• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیلس: ٹیکساس کا برتھ ٹورازم کیخلاف سخت ترین کارروائیوں میں سے ایک کا آغاز

ڈیلس: ٹیکساس نے برتھ ٹورازم کے خلاف اپنی اب تک کی سخت ترین کارروائیوں میں سے ایک کا آغاز کر دیا ہے۔ گورنر گریگ ایبٹ نے ایگزیکٹو آرڈر GA-57 پر دستخط کرتے ہوئے ریاستی اداروں کو ان اسپتالوں، طبی مراکز اور افراد کی تحقیقات کا اختیار دے دیا، جن پر ایسے غیر ملکی شہریوں کی معاونت کا شبہ ہے جو اپنے بچوں کو امریکی شہریت دلانے کے مقصد سے ٹیکساس آ کر زچگی کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

اس حکم نامے کے اثرات نہ صرف اسپتالوں، ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر فراہم کرنے والوں تک محدود رہیں گے بلکہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے وزٹ ویزا پر امریکہ آنے والے افراد بھی اس سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

حکم نامے کا اعلان کرتے ہوئے گورنر ایبٹ نے کہا کہ ’امریکی شہریت فروخت کے لیے نہیں ہے‘ اور ٹیکساس اب ایسے منصوبوں یا سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گا جن کے ذریعے، ریاست کے بقول، امریکی امیگریشن نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایگزیکٹو آرڈر کے تحت 6 ریاستی اداروں، جن میں ٹیکساس ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ ہیلتھ سروسز، ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کمیشن، ٹیکساس میڈیکل بورڈ اور ٹیکساس بورڈ آف نرسنگ شامل ہیں، کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریاست کے ہیلتھ کیئر شعبے میں برتھ ٹورازم سے متعلق سرگرمیوں کی تحقیقات کریں۔ ان اداروں کو وفاقی حکام کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنے اور ضرورت محسوس ہونے پر لائسنس کی معطلی یا منسوخی، ریاستی معاہدوں سے محرومی اور دیگر انتظامی کارروائیوں کی سفارش کرنے کا بھی اختیار حاصل ہوگا۔

یہ اقدام گورنر ایبٹ کی اس ہدایت کے چند ہفتے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کمیشن کو ان اسپتالوں کی تحقیقات کا حکم دیا تھا جو غیر ملکی خواتین کے لیے زچگی کے خصوصی پیکجز کی تشہیر کر رہے تھے۔ 

بعد ازاں ریاستی حکام نے دو ٹیکساس اسپتالوں کا معاملہ اٹارنی جنرل کے سپرد کر دیا، جہاں مبینہ طور پر میکسیکو میں ایسے اشتہارات دیے جا رہے تھے جن میں امریکہ۔میکسیکو سرحد کے قریب حاملہ غیر ملکی خواتین کے لیے زچگی کی خدمات کی پیشکش کی گئی تھی۔ ان اشتہارات میں نارمل ڈیلیوری کے چارجز 3,950 ڈالر جبکہ سیزیرین آپریشن کے چارجز 5,525 ڈالر درج تھے۔

یہ حکم نامہ امریکی سپریم کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں عدالت نے امریکی آئین کی 14وہں ترمیم کے تحت برتھ رائٹ سٹیزن شپ کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیدائش کی بنیاد پر شہریت محدود کرنے کی کوشش کو مؤثر ہونے سے روک دیا تھا۔

آسٹن سے تعلق رکھنے والی امیگریشن وکیل کیٹ لنکن گولڈفنچ کا کہنا ہے کہ ٹیکساس کا یہ قدم بظاہر ایسے عمل کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش ہے جو وفاقی آئین کے تحت اب بھی قانونی اور محفوظ حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ریاست سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متبادل انتظامی راستے اختیار کر رہی ہے۔

اس حکم نامے نے خصوصاً جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں بعض خاندان طویل عرصے سے امریکہ میں بچے کی پیدائش کو مستقبل میں امریکی شہریت کے حصول کا ایک ذریعہ تصور کرتے رہے ہیں۔

ڈیلس اور ہیوسٹن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے متعدد افراد نے روزنامہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایسے خاندانوں کو جانتے ہیں جنہوں نے وزٹ ویزا پر امریکہ آ کر بچے کی پیدائش کا منصوبہ بنایا تھا، مگر اب گورنر ایبٹ کے نئے اقدام کے بعد وہ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔

مائیگریشن پالیسی انسٹیٹیوٹ کے مطابق امریکہ میں ہر سال ہونے والی ساڑھے تین ملین سے زیادہ پیدائش میں سے 30 ہزار سے بھی کم ایسے بچے ہوتے ہیں جو سیاحتی ویزا پر آنے والی خواتین کے ہاں پیدا ہوتے ہیں، جو مجموعی تعداد کا ایک فیصد بھی نہیں بنتے۔ اس کے باوجود قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے اقدامات کے بعد حاملہ خواتین کی وزٹ ویزا درخواستوں کی جانچ مزید سخت ہو سکتی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ پہلے ہی قونصلر افسران کو یہ اختیار دے چکا ہے کہ اگر انہیں یہ شبہ ہو کہ درخواست گزار کا بنیادی مقصد امریکہ میں بچے کی پیدائش ہے تو وہ ویزا مسترد کر سکتے ہیں۔

ڈیلس میں امیگریشن وکلاء نے روزنامہ جنگ کو بتایا کہ حاملہ خواتین کو وزٹ ویزا کی درخواست دینے سے پہلے قانونی مشورہ ضرور لینا چاہیے اور ویزا انٹرویو کے دوران کسی بھی قسم کی غلط یا نامکمل معلومات فراہم کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں نہ صرف ویزا مسترد ہو سکتا ہے بلکہ مستقبل میں بھی امریکی ویزا حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد جنہوں نے ماضی میں وزٹ ویزا پر امریکہ آ کر بچوں کو جنم دیا ہے، انہیں آئندہ ویزا تجدید کے دوران بھی اضافی سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم کیٹ لنکن گولڈ فنچ کا کہنا ہے کہ منظم انداز میں برتھ ٹورازم کے واقعات حقیقت میں بہت کم ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق حمل کے آخری مراحل میں موجود خواتین کو اکثر ایئرلائنز جہاز میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دیتیں یا امریکی بارڈر حکام انہیں داخلے سے روک دیتے ہیں، اس لیے ایسی صورتیں عمومی تصور سے کہیں کم ہیں۔

دوسری جانب اس حکم نامے نے ٹیکساس کے ہیلتھ کیئر شعبے کے لیے بھی نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اسپتالوں، ماہرین امراضِ نسواں اور زچگی کے مراکز کو اب ایک ایسے ماحول میں کام کرنا ہوگا جہاں قانونی تقاضوں اور مریضوں کو طبی سہولت فراہم کرنے کی اخلاقی ذمہ داری کے درمیان توازن برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ 

ہیوسٹن کے امیگریشن وکیل گورڈن کوان کے مطابق طبی عملے پر یہ دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ علاج شروع کرنے سے پہلے مریض کی امیگریشن حیثیت کے بارے میں معلومات حاصل کریں، تاہم انہوں نے زور دیا کہ ہر حاملہ خاتون، اس کی قانونی حیثیت سے قطع نظر، ضروری طبی سہولت حاصل کرنے کی حق دار ہے۔

ڈیلس، فورٹ ورتھ اور ہیوسٹن میں خدمات انجام دینے والے متعدد پاکستانی اور بھارتی ماہرین امراضِ نسواں نے روزنامہ جنگ کو بتایا کہ وہ اس نئی صورت حال پر تشویش کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق اگر وہ علاج سے انکار کرتے ہیں تو طبی غفلت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ اگر وہ ایسے مریضوں کا علاج کرتے ہیں جن پر بعد میں برتھ ٹورازم کا شبہ ظاہر کیا جائے تو انہیں بھی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں اور کلینکس کو فوری طور پر اپنی تشہیری مہمات، داخلی پالیسیوں اور کمپلائنس نظام کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے، عملے کو نئے قواعد سے آگاہ کرنا چاہیے اور مریضوں کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ تحقیق کی صورت میں وہ اپنی قانونی ذمہ داریوں کی تکمیل ثابت کر سکیں۔ بعض ہسپتال، جن پر غیر ملکی خواتین کے لیے زچگی کی خدمات کی تشہیر کا الزام لگا تھا، پہلے ہی ایسے اشتہارات واپس لے چکے ہیں اور واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی حمایت نہیں کرتے۔

دوسری جانب شہری آزادی اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ برتھ ٹورازم امریکہ میں مجموعی پیدائشوں کا انتہائی معمولی حصہ ہے، اس کے باوجود اس مسئلے پر غیر معمولی توجہ دی جا رہی ہے۔ 

ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے تارکین وطن ہسپتال جانے سے گریز کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں صحتِ عامہ کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ وفاقی قانون کے تحت ہسپتال اب بھی ہر مریض کو، اس کی شہریت یا امیگریشن حیثیت سے قطع نظر، ہنگامی طبی سہولت فراہم کرنے کے پابند ہیں، جبکہ صرف حاملہ ہونا کسی شخص کو امریکہ بطور سیاح سفر کرنے سے نہیں روکتا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید