• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیلے کے ڈنٹھل پر ایلومینیم فوائل لپیٹنے سے انکے سیاہ پڑنے کا عمل سست کیا جاسکتا ہے، ماہرین

پھلوں کو تازہ رکھنے کے ماہرین کے مطابق کیلے کے ڈنٹھل کے گرد ایلومینیم فوائل لپیٹنے سے ان کے پکنے کے عمل کو سست کرنے اور پھل کو بہت جلد بھورا ہونے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

عام طور پر کیلے کمرے کے درجہ حرارت پر تقریباً دو سے چھ دن تک تازہ رہتے ہیں، تاہم یہ اس بات پر منحصر ہے کہ انہیں خریدتے وقت وہ کتنے پکے ہوئے تھے۔

مکمل طور پر پک جانے کے بعد کیلے تیزی سے سیاہ پڑ سکتے ہیں، جبکہ چند ہی دنوں میں ان کی ساخت اور ذائقہ بھی خراب ہونا شروع ہو سکتا ہے۔ زیادہ درجہ حرارت پکنے کے عمل کو مزید تیز کر دیتا ہے۔

ایک سادہ گھریلو طریقہ کیلے صرف تھوڑی سی ایلومینیم فوائل درکار ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایلومینیم فوائل کا اتنا ٹکڑا پھاڑیں جو کیلے کے ڈنٹھل والے حصے کو ڈھانپ سکے اور اسے کیلے کے گچھے کے اوپری حصے یعنی ڈنٹھل کے گرد اچھی طرح لپیٹ دیں۔ 

ممکنہ طور پر بہتر نتائج کے لیے کیلے الگ الگ کر کے ہر کیلے کے ڈنٹھل کو انفرادی طور پر بھی فوائل سے لپیٹا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد کیلے کمرے کے درجہ حرارت پر رکھنے کے ساتھ انھیں براہ راست دھوپ سے دور رکھیں۔

اس طریقے کی بنیاد ایتھیلین نامی قدرتی نباتاتی ہارمون کے کردار پر ہے، جو پھلوں کے پکنے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ کیلے اس گیس کی بڑی مقدار اپنے ڈنٹھل کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔ 

ڈنٹھل کو ڈھانپنے سے ممکنہ طور پر ایتھیلین کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکتا ہے، جس سے پکنے کا عمل سست ہو جاتا ہے، کیلے دیر سے اپنی رنگت تبدیل کرتے ہیں اور زیادہ عرصے تک تازہ رہ سکتے ہیں۔

ایلومینیم فوائل کے بجائے پلاسٹک کلنگ فلم بھی استعمال کی جا سکتی ہے اور اس سے بھی اسی طرح کا رزلٹ ملنے کا امکان ہے۔ دونوں چیزیں سستی اور عام طور پر آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیلے ایسے پھلوں سے الگ رکھے جائیں جو زیادہ مقدار میں ایتھیلین خارج کرتے ہیں، مثلاً سیب اور ایووکاڈو، کیونکہ یہ گیس کیلے کے پکنے کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔

ایک اور طریقہ یہ ہے کہ کیلے بنانا ہک پر لٹکا دیے جائیں۔ کیلے لٹکانے سے انہیں دوسرے پھلوں اور سبزیوں سے دور رکھنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ کاؤنٹر یا میز پر رکھنے کی وجہ سے ہونے والی رگڑ اور دباؤ سے پیدا ہونے والے نشانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

دلچسپ و عجیب سے مزید