ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) نے خواتین کھلاڑیوں کے لیے جینیاتی جنس ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا۔
نئی پالیسی کے تحت تمام کھلاڑیوں کو ایک بار جینیاتی ٹیسٹ کرانا ہوگا، اس پالیسی کا اطلاق منگل سے ہوگا۔
کھلاڑیوں کا گال، خون یا تھوک کا نمونہ لے کر ایس آر وائی جین کی موجودگی جانچی جائے گی۔ صرف وہی کھلاڑی ڈبلیو ٹی اے ٹور کھیل سکیں گی جن کے ٹیسٹ میں ایس آر وائی جین موجود نہ ہو۔
ڈبلیو ٹی اے کے مطابق ٹیسٹ مثبت آنے والی کھلاڑیوں کا مزید طبی معائنہ کیا جائے گا، ٹیسٹ سے انکار کرنے والی کھلاڑیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ٹیسٹوسٹیرون کی سطح پر مبنی 2024 کی اہلیت پالیسی ختم کر دی گئی۔ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد خواتین کے مقابلوں میں منصفانہ اور مساوی مسابقت کو یقینی بنانا ہے۔