• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج اگر یہ کہا جائے کہ ایران اور امریکا دونوں میں سے کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا، تو فوری یہ سوال سامنے آئے گا ”پھر یہ جنگ ہو کیوں رہی ہے؟“ اس کے جواب میں ہر دو اطراف سے الزامات کی بوچھاڑ سننے کو ملے گی۔ دونوں ہی کہیںگے کہ دوسرے فریق نے بڑی زیادتیاں کی ہیں اوروہ ہمیںسخت نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ ہمارے ایرانی بھائی کہیں گے کہ امریکا دنیا کا بدمعاش ہے، اس نے جس طرح پہلے بہت سے ممالک پر حملے کیے، اسی طرح اب ہم پر حملہ آور ہے۔ اسے کیا حق پہنچتا تھا کہ اٹھائیس فروری کو اچانک حملہ کرتے ہوئے ہماری اعلیٰ ترین سیاسی و عسکری قیادت کو ختم کر دے؟ بالخصوص ہمارے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کا کنبے سمیت مارے جانا، بھلا ہم کیسےبرداشت کتیں؟اب ہم حق بجانب ہیں کہ خون کا بدلہ خون سےلیں اور امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو کو بھی اسی طرح قتل کریں ،اب انتقام ہمارا قومی نعرہ ہے۔

دوسری طرف امریکیوں کا موقف ہے کہ ایران کی قیادت نے پورے مڈل ایسٹ کا امن و سکون پچھلی چار دہائیوں سے تہہ و بالا کر رکھا ہے، انہوں نے اپنی پراکسیاں نہ صرف اسرائیل کے اردگرد بلکہ خلیجی و دیگر عرب ریاستوں میں بھی پھیلا رکھی ہیں۔28 فروری کو جو سخت قدم اٹھایا گیا اس کی جڑیں 7 اکتوبر کی اس دہشت گردی میں پیوست ہیں جب اسرائیل کے اندر گھس کر حماس نے نہتے بارہ سو شہریوں کو قتل کیا اور ڈھائی سوافراد کو، عورتوں بچوں سمیت یرغمالی بنا کر لے گئے۔

اس سب کچھ کے باوجود پاکستان اور قطر کے تعاون سے امریکا و ایران کے درمیان امن کا ایم او یو سائن کیا گیا جس کی شق نمبر پانچ میں یہ طے پایا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جائے گا اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ایران کوئی فیس یا محصول عائد نہیں کرے گا اور نہ گزرگاہوں میں کوئی رکاوٹیں ڈالے گا۔ پھر انہیں کیا حق پہنچتا تھا کہ انہوں نے ریاست عمان کے ساحلی خطے سے گزرتے سعودی و قطری جہازوں پر میزائل داغ دیے کہ ہماری اجازت کے بغیر تم نےوہاں سے گزرنے کی کیوں کوشش کی؟ اس حملے کا آخر کیا جواز تھا؟اس کےبعدبجائے معذرت کے وہ بضد ہیں کہ ہم نے سٹریٹ آف ہرمز کو عام تجارتی جہازوں کے لیے نہیں کھلنے دینا بلکہ اس سے مزید ایک قدم آگے بڑھ کرانہوں نے یمن میں حوثیوں کو یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگ سعودی عرب کا ناطقہ بند کرنے کے لیے باب المندب کو بھی بند کر دو تاکہ یورپ کو سعودی تیل کی سپلائی نہ ہو سکے۔ سٹریٹ آف ہرمز کی بندش سے جو پرابلم ایشیائی ممالک کے لیے بنی ہوئی ہے اب ویسی ہی صورتِ حال کا سامنا یورپی ممالک کو بھی ہوگا۔ اس سے کنگڈم آف سعودی عربیہ کے لیے جو مسائل ومشکلات کھڑی ہو ں گی، وہ واضح ہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر یمنی حوثیوں نے سعودی عرب کو یہ دھمکی دی ہے کہ ہم آپ کی آئل تنصیبات کو اڑا دیں گے۔ یہ ہیں وہ حالات جن میں حکومت پاکستان کو بولنا پڑا ہے۔ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ عقیدت یا دوستی کا دیرینہ تعلق اپنی جگہ، پوری دنیا کو معلوم ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا یہ معاہدہ ہو چکا ہے کہ مملکت سعودیہ پر کوئی بھی حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس پس منظر میں پاکستانی قیادت نے ایران کو یہ واضح پیغام بھیجا ہے کہ ”سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگااور یہ ہماری ریڈ لائن ہے“۔ اسی کی مطابقت میں پاکستان نے اپنے لڑاکا طیاروں کا اسکواڈرن اور ہزاروں فوجی سعودی عرب بھیج دیے ہیں۔ جن کی تعیناتی یمنی سرحد کے قریب کی جا چکی ہے۔ زمینی و فضائی ہی نہیں، بحری ناکہ بندی چھڑوانے کے لیے پاکستانی فورسز امریکی و سعودی فورسز کے ساتھ مل کر حوثی باغیوں پر کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ لہٰذا ایران کو صورت حال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے معاملات کو اس حد تک نہیں بگاڑنا چاہیے جس میں پاکستان اور ایران آمنے سامنے کھڑے ہو جائیں، اُسے یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ سٹریٹ آف ہرمز اور باب المندب کو بند کرتے ہوئے وہ عالمی معیشت کو جس طرح تہہ و بالا کرنے جا رہا ہے، اس سے پوری مشرقی و مغربی دنیا میں اس کے لیے ناپسندیدگی مزید بڑھ جائے گی اور وہ کسی طرح بھی اتنی مخالفتوں کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔ خود ایران کے اندر ایران کی منتخب سیاسی قیادت ان غیرذمہ دارانہ کارروائیوں سے سخت نالاںہے، جس سے وہ اپنے ملک کو نکالنا چاہتی ہے۔ اس سے ایرانی سیاسی و عسکری قیادت میں دراڑ سب کو دکھائی دے رہی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے جنازے میں بلا شبہ ہمدردی کی لہر کے زیر اثر لاکھوں لوگ شریک ہوئے، مگر وہ سبھی” مرگ مرگ“کی اپروچ کے حمایتی ہرگز نہ تھے۔ وہاں ایرانی صدر مسعودپزشکیان کے خلاف جو نعرے لگائے گئے، یہ طرز عمل ہرگز قابل ستائش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس تباہی و بربادی کی قیمت بالآخر مظلوم ایرانی عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔

تازہ ترین