا اور معیشت مستحکم ہوگی۔

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں لاکھوں بچے آج بھی معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔ ہمیں صرف ڈگریوں پر نہیں بلکہ معیاری تعلیم، فنی تربیت، تحقیق، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنایا جائے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنائیں گے بلکہ قومی معیشت میں بھی بھرپور کردار ادا کریں گے۔

زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر پانی کی کمی، پرانے طریقۂ کاشت، مہنگی زرعی لاگت اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ اگر جدید آبپاشی، بہتر بیج، زرعی تحقیق اور کسان دوست پالیسیاں متعارف کرائی جائیں تو پاکستان نہ صرف اپنی غذائی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ زرعی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔

اسی طرح صنعت، سیاحت، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایسے شعبے ہیں جن میں پاکستان بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو آسان قرضے، ٹیکس میں سہولت اور جدید مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے تو لاکھوں نئے روزگار پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کی کاروباری صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی، اسٹارٹ اپس کی سرپرستی اور ڈیجیٹل معیشت کا فروغ پاکستان کو خطے کی ایک مضبوط اقتصادی قوت بنا سکتا ہے۔

صحت، انصاف اور مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام بھی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔ ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور بااختیار شہری ہی قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے عوامی مسائل کا حل تیز اور مؤثر ہوگا۔

پاکستان کو بیرونی دنیا کے ساتھ متوازن اور مثبت تعلقات ضرور رکھنے چاہئیں، لیکن قومی ترقی کا انحصار صرف بیرونی امداد یا قرضوں پر نہیں ہونا چاہیے۔ اصل طاقت خود انحصاری، برآمدات میں اضافے، مقامی صنعتوں کی مضبوطی اور قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال میں ہے۔ جب ہم اپنی معاشی بنیادیں مضبوط کریں گے تو عالمی سطح پر بھی ہمارا وقار اور اثر و رسوخ بڑھے گا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی یکجہتی کے بغیر ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں، مگر قومی مفاد پر اتفاقِ رائے ہر سیاسی جماعت اور ہر ادارے کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں نفرت، تقسیم اور الزام تراشی کی سیاست سے نکل کر خدمت، برداشت اور قومی مفاد کی سیاست کو فروغ دینا ہوگا۔

آج پاکستان کو کسی معجزے کی نہیں بلکہ اجتماعی عزم، دیانت دار قیادت، مضبوط اداروں، واضح معاشی حکمتِ عملی اور عوامی شراکت کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے اندرونی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا عزم کر لیں، تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، انصاف اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں، اور قومی وسائل کو امانت سمجھ کر استعمال کریں تو پاکستان نہ صرف معاشی بحران سے نکل سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط، خود کفیل اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا میں اپنا مقام مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

پاکستان کی تقدیر ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ جس دن ہم نے قومی مفاد کو ذاتی، جماعتی اور وقتی مفادات پر ترجیح دے دی، اسی دن ترقی، خوشحالی اور معاشی استحکام کا سفر حقیقی معنوں میں شروع ہو جائے گا۔

تازہ ترین