بھارت میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی اور لیٹ نائٹ (رات گئے) پارٹیوں پر اعتراضات سے تنگ آکر بہو نے اپنے سسر کو قتل کروادیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق قتل کا یہ واقعہ کانپور میں پیش آیا، جہاں 63 سالہ فارماسیوٹیکل تاجر ونیت مینوچا اپنے فلیٹ کے اندر مردہ پائے گئے۔
جب تفتیش کاروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا تو شک کی سوئی خاندان کے سابق ملازم وشال اور اس کے ساتھی راج کشور کی طرف گھوم گئی، جنہیں گرفتار کر لیا گیا۔
اس کیس نے اس وقت بڑا موڑ لیا جب وشال نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا کہ یہ قتل مینوچا کی 36 سالہ بہو شالو کے کہنے پر کیا گیا تھا، جس نے اسے اس کام کے لیے رقم دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس الزام کے بعد بہو کو بھی تحویل میں لے لیا گیا۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس نے شروع میں انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں پوچھ گچھ کے دوران اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔
تفتیش کاروں کے مطابق شالو نے بتایا کہ اس کا سسر سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے گھر کے اندر کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتا تھا اور اس کے لیٹ نائٹ کی پارٹیوں میں شرکت کرنے یا دیر سے گھر لوٹنے پر اعتراض کرتا تھا۔
اس نے مبینہ طور پر بیان دیا کہ ایک امیر خاندان کا حصہ ہونے کے باوجود، گھر کے اخراجات پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں تھا اور اسے اپنے اور اپنے شوہر کے معمولی اخراجات کے لیے بھی اپنے سسر سے پیسے مانگنے پڑتے تھے۔
تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ شالو نے اپنے سسر کو قتل کرنے کے لیے 6 لاکھ روپے کی پیشکش کی۔ شالو نے مبینہ طور پر اپارٹمنٹ کی ڈپلیکیٹ چابی کا انتظام کیا اور اسے وشال کے حوالے کر دیا۔ 4 ستمبر کو اس نے مبینہ طور پر اسے کچھ اشیاء دینے کے بہانے بلایا اور منصوبے کو حتمی شکل دی۔
تفتیش کار مقتول کے بیٹے سبرت کے کال ریکارڈ کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا اسے اس مبینہ سازش کا کوئی علم یا قتل میں اسکا کوئی کردار تھا۔