دنیا کی ہر کامیاب جمہوریت کی اصل طاقت صرف پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں نہیں بلکہ ان مقامی حکومتوں میں ہوتی ہے جو عوام کے روزمرہ مسائل ان کی دہلیز پر حل کرتی ہیں۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اگرچہ آئین وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں پر مشتمل تین سطحی نظامِ حکومت کا تصور پیش کرتا ہے، لیکن عملی طور پر اختیارات کا بڑا حصہ پہلے دو درجوں تک محدود ہے جبکہ عوام کے سب سے قریب تیسرا ستون آج بھی کمزور ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ ایک دلچسپ حقیقت سامنے لاتی ہے۔ مقامی حکومتوں کو نسبتاً زیادہ انتظامی اختیارات غیر منتخب ادوار میں ملے۔ جنرل ایوب خان کے بیسک ڈیموکریسیز نظام، جنرل ضیاء الحق کے بلدیاتی ڈھانچے اور خصوصاً جنرل پرویز مشرف کے 2001ء کے اصلاحاتی پروگرام کے تحت ضلعی حکومتوں، تحصیلوں اور یونین کونسلوں کو نمایاں انتظامی اور مالی اختیارات دیے گئے۔ اس تجربے نے ثابت کیا کہ مقامی مسائل کا بہترین حل وہیں ممکن ہے جہاں وہ پیدا ہوتے ہیں۔اس کے برعکس منتخب حکومتیں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں ہمیشہ محتاط دکھائی دیتی ہیں۔ اس کی وجہ صرف سیاست نہیں بلکہ ہمارا انتخابی اور انتظامی ڈھانچہ بھی ہے۔
پاکستان میں عوام اپنے ایم این اے اور ایم پی اے سے قانون سازی کے ساتھ ساتھ گلیاں پختہ کرانے، سڑکیں بنوانے، پانی، سیوریج اور دیگر بلدیاتی مسائل کے حل کی بھی توقع رکھتے ہیں، حالانکہ دنیا کی بیشتر جمہوریتوں میں یہ ذمہ داریاں مقامی حکومتوں کے سپرد ہوتی ہیں۔
یہیں اصل تضاد پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک منتخب میئر، ضلع کونسل یا یونین کونسل کے پاس بجٹ، عملہ اور انتظامی اختیارات موجود ہوں تو شہریوں کو معمولی بلدیاتی مسائل کیلئے قومی یا صوبائی اسمبلی کے ارکان سے رجوع کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ترقیاتی فنڈز اور مقامی منصوبوں پر اختیار کسی بھی منتخب نمائندے کے سیاسی اثر و رسوخ کا اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اختیارات کی حقیقی منتقلی محض انتظامی اصلاحات نہیںبلکہ سیاسی معیشت (Political Economy) کا بھی مسئلہ ہے۔ جب تک قانون ساز اداروں اور مقامی حکومتوں کے کردار واضح طور پر الگ نہیں کیے جاتے، یہ کشمکش برقرار رہے گی۔آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-اے تمام صوبوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات سے لیس منتخب مقامی حکومتیں قائم کرنے کا پابند بناتاہے، مگر عملی صورتحال چاروں صوبوں میں مختلف ہے۔چاروں صوبوں کا یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ بلدیاتی انتخابات کا نہیں بلکہ اختیارات کی حقیقی منتقلی کا ہے سندھ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات ضرور ہوئے، لیکن خصوصاً کراچی میں شہری نظم و نسق آج بھی متعدد اداروں میں تقسیم اختیارات، محدود مالی خودمختاری اور انتظامی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا معاشی مرکز ہونے کے باوجود کراچی کو صفائی، ٹریفک، سیوریج، پانی اور شہری منصوبہ بندی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ لاہور اور اسلام آباد نسبتاً بہتر شہری نظم و نسق کا تاثر دیتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف مقامی حکومتوں کا وجود کافی نہیں بلکہ مؤثر شہری حکمرانی کیلئے واضح اختیارات، وسائل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔
پنجاب میں صورتحال مختلف مگر کم تشویشناک نہیں۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں طویل عرصے تک مقامی حکومتوں کے انتخابات نہ ہونا ایک ایسا آئینی خلا ہے جس کا دفاع مشکل ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے مختلف مشکلات کے باوجود بلدیاتی اداروں کا تسلسل کسی نہ کسی حد تک برقرار رکھا، اگرچہ وہاں بھی مالی خودمختاری اور انتظامی اختیارات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ برطانیہ، جرمنی، جاپان، ترکی اور سکینڈے نیوین ممالک میں بلدیاتی ادارے صرف صفائی یا سڑکوں کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی، بنیادی شہری خدمات اور مقامی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں پالیسی سازی کرتی ہیں جبکہ عوامی خدمات کی فراہمی زیادہ تر مقامی حکومتوں کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ یہی واضح تقسیمِ اختیارات انتظامی کارکردگی اور عوامی اطمینان میں اضافہ کرتی ہے۔
پاکستان میں بھی اگر مقامی حکومتوں کو آئین کی روح کے مطابق حقیقی اختیارات، مالی خودمختاری اور انتظامی آزادی دی جائے تو شہری سہولتوں کے معیار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ شہری منصوبہ بندی بہتر ہوگی، کاروباری سرگرمیوں کیلئے سرکاری امور آسان ہوں گے اور صوبائی حکومتیں اپنی توجہ تعلیم، صحت، امن و امان، پالیسی سازی اور بڑے ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز کر سکیں گی۔مضبوط مقامی حکومتیں احتساب کے عمل کو بھی مؤثر بناتی ہیں۔ محلے کی گلی، پارک، واٹر سپلائی یا سیوریج منصوبے پر خرچ ہونے والے وسائل کی نگرانی خود مقامی آبادی کرتی ہے جبکہ منتخب نمائندہ روزانہ عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔ عوام اور نمائندوں کے درمیان یہی قربت شفافیت، جوابدہی اور وسائل کے بہتر استعمال کو فروغ دیتی ہے۔اس کے ساتھ ایک بنیادی اصول کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا اصل کام قانون سازی، پالیسی سازی اور حکومت کا احتساب ہے، نہ کہ گلیاں پختہ کرانا، نالیاں صاف کرانا یا پانی کی لائنیں بچھوانا۔ جب قانون ساز ادارے بلدیاتی نوعیت کے امور میں الجھ جاتے ہیں تو وہ اپنے آئینی کردار سے دور ہو جاتے ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کو اختیارات نہ ملنے کی صورت میں معمولی شہری مسائل بھی صوبائی دارالحکومتوں تک پہنچ جاتے ہیں، جہاں انکے حل میں غیر ضروری تاخیر اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مضبوط وفاق، بااختیار صوبے اور خودمختار مقامی حکومتیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اختیارات واقعی ضلع، تحصیل، یونین کونسل اور محلے کی سطح تک منتقل نہیں ہوتے۔ یہی آئینِ پاکستان کی روح، بہتر طرزِ حکمرانی اور ایک مضبوط جمہوری ریاست کی حقیقی بنیاد ہے۔